بلاگ صحت معلومات

بار بار پیشاب آنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہے؟

جسم سے پیشاب کا اخراج بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گردے اضافی پانی اور کچرے کو خون سے فلٹر کرتا ہے اور اسے مثانے میں منتقل کردیتا ہے۔اوسطاً ایک فرد روزانہ چار سے چھ بار پیشاب کرتا ہے اور چار سے پانچ گھنٹے کے اندرباتھ روم کا ایک چکر لگ ہی جاتا ہے۔تاہم اگر ہر کچھ دیر بعد یعنی ایک گھنٹے سے دو گھنٹے کے دوران ہی پیشاب آنے لگے تو یہ غیر معمولی بات ہوتی ہے اوراگر ایسا ہورہا ہے تو اس کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں۔

زیادہ پانی پینا: اگر آپ زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیں تو آپ کے واش روم کے چکر بھی زیادہ لگتے ہیں، اور اگر کچھ زیادہ ہی چکر لگ رہے ہیں، تو دیکھیں آپ کتنا پانی پی رہے ہیں، عام طور پر زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں جسم میں نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے جس کا عندیہ پیشاب کی بالکل شفاف رنگت یعنی سفید رنگت سے ہوتی ہے، جو بتدریج صحت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے، تو اس کا ایک آسان اور سادہ سا حل بہت زیادہ کی جگہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔

چائے ، کافی یا سافٹ ڈرنکس کابہت زیادہ استعمال: مشروبات جیسے کافی، چائے یا کولڈ ڈرنکس وغیرہ زیادہ مقدار میں پینا بھی ہر وقت پیشاب آنے کی وجہ بن سکتا ہے، ان مشروبات کے نتیجے میں جسم میں نمک اور پانی کی مقدار بڑھتی ہے اور گردوں ان کی صفائی کرتا رہتا ہے جس کے باعث زیادہ پیشاب آتا ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش کا ہوجانا: اس مرض میں مثانہ اور گردے متاثر ہوسکتے ہیں اور اس انفیکشن کے باعث مثانے ورم کے شکار بھی ہوجاتے ہیں جس کے باعث ایسا لگتا ہے کہ 24 گھنٹے پیشاب آرہا ہے حالانکہ جسمانی نظام میں اتنا سیال ہوتا نہیں، ایسے حالات میں ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔

ذیابیطس کی بیماری: جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ہاتھ روم کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔

بہت کم پانی پینا: جی ہاں واقعی بہت زیادہ کی جگہ اگر بہت کم پانی پیا جائے تو بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے مثانہ متاثر ہوتا ہے اور وہ دماغ کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ پیشاب آرہا ہے جبکہ ایسا ہوتا نہیں، اگر آپ پانی کم پیتے ہیں مگر ہر وقت پیشاب آنے کا احساس ہوتا ہے تو پانی پینے کی مقدار بڑھادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گردوں میں پتھری کا اشارہ: گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، مگر پیشاب زیادہ آنے لگتا ہے جس کے ساتھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مخصوص ادویات کا استعمال: مختلف ادویات جیسے ہائی بلڈ پریشر کے لیے لی جانے والی ادویات کے نتیجے مین یہ مسئلہ لاحق ہوسکتا ہے یا سکون آور ادویات کا بھی یہ سائیڈ ایفیکٹ دیکھنے میں آتا ہے جس کے استعمال کے باعث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی سنگین مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے: ہر وقت پیشاب آنے پر ڈاکٹر سے رجوع ضرور کرنا چاہیے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سنگین طبی مسئلہ بھی چھپا ہوسکتا ہے۔