بلاگ معلومات

"با کردار”

ہمارے معاشرے میں کردار کشی کرنے میں مہارت رکھنے والے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے نا پید ہوتی اخلاقی اقدار کی وجہ سے محبتوں کے اتار چڑھاؤ میں خوشی کی تلاش اور شکر گزاری کا عنصر بھی ختم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سی معاشرتی اور روحانی بیماریاں وائرس کی صورت ذہنوں میں سرائیت کرتی جا رہی ہیں خالق نے انسان کو بہت سی خوبیاں ودیعت کی ہیں جن سے انسان زندگی میں سکون حاصل کر سکتا ہے ہم اپنی خوبیوں اور خامیوں کی وجہ سے زندگی میں خوشی اور سکون درد یا غم کی شدت کو منظم کر سکتے ہیں بدلتی خواہشات اور ترجیحات انسان کو کسی بھی کام کی طرف راغب کرتی ہیں جن سے انسان میں کام کی لگن پیدا ہوتی ہے

خواہشات اور ترجیحات کا لگاؤ کسی بھی انسان میں معاشرے میں جاری دوڑ سے آتا ہے انسان خود کو دوسروں سے ممتاز یا دوسروں جیسا بنانے میں تمام ان افعال کو دیکھ کر اپنی ذات پر عیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اس کو متا ثر کرتے ہیں پھر ہم دوسروں کی ذات سے اثر لے کر ویسے ہو جانے کی یا ان سے ممتاز اور نمایاں ہو جا نے کی کوشش کرتے ہیں جو افراد ممتاز اور نمایاں بننے میں گامزن رہتے ہیں وہ سوچ کے مثبت استعمال سے مثالی افراد بن جاتے ہیں

ملک میں حالیہ نفسیاتی جنگ جس کا ہدف ہماری نوجوان نسل اور بالخصوص ہمارے بچے ہیں جن کو ہماری تاریخ اور اخلاقی قدروں سے دوری کا درس اور عملی طور پر نئے طورطریقے سیکھائے جا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے اور نوجوان نسل ہی ہمارا سرمایہ ہیں ان میں کردار سازی کی تربیت وقت کی ترجیحات میں شامل ہیں

انسانی کردار میں سب سے اہم کسی بھی انسان کے معاملات ہیں جو کہ دینی،مالی، معاشرتی، جنسی اور اخلاقی ہو تے ہیں جن سے کردار سازی ہوتی ہے اگر ان معاملات کو احسن طریقے سے سمجھ کر بہتر کر لیں تو کردار میں پختگی آتی ہے کردار کی پختگی سے شخصیت امر ہو جاتی ہے اس دنیا فانی میں کچھ یاد رہتا ہے تو وہ کردار ہی ہوتا ہے کردار کی پختگی کے لیے آج ہر شخص نے یقین کو شک پر سچ کو جھوٹ پر شکر کو حسد پر معیار کو اقرباء پروری پر صلہ رحمی کو قطع رحمی پر خوش خیالی کو بد گمانی پر غالب کرنے کے لئے ذاتی اقدامات اٹھانے ہیں

انسانیت کی پکار کو سمجھ کر جس میں نہ تو زینب جیسے پھول مسلے جا ئیں گے نہ کھلے عام کشت خوں ہو گا نہ ہی کوئی کسی کی ملکیت پر قابض ہو گا نہ ہی ذرائع ابلاغ میں غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی گفتگو نشر ہو گی اور نہ ہی انصاف کو تلاش کرنا پڑے گا اخلاقی قدروں کو برسر پیکار لاتے ہوئے انسانیت کے وقار کے لئے کام کرنا اشد ضروری ہے جس سے معاشرے میں مثالی کردار جنم لیں گے

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی۔۔۔۔اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔۔۔وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا۔۔۔شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری

تحریر:احسن فریدالدین