بلاگ کالمز معلومات

آزمائش شرط ہے

کسی بھی بیماری کےعلاج کے لئے اُس کی مکمل اور واضح تشخیص، قابل معالج، بیماری سے متعلقہ پختہ طریقہ کار اور پُر اثر ادویات کا میسر ہونا بنیادی ضروریات ہیں، مگر کوئی بھی علاج اُس بیماری کے اپنے وجود کا سب سے زیادہ محتاج ہے۔ مثال کے طور پر کینسر کا علاج تب ہی ممکن ہے جب کسی انسان کے جسم میں کینسر کے جراثیم پائے جائیں گے، لیکن اگر اس بیماری کے جراثیم جسم میں موجود نہ ہوں تو کوئی دوائی دینا تو دور کی بات اُس بیماری کے علاج کا تصور بھی بے وقوفی ہے۔چنانچہ کسی بھی بیماری کی ویکسین دراصل کوئی دوائی نہیں ہوتی، بلکہ اُسی بیماری کے کمزور، لاغر، سست اور کم اثر جراثیم ہوتے ہیں جو انسانی جسم میں داخلے کے بعد اُس کے قدرتی مدافعتی نظام کے ہاتھوں باآسانی شکست کھاتے ہیں اور مذکورہ نظام  کو بذریعہ مشق اِس قدر مضبوط اور طاقتور بنا دیتے ہیں کہ بعد میں وہی بیماری کسی طور جسم میں دوبارہ داخل ہو تو انسانی دفاعی نظام کے محافظ اُن جراثیم کو نہ صرف پھلنے پھولنے سے روکتے ہیں

بلکہ اُن کا قلع قمع کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں اور اِس طرح وہ جسم ہمیشہ کے لئے اس بیماری سے محفوظ ہوجاتا ہے۔جب کسی بیماری کی ویکسین کسی بھی وجہ سے تیار نہ کی جاسکتی ہو تو اُس بیماری کے لیے دوائی ڈھونڈنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اِس عمل کو ’’دوا کا دائرہِ ایجاد و تیاری‘‘ (Drug Discovery & Development Cycle) کہا جاتا ہے۔ اِس عمل کو چار مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ہدفِ دریافت (Target Discovery)اِس مرحلے میں انسانی جسم کے اندر موجود مختلف پروٹین کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور اُن  مخصوص پروٹین کا تعین کیا جاتا ہے جو کہ متعلقہ بیماری میں اپنا کردار ادا کررہی ہوتی ہیں یا اُن جرثوموں (Micro-Organisms) کی پروٹین کی بعد از تلاش نشاندہی ہوتی ہے

جو اس بیماری کا سبب بن رہی ہوتی ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ بیماری اور اُس کی متعلقہ پروٹین کا تعلق واضح کیا جاتا ہے۔دوا کی دریافت ( Drug Discovery)دوسرے مرحلے میں ایک کیمیائی مرکب کی تلاش کی جاتی ہے جو مخصوص بیماری سے متعلقہ پروٹین پر اثرانداز ہو کر اُس بیماری کے پھیلاؤ کو روکتا ہے، کم کرتا ہے اور بیماری کو ختم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اِس عمل میں مختلف مرکبات کی کمپیوٹر کی مدد سے جانچ کی جاتی ہے تاکہ ایک ایسا مرکب مل جائے جو متعلقہ بیماری کی روک تھام میں مفید ثابت ہوسکے۔ اِس عمل کو ’’ضرب (Hit)‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اوسطاً 10 ہزار ضربوں کے بعد ایک ایسا مرکب ہاتھ لگتا ہے جو بیماری کے خلاف مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یعنی یہ عمل اساس میں کسی حد تک سعی و خطا کا طریقہ کار ہے۔تحفظ اور دوا کا تحول (Safety & Drug Metabolism)اِس تیسرے مرحلے میں اِس بات کا مطالعہ و مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ دوا کے استعمال سے جسم میں کیا کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں

اور یہ کھوج لگائی جاتی ہے کہ دریافت کردہ مرکب کا استعمال جسم کے لئے محفوظ بھی ہے کہ نہیں۔ اِس بات کی تصدیق کے لئے جانوروں پر تجربات کا سہارا لیا جاتا ہے اور مختلف نوعیت و مدت کے تجربات عمل میں لائے جاتے ہیں۔ جانوروں پر تحقیق کی سند اور نتائج اِس مرکب کی دوا کے طور پر منظوری کے لئے ایک بنیادی ضرورت ہے۔مطبی آزمائش (Clinical Trials)یوں تو دوائی کی دریافت کے تمام مراحل ہی اہم ہیں، مگر یہ مرحلہ براہِ راست انسانی شمولیت کے باعث بہت حساس اور زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اِس مرحلے کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پہلے حصہ میں مندرجہ بالا مراحل میں کامیاب ہونے والے مؤثر و محفوظ مرکب کو صحتمند انسان کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ اِس مرحلے کا بنیادی مقصد اِس امر کی تصدیق کرنا ہے

کہ متعلقہ مرکب کا استعمال انسانی صحت کے لئے نقصان دہ نہیں اور یہ ایک محفوظ دوا کے طور پر قابلِ استعمال ہوسکتا ہے۔ یہ مرحلہ دوائی کے امیدوار مرکب کی اِس اہلیت کی تفتیش کے لئے ضروری ہے کہ دوا کے استعمال سے صحتمند انسانی خلیوں پر کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔پہلے حصہ میں قابلِ قبول نتائج کے بعد اُسی مرکب کو اب دوسرے حصے میں متعلقہ بیماری میں مبتلا مریضوں کے اجسام میں داخل کیا جاتا ہے۔ اِس طریقہ کار سے دوا کی افادیت جانچی جاتی ہے اور اِس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ دوا بیماری کے خلاف کتنی کارگر ہے۔ اِس کے علاوہ دوا کے ضمنی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مزید براں مناسب و بہترین مقدار کا تخمینہ لگایا جاتا ہے تاکہ دوا کی موزوں مقدار کارکردگی کی مناسبت سے تجویز کی جاسکے۔ اِس مرحلے میں تقریباً ایک سو سے دو سو مریضوں پر آزمائش کی جاتی ہے۔اِس کے بعد تیسرے اور حتمی حصے میں تقریباً ایک ہزار سے تین ہزار متعلقہ بیماری سے متاثرہ مریضوں پر دریافت کردہ مرکب کی آزمائش کی جاتی ہے۔

اِس مرحلے میں دوا کی کارکردگی، افادیت، اُس کے ذیلی و ضمنی اثرات، محفوظ استعمال اور پہلے سے موجود مروجہ دواؤں سے موازنہ کے حوالے سے بہت وسیع، تفصیلی اور انتہائی اہم ترین تحقیق کی جاتی ہے۔ اِس تحقیق سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ دوا کے لئے تجویز کردہ مرکب انسانی صحت کیلئے محفوظ ہے اور بیماری کے خلاف نہ صرف کارگر بلکہ مارکیٹ میں موجود دوسری ادویات سے بہتر یا سستا ہے۔دوا کا اندراج اور نگرانی ( Drug Registration & Monitoring)آخری مرحلے میں اُمیدوار مرکب کو دوا کے طور پر اندراج کے لئے گورنمنٹ کے متعلقہ اداروں کو پیش کیا جاتا ہے اور اُس سے منسلک اوپر بیان کردہ مراحل میں حاصل کئے گئے ضروری اعداد و شمار جمع کروائے جاتے ہیں، جن کی مدد سے دوا کا محفوظ اور کارگر ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔ اِس کے ساتھ دوا کے ذیلی و ضمنی اثرات کی رپورٹ جمع کروادی جاتی ہے۔اب اگر متعلقہ حکام اِس مرکب کو دوا کے طور پر رجسٹریشن دے دیں تو دوائی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے مہیا کردی جاتی ہے۔

یوں ایک طویل اور پیچیدہ تحقیق کے عمل سے گزرنے کے بعد ایک نئی اور معیاری دوائی مریضوں کے لیے دستیاب ہوتی ہے، لیکن دوا کے بارے میں مسلسل نگرانی کا عمل جاری رہتا ہے تاکہ اُس سے متعلق مزید اعداد و شمار اکٹھے کئے جاسکیں۔ اگر کسی بھی موقع پر دوا کے محفوظ ہونے پر شبہ ہو تو دوا کی ترسیل فوراً بند کردی جاتی ہے جب تک کہ اُس شک کو دور نہ کیا جاسکے۔مندرجہ بالہ بیان کردہ مراحل کو اوسطاً 14 سال لگ جاتے ہیں اور کسی بھی مرحلے میں اگر حسبِ منشاء نتائج نہ نکلیں تو تمام عمل دوبارہ سے شروع کیا جاتا ہے۔ خیر یہ سب تو گوروں کا گورکھ دھندہ ہے، ہم تو حکیم، کمپاؤڈر، ماسٹر، ماہر جنات و جنسیات اور بنگالی عامل باوا سے لال شربت اور تعویذ کی بدولت ہمسایہ میاں بیوی میں ناچاقی کروا کر شرطیہ صحت یاب ہوجاویں گے۔پڑوسی کے تعویذ گنڈوں سے کالا یرقان ہوا ہے ہمیں، آپ بھی ہمارے ساتھ اقبال صاحب کے پاس چلیں، وہ آپ کا بھی علاج کردیں گیں، کیونکہ دوا کی دریافت کے لئے ’’آزمائش شرط ہے‘‘ بی بی جنتے اور الله رکھا جواب دیتے ہوئے آگے بڑھ دیے۔