بلاگ

عظیم فوج کی عظیم داستان

پاکستان اور انڈیا کے درمیان اتنے دنوں سے چلنے والی کشیدگی میں پاکستان آرمی نے قدم قدم پے وہ کامیابیاں سمیٹی ہیں کہ نہ صرف انڈین آرمی بلکہ دنیا کی ساری افواج پاکستانی فوج کی جدید ترین ٹکنالوجی اور خفیہ ایجنسیوں کی شاطرانہ مہارت کی معترف ہو گئی ہیں۔ تو چلیں شروع کرتے ہیں کہ جب انڈیا نے پاکستانی فضائی حدود کو کراس کرنے کی ناپاک جسارت کی, ڈی جی آی ایس پی آر کی بات پے زرا غور کریں۔ انڈین ایئر فورس نے تین جگہوں سے فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، اب زرا غور کریں کہ کوشش کی یعنی ابھی انڈین آرمی کی جیٹ انڈین حدود میں ہی تھے تو پاکستانی رڈارز نے انہیں ڈیٹیکٹ کر لیا اور دو جگہوں سے انہیں اپنی حدود میں داخل ہونے ہی نہیں دیا جبکہ ایک جگہ جہاں سے دراندازی کی انڈین جیٹس نے وہ بھی پاکستان ایئر فورس کی شاطرانہ چال کا ایک حصہ تھی۔ یعنی جیسے ہی انڈین جیٹ پاکستانی حدود میں داخل ہونگے تو مار گرا دیئے جایئنگے۔ لیکن ڈرپوک دشمن پر اس قدر خوف طاری ہو گیا کہ حواس باختہ ہو کے اس نے اپنا پے لوڈ گرا کے واپس بھاگ نکلنے میں ہی عافیت جانی۔

لیکن اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ طیارے مار گرائے کیوں نہیں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈرپوک دشمن کے تمام طیارے ہٹ پے تھے لیکن چونکہ وہ پاکستانی حدود میں بمشکل چند کلو میٹر ہی اندر آئے تھے اگرچہ پاکستانی شکاری جیٹ چاہتے تھے کہ وہ مزید اندر آئیں تاکہ ہٹ ہونے کے بعد تمام طیاروں کا ملبہ پاکستان میں گرے اور اسی میں پاکستان کی کامیابی بھی تھی لیکن اب چونکہ وہ صرف چند کلو میٹر کے بعد ہی واپس بھاگے تو پاکستانی ایئر فورس کی پروجیکشن سے یہ نتیجہ نکلا کہ اب اگر ٹارگٹ ہٹ ہو بھی گئے تو انکا ملبہ انڈین حدود میں گرے گا اور تمام تر الزام پاکستان پے آجاتا کہ پاکستان نے جنگ میں پہل کی ہے۔

اس تمام انگیجمنٹ میں انڈین طیارے پاکستانی جیٹ کے میزائل ٹارگٹ پے لاک ہو گئے تھے لیکن ٹارگٹ فائیر کرنے کا آرڈر نہیں تھا ابھی، اور یہ ایک سٹینڈر پروسیجر ہے کہ جب ٹارگٹ لاک ہوتا ہے تو ہٹ ہونے سے چند سیکنڈ پہلے دشمن کو پتہ چل جاتا ہے کہ گیم ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ اسی وجہ سے انڈین طیاروں نے اپنا پے لوڈ پھینک دیا تو یہ تھی پہلی کامیابی جو پاکستانی جانبازوں نے اپنے نام کی۔ یعنی دشمن کو باور کروا دیا کہ ہم نہ صرف مستعد و چوکس ہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہیں اور انڈین آرمی کو اس ناکام آپریشن پر شدید دھچکہ لگا۔ اب آئیں دوسرے دن کی کاروائی پر جب پاکستانی جانبازوں نے دشمن کو دن میں تارے دکھانے کا فیصلہ کیا۔

اب پھر زرا ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات پر غور کریں۔ ہم نے 6 ہائ ویلیو ٹارگٹ کو لاک کیا لیکن دشمن کو کسی بھی قسم کا جانی نقصان پہنچائے بغیر باور کروایا کہ آگ سے نہ کھیلو۔ لیکن بات شروع کرتے ہیں کہ اتنی زیادہ ہائی الرٹنس کے باوجود جبکہ انڈین آرمی کو پتہ بھی تھا کہ پاکستان ہمیں ضرور سرپرائز کرے گا کیونکہ ڈی جی آئ ایس پی آر نے وعدہ کیا تھا کہ ہم ضرور بدلہ لینگے۔ تو سنیں کہ پہلا سرپرائز یہ تھا کہ اتنی زیادہ ہائی الرٹنس کے باوجود دن کی واضح ویزیبلٹی یعنی روشنی میں پاکستانی طیارے انڈیا میں داخل کیسے ہو گئے۔ تو جناب یہی تو سرپرائز تھا کہ پاکستان نے انڈیا کا تمام رڈار سسٹم جام کر دیا اور بغیر کسی ریٹیلیئشن کے 6 ہائی ویلیو ٹارگٹ تک جا پہنچے دشمن کو تو اس وقت خبر ہوئی جب 6 کے 6 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو ہٹ کیلیئے لاک کیا تب دشمن کے ہوش اڑے کہ موت تو سر پے منڈلا رہی ہے۔ یعنی جیسا کہ اوپر بتایا ہے کہ یہ ایک سٹینڈر پروسیجر ہے کہ جب ٹارگٹ ہٹ ہونے کیلئے میزائل پے لاک ہوتا ہے تو دشمن کو اس وقت پتہ چل جاتا ہے کہ اب وقت ہاتھ سے نکل گیا اور اگلے ہی لمحے ٹارگٹ ہٹ ہو جاتا ہے۔

تو یوں انڈین آرمی کو اس آخری انٹیمیشن جو کہ ٹارگٹ لاک ہونے پے دیتا ہے اس سے پتہ چلا کہ ہمارا تو سارا رڈار و سٹیلتھ ٹیکنالوجی سسٹم ہی جیم کیا ہوا پاکستان نے، اس وقت انڈین ائیر فورس نے اپنے طیاروں کو ریٹیلیشن کا آرڈر دیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، لیکن چونکہ پاکستان آرمی کا فیصلہ تھا کہ ان 6 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو ہٹ نہیں کرنا بلکہ دشمن پے صرف یہ واضح کرنا تھا کہ اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیئے تو نیست و نابود کر دیئے جاو گے لہزا میزائل ہائی ویلیو ٹارگٹس کے نزدیک کھلی جگہ پر داغ دیئے گئے۔ تو جناب یہ تھا پہلا سرپرائز جس نے انڈین آرمی کو باولا کر دیا لیکن اس سے بھی بڑا سرپرائز پتہ ہے کیا تھا؟

تو سنیں ان 6 ہائی ویلیو ٹاگٹس میں سے ایک ٹارگٹ اس وقت انڈین چیف آف آرمی سٹاف رون بپت جس دفتر میں بیٹھا ہوا تھا اسے بھی ٹارگٹ لاک کر دیا گیا تھا، لیکن ہٹ نہیں کیا گیا، اب جبکہ طیاروں کی واپسی کا مرحلہ تھا تو سٹریٹجی یہ تھی کہ ایک طیارہ دوسرے طیاروں کی بنسبت پیچھے رہے گا واپسی کے وقت جو انڈین طیاروں کو آبزرو کرے گا کہ دشمن واقعی پیچھا کر کے پاکستانی سرحد کی طرف بڑھ رہا ہے اور پاکستان ہر صورت انڈین طیاروں کو اپنی حدود میں گرانا چاہتا تھا۔ اب چونکہ انڈیا کا سارا رڈار سسٹم پاکستان نے جام کیا ہو تھا لھزا جو طیارے پاکستانی طیاروں کا پیچھا کر رہے تھے وہ طیارے کے اندر لگے اپنے اندرونی رڈار سسٹم سے اندازے کے طور پر ہی مدد لے رہے تھے۔

باقی طیارے تو پاکستانی حدود کے نزدیک آکر واپس مڑنے لگے لیکن ابھینند مس کیلکولیشن کی وجہ سے پاکستانی حد میں داخل ہو گیا اور آگے تھنڈر پہلے سے شکار کی تاک لگائے پھر رہے تھے یوں چند سیکنڈ کے اندر ہی انڈین مگ طیارہ زمین بوس کر دیا گیا اور ابھینند کو زندہ پکڑ لیا گیا اور واپسی کے وقت جس پاکستانی طیارے کو پیچھے رہنے کی ہدایات تھیں اس نے جب دیکھا کہ دشمن کے طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے بغیر ہی واپس ہو لیئے تو اس نے انڈین حدود میں ہی ایک شکار دپوچ لیا اور اسے مقبوضہ کشمیر میں زمین بوس کر دیا اور یوں پاکستانی شاہین ایک انتہائی مشکل اور ناکابل عمل آپریشن سر انجام دے کر بحفاظت اپنی سر زمین پر لینڈ کر گئے۔ اب اتنے بڑے سرپرائزز کے بعد انڈین آرمی اور مودی کو جان کے لالے پڑ گئے، اور پوری دنیا میں بھارت کی ناک کاٹ دی پاکستانی فوج نے، لہزا اب انڈین آرمی اور مودی کسی بھی طرح اپنی اس ناکامی کا بدلہ لینے پے تل گئے اور چونکہ انڈین کو یہ بات روز روشن کی طرح باور ہو گئی کہ وہ پاکستان آرمی کا کسی بھی طرح مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں: سیندک، بلوچستان کا “سونا” مقامی آبادی کی زندگی بدلنے میں مددگار کیوں نہیں؟

تو اگلی رات انڈیا نے آخری آپشن یعنی ایٹم بم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس ساری کاروائی میں شاید آپ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کی کارکردگی کو نوٹ نہیں کر پائے۔ تو جناب 6 ہائی ویلیو ٹارگٹس کی انفارمیشن اور انڈین چیف آف آرمی سٹاف کہاں بیٹھا ہے یہ سب آئی ایس آئی ہی تو بتا رہی تھی اور جب انڈیا نے ایٹم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو بھی انڈیا کے میزائل ٹاگٹ پے فٹ کرنے سے پہلے پہلے آئی ایس آئی ہی نے آگاہ کیا کہ انڈیا اس وقت کیا کر رہا ہے۔؟ یعنی آپ اندازہ لگائیں کہ ہماری آئی ایس آئی نے کہاں تک پنجے گاڑ رکھے ہیں جس پے ہمیں فخر ہے، تو جیسے ہی پاکستان کو ایٹمی حملے کی خبر ملی تو پاکستان نے اسی وقت ایک بڑے ملک کو آگاہ کیا کہ انڈیا کو بتا دو کہ ہم تیار ہیں اور ادھر سے اگر ایک آئے گا تو پاکستان ہر ایک کے بدلے تین ایٹم مارے گا یعنی ایک تین کی ریشو رکھی جائے گی۔

اب جیسے ہی اس بڑے ملک نے انڈیا کو پاکستان کے فیصلے سے آگاہ کیا تو انڈیا کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی کہ یہ انفارمیشن پاکستان کو کیسے مل گئی، اور یہ بھی انڈیا کیلئے کسی سرپرائز سے کم نہیں تھا۔ اب انڈیا نے اس بڑے ملک سے گڑگڑاتے ہوئے درخواست کی کہ آخر ہمیں بھی فیس سیونگ کیلیے کچھ تو دو لہزا اس بڑے ملک نے پاکستان سے کہا کہ انڈیا اپنی اتنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اس وقت انتہائی پاگل پن کا شکار ہے آپ کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ لہزا امن امن کی بات کرنے والے کپتان اور ہمیشہ دھیمے مزاج میں نظر آنے والے جنرل باجوہ نے فیصلہ کیا کہ انڈیا کو چاروں شانے چت تو ویسے بھی کر دیا ہے تو اب انڈین پائلٹ کو جزبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کر دیا جائے۔

اب عام عوام میں غم و غصہ ہے کہ اتنے جلدی پائلٹ چھوڑنے کی کیا ضرورت آن پڑی تو جناب یاد رکھیں کہ عمران خان نے یہ اعلان کر کے اخلاقی محاذ پر بھی پاکستان کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ اب سنیں کہ وہ کیسے جس دن عمران خان نے پائلٹ رہا کرنے کا اعلان کیا اسی شام سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان آنا تھا اب اگر کسی بھی انٹر نیشنل شخصیت کے پاکستان آنے کے بعد پائلٹ رہا کرنے کا اعلان ہوتا تو سب سے پہلے پاکستانی عوام پاک آرمی اور حکومت کے خلاف ہو جاتی اور انٹرنیشنل لیول پر بھی پاکستان کو اخلاقی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا۔

کہ پاکستان نے شاید کسی امدادی پیکج یا مالی مدد حاصل کر کے اپنی عزت و انا کی قیمت وصول کی اور پائلٹ چھوڑنے پے راضی ہوا اور یوں پاکستان نے بروقت بہترین سٹریٹیجی بہترین لیڈرشپ اور بہترین جنگی و سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے ان تمام پس پردہ قوتوں کو اور آج کی جدید دنیا پے بھی واضح کر دیا, کہ پاکستان واقعی خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور یہ ملک واقعی ناقابل تسخیر ہے۔ اور انڈیا جو کارگل کا بدلہ لینے کیلیئے اتنے عرصے سے پاکستان کو سبق سکھانے کے تانے بن رہا تھا اسے دھول چٹا کے اسکی اوقات یاد دلا دی۔ پاک آرمی نے دنیا کی تمام آرمڈ فورسز پے اپنی برتری کا جھنڈا لہرا دیا۔ اپنی فوج اور اپنے ملک سے والہانہ محبت کیجئے آپ دنیا کے خوش نصیب ترین لوگ ہیں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔