بلاگ

آزادی کے تقاضے اور پاکستان میں علیحدگی پسندی کے شوشے

میں نے ایک سابقہ پوسٹ میں دو قومی نظریہ پر کچھ اسلامی حوالے اور منشاء بیان کی تھی کہ”ان الارض للہ” کا مفہوم ہے کہ ساری زمین اللہ رب العزت کی ہے اور اس پر نظام بھی اللہ کا ہی لاگو کرنا ہے۔ غیراللہ کے سبھی نظام باطل ہیں۔ ان کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔اسی لیئے انبیاء و رسل علیہم السلام اللہ کے دستور و نفاذ کی دعوت دینے کے لیئے مبعوث کیئے گئے۔ انبیاء علیہم السلام نے جہاں "قولوا لا الٰہ الا اللّٰہ” کی دعوت پر تفویض کردہ ذمہ داری نبھائی،وہیں پر ایمان و اسلام قبول کر لینے والوں میں اجتماع اتحاد اور اتفاق محبت امن رواداری ایثار قربانی صبر برداشت کا حسین معاشرہ تشکیل دینے دعوت بھی عام کی۔

جو لوگ سمجھ گئے اور اس کرۂ ارضی میں اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیئے کفریہ قوتوں کے مقابلہ میں جہاد فی سبیل اللہ کی راہیں اپنائِیں۔ ان کے لیئے عالمی جہانبانی و ملک گیری کے انعامات کی بشارتیں بھی دِیں، وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُـمْ وَدِيَارَهُـمْ وَاَمْوَالَـهُـمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْـرًا۞ (سورۃ الاحزاب: 27) اردو ترجمہ: "اور ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا تمہیں مالک بنا دیا اور زمین کا جس پر تم نے کبھی قدم نہیں رکھا تھا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے” اسی حکم کے فیوض و ثمرات تھے کہ جب عالمی سطح پر مسلمانوں کے اقتدار کی سلطنت حد درجہ وسیع تھی۔لیکن جب مسلمان اسی وسعت کو منزل جان بیٹھے تو اللہ قادر مطلق نے کفریہ دھڑوں کی باہم خونریز لڑائیوں کی بنیاد پر ان کے جھنجھوڑنے کا انتظام پہلی اور دوسری جنگ عظیم بپا کرا کے کیا۔

اس سے دو ظاہری بہتریاں ہوئیں، ایک یہ کہ ان جنگوں میں کفر کے بد عقیدہ بد تہذیب اور طاقت کے نشہ میں بد مست ہاتھیوں کے آپس ہی میں باہم ٹکرا جانے کے باعث قوت و عددی برتری میں اہل کفر ہی کو نقصان اٹھانا پڑا۔کہ اگر ان کی قوت باہم لڑائی میں زائل نہ ہوتی تو متحدہ قوت کے ساتھ انہوں نے اہل اسلام کا بالکل اسی طرح سے قتل عام کرنا تھا کہ جس طرح ہٹلر نے یہودی نسل کا خاتمہ اپنا مشن بنا لیا تھا۔ جبکہ ان جنگوں میں اعداد و شمار کے موازنہ کی رو سے اہل اسلام کا جانی و مالی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوا۔

یہ الگ بات کہ سقوط خلافت عثمانیہ سے مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور وہ اقوام متحدہ ساختگی میں کٹے پھٹے جغرافیوں پر صابر و شاکر ہو رہے لیکن اس خلافت عثمانیہ کی اب اللہ کے ہاں اس زمین کو ضرورت ہی نہیں رہی تھی کہ جس میں مسلمانوں کی تعلیمی شعوری حربی کمزوریوں کے ازالہ اور انہیں ایک تنظیم میں لانے کا دم ہی باقی نہیں رہا تھا۔ اب جبکہ یو این اسمبلی قائم کر کے نام نہاد جمہوریت کو فروغ دیا گیا۔ اور اس میں مسلمانوں کے کم و بیش پینتالیس سے پچاس کے قریب آزاد جغرافیے تشکیل دیئے گئے تو ان میں ایک بے مثال تحریکی قیادت کے زیراثر ایک جغرافیۂ پاکستان بھی معرض وجود میں آ گیا۔ باقی مسلم ممالک ہماری طرح درپیش چیلنجز سے کافی حد تک آزاد اپنی معاشی پیداوار اور زمینی وسائل کی کفریہ منڈیوں میں فروخت کے ذریعہ چار دن کی چاندنی کے مصداق چمکنے دمکنے لگے،

جبکہ ہماری خوش بختی یہ رہی کہ ہمارا پڑوسی دشمن بھارت ہمیں چار دن کی چکا چوند اور عیش و نشاط میں کھو جانے کی راہ میں حائل رہا اور ہم اپنے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے شبانہ روز تیاریوں اور دفاعی استعداد کار بڑھانے میں مصروف ہی ہو کے رہ گئے۔اگرچہ حلف سول اور مارشل دونوں شعبوں کا ایک سا ہی تھا۔ لیکن سول سسٹم میں مناسب چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے سبب جمہوری سیاہ ستدان پرسنل کمیشن بیسڈ ترقیاتی منصوبے جاری کر کے عوام الناس کے عمومی مسائل سے لاپروا پاناموں سرے محلوں سوئس اکاؤنٹوں اور ڈیزلوں کی بدعنوانیوں میں مصروفِ کار رہے۔ جبکہ قومی سلامتی کے اداروں میں سخت ڈسپلن کڑے چیک اینڈ بیلنس اور ایمان تقوٰی اور جہاد فی سبیل اللہ پر آفاقی غلبۂ اسلام کے تصور پر کھلی و خفی ایسی تیاریاں اور حکمت عملیاں جاری رہیں کہ ۔۔

اس وقت لالچی و حریص اپنے پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے جمہوری سسٹم کے مٹی کا مادھو بنے حکمرانوں کی چاروں ہاتھوں پیروں سے لوٹ مار کے باوجود ہمارے عظیم المرتبہ منظم دفاعی ادارے یکے بعد دیگرے وقت کی دو کفریہ سپر طاقتوں کے غرور کو افغانی کوہساروں سے ٹکرا ٹکرا کے توڑ چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے دشمن ممالک بھارت اسرائیل اور امریکہ وغیرہ حربی صلاحیت اور جذبۂ ایمانی میں ہمارے خلاف مورلی شکست خوردگی کے سبب ایک دوسرے کے سر سے سر جوڑ کے کبھی ففتھ جینریشن ڈاکٹرائن کے محاذ کھولنے کی بات کرتے ہیں۔اور کبھی حملے اور سنگین نتائج کی گیڈر بھبھکیوں سے حاوی ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ سب ہمارے نزدیک گرد و غبار اور اڑتی دھول سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کہ جسے ہم ٹیکنالوجی حربی اور ففتھ جینریشن ڈاکٹرائن کے محاذوں پر ویکیوم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہاں تک تو ذکر ہوا پاکستان کی ارتقائی ترقی و سربلندی کا کہ جس کے سبب اس وقت مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر یو این اور سلامتی کونسل سے مایوس ہو چکے مجبور مقہور مظلوم مقبوضہ خطوں کے لوگ مسیحائی کے لیئے پاکستان کا سبز ہلالی لہرا کر ہم ہی سے فریاد کناں ہوتے ہیں۔ کہ پاکستانیو آؤ ہماری مدد کرو۔تو ایسے عروج و بام کے دور میں کوئی فرد یا گروہ علاقائیت لسانیت قومیت کی بنیاد پر علیحدگی کی غیر دانشمندانہ تحریک چلانے کی بات کرے تو اس کی عقل پر افسوس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟ہمارے ملک میں علیحدگی پسند شوشوں کے جواز تین وجوہات کی بنا پر حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک حکومتی غفلت و عدم توجہ کا استحصالی رویہ دو قومیتی لسانی و جغرافیائی برتری کا احساس تین لسانی قومیتی صوبائی تفریق ڈال کر علاقے پر اپنی بادشاہی کے خواب دیکھنےیہ تینوں چیزیں انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے۔ ہمیں ان کی بنیاد پر آپ کو حقوق دینے پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔

لیکن ہمیں اس پر کچھ تحفظات بھی ہیں،کہ آپ اپنے علاقہ کی پسماندگی و استحصال کی بات کرتے ہیں تو استحصال کی مختلف جہتوں کا شکار تو پورا پاکستان بھی ہے۔ آپ پاکستان کی بات کیوں نہیں کرتے؟کہ جہاں پر چمکتی نِیٹ اینڈ کلین سڑکیں ہیں۔ وہاں عام عوام کے لیئے انصاف ناپید ہے، معاشی مسائل ہیں، دفتروں میں اقربا پروری، میرٹ کے خلاف سفارش اور رشوت ستانی ہے۔جبکہ آپ کے زمینی فصلی وسائل کی قیمت بھی منڈی میں بہت زیادہ ہے، مال مویشی ہوں سبزیات پھل فروٹ ہوں، اجناس ہوں یا معدنیات ہوں، انکی قیمت آپ کے مطالبہ پر شہری منڈیوں میں پنپتی ہے، پرائس کنٹرول بھی آپ ہی کے تابع ہے۔ تو یہ پلس پوائنٹ آپ کا ہے۔

آپ لسانی یا قومی تفاخر کی بات کریں تو آپ کو اوپر لکھی تحریر کی روشنی میں سمجھنا چاہیئے کہ جو فخر پاکستانی ہونے کی حیثیت میں حاصل ہوتا ہے وہ لسانی و قومیتی یا علاقائی کنوئیں کا مینڈک بننے سے کسی طور حاصل نہیں ہو سکتا۔ پھر آپ اپنی اسٹیٹ اپنی حکمرانی کی بات کریں تو اس کے جواب میں چند سوالوں کا جواب آپ دیں،چونکہ ان شوشوں کے پیشرو مادیت پرست لبرل سیکولر عناصر ہیں۔ تو ان سے نظریہ پاکستان اور اسلامی اقدار و اخلاق کی بجائے مادی حوالوں سے چند سوالات پوچھوں گی۔کہ ٹھیک ہے آپ کے مطالبے مان کر ہم نے آپ کو علیحدگی دے دی۔ اب آپ کو داخلی جرائم کنٹرول کرنے کے لیئے نئی پولیس اور کسی بھی بیرونی دشمن کے خلاف نئی آرمی اور نیا ناقابل تسخیر دفاع درکار ہے۔ تو آپ یہ سب کیسے ترتیب دے پائیں گے؟جبکہ امریکہ روس بھارت اسرائیل پہلے ہی آپ کے زمینی وسائل کی جانب للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اراکان برما اسی اسٹریٹیجک پوزیشن کے حصول کی خاطر لہولہان کر دیا گیا ہے۔

کشمیر بلوچستان میں وہ آپ کی بربادی اور چین کو مات دینے کے لیئے پنجے گاڑنا چاہتے ہیں۔ سندھ میں وہ بھارت کی خوشنودی کے اقدامات بھی کرنا چاہتے ہیں اور بعض اہم اسٹریٹیجک پوزیشنز بھی مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ صوبہ سرحد میں وہ افغانستان سے شکست کے حساب چکانا چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان سے وہ ففتھ جینریشن ڈاکٹرائن کے مسلکی محاذ پر صف آرا ہونا چاہتے ہیں۔پھر یہ کہ آپ کے علاقائی لوگ ملک بھر میں معاشی وسائل کے حصول کے لیئے سرگرداں ہیں۔ تو سوچیئے کہ اگر الگ آزاد اسٹیٹس بن گئیں تو جن لوگوں کی خیر خواہی میں آپ تحریکوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ انکے لیئے ویزا و پاسپورٹ مسائل کیسے حل کر پائیں گے؟ان "بیرونی ریاستوں” میں ان کی جان مال عزت و آبرو کو کیسے محفوظ کر پائیں گے؟ جبکہ آپ تقسیم ہند کی بے سروسامانی کی ہجرت کے دوران ظلم و بربریت کی اندوہناک تاریخ بھی پڑھ چکے ہیں۔

پھر یہ کہ جب بنگلہ دیش آزاد ہوا تو بھارتی ساختہ مکتی باہنی کے غنڈوں سمیت اقلیتی لبرلز نے غارت گری کے ابواب رقم کر دیئے۔ جبکہ اکثریتی بنگالی تب سے آج تک افسردہ و نمدیدہ ہیں۔ کہ ہمیں کیوں پاکستان سے جدا کیا گیا؟جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے تو اس وقت کی پی ٹی وی خبرنامہ کی ریکارڈنگ دیکھ لیجیئے کہ کس طرح سے بنگالیوں نے سڑکوں پہ نکل کے جشن منائے۔ اور کس طرح ان کے چہروں پر جدائی کا وہ درد نمایاں دکھائی دے رہا تھا کہ کاش آج ہم بھی بھارتی باجگزار بنگلہ دیش کی بجائے ایٹمی پاکستان ہوتے۔لبرل سیکولر مادیت پرستی کے پہلو کیا ہیں؟ کسی بھی قیمت پر اپنی جان بچا لی جائے، کسی بھی طرح شراب و شباب کی خرمستیاں معاشرے میں عام ہوں، کسی بھی جائز ناجائز ذریعہ سے آمدن بڑھے اور بڑھتی چلی جائے۔

یہ سب مقاصد مضبوط دفاع سے حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان کا دفاع اعلٰی ترین اور عالمی سطح پہ سب سے منفرد ایٹمی ٹیکنالوجی کے سبب مضبوط ترین ہے۔جب آپ پاکستان سے الگ ہو گئے (خاکم بدہن) تو آپ کے دفاع کی ضمانت کونسی ایٹمی ٹیکنالوجی ہو گی؟ دشمن ممالک آپ کو آپ کی آزادی کے پہلے ہی دن آ کے اس طرح سے دبوچ لیں گے کہ آپ کو کسی کل بھی ہلنے نہ دیں گے۔تو زعماء علیحدگی پسندی!!مادیت پرستی کے سانچے میں ڈھلے مطالبات کا مادیت پرستی ہی کے سانچے میں ڈھلے سوالوں کا جواب دیجیئے۔

رمیزہ منصور