بلاگ معلومات

عیار ترین شخص (چیف جسٹس) اور احمق ترین شخص (وزیراعظم )کی ترک کہانی

آجکل جبکہ پاکستان میں متعدد جج اور وزراۓ اعظم ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں ترکی زبان کی یہ کہانی دلچسپی کا باعث ہوگی ۔ کہانی یہ ہے کہ مصطفی نامی ترک کا باپ یہ وصیت کر کے مر گیا کہ جب تک مصطفی ملک بھر کے عیار ترین شخص اور احمق ترین شخص کو بیس بیس ہزار دینار نہ دے لے گا اس کی وراثت کا حقدار نہ ہوگا ۔ جب مصطفی ایسے اشخاص کی تلاش کرتے کرتے تھک گیا تو اسے کسی سیانے نے کہا کہ عیار ترین شخص قاضی القضات ( چیف جسٹس) ہے اور احمق ترین شخص وزیراعظم ہے ۔سیدھے جاکر یہ رقمیں ان کے حوالے کردو ۔ مصطفی کو اعتبار تو نہ آیا لیکن پھر بھی آزمائش کے لئے چل پڑا۔

مصطفی نے پہلے قاضی القضات کے پاس جا کر کہا کہ میرا باپ آپ کو بیس ہزار دینار دینے کی وصیت کرگیا ہے اس لیے آپ مجھ سے یہ رقم لے لیں ۔ قاضی القضات نے باپ کا نام پوچھ کر کہا کہ میں اس نام کے کسی شخص کو جانتا ہی نہیں اس لیے رقم ہرگز نہیں لوں گا۔ لیکن مصطفی کے بار بار اصرار کرنے پر رقم اس شرط پر لینے کو تیار ہوگیا کہ اس کے عوض میں مصطفی بھی اس سے کوئی چیز لے لے۔ مصطفی نے قلم مانگا تو قاضی القضات نے کہا کہ وہ تو چھوٹی سی چیز ہے آپ کوئی بڑی چیز لیں اور وہ چیز میرے سامنے والے پہاڑ پر پڑی ہوئی ساری کی ساری برف ہے ۔ مصطفی مان گیا اور رقم دے کر چلا گیا۔ گھر جاکر فکرمند ہوا کہ وصیت پوری نہیں ہوئی کیونکہ رقم تو عیار ترین کو دینی تھی اور میں امین ترین کو دے آیا ہوں۔ اتنے میں قاضی القضاۃ کے آدمی یہ پیغام لے کر آگئے کہ قاضی القضاۃ کسی کا ملکیتی مال اپنے قبضے میں رکھنا حرام سمجھتے ہیں اس لئے آپ ساری برف راتوں رات لے جائیں۔ مصطفی کو مجبورا یہ کٹھن کام کرنا پڑ گیا تو اس کو اعتبار آگیا کہ آدھی وصیت پوری ہوگئی ہے۔

پھر مصطفی وزیراعظم کو ملنے کے لئے سیانے کے حسب ہدایت شاہی محل کے دروازے پر لوگوں کی لگی ہوئی بھیڑ میں شامل ہو کر انتظار کرنے لگ پڑا ۔ شاہی ملازمان کپڑے سے ڈھانپی ہوئی ایک طشتری محل سے باہر لے گئے اور تھوڑی دیر بعد ایک بظاہر اعلی ترین عالم فاضل لگنے والا خلعت پوش کافی بڑے جلوس کی معیت میں محل میں داخل ہوگیا ۔ جب وہ باہر نکلا تو مصطفی رقم کی تھیلی اسے دے کر واپس لوٹ آیا ۔ اس نے سیانے کے پاس جا کر کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ وزیر اعظم احمد ترین شخص ہے لیکن وہ تو اعلیٰ ترین عالم فاضل لگتا ہے ۔ اصلی بات کیا ہے؟ سیانے نے کہا کہ بادشاہ نے اعلان کر رکھا ہے کہ جو شخص عقل کل کا مالک ہونے کا دعویدار ہو گا اس کو وزیر اعظم بناؤں گا اور اگر اس کا دعویٰ غلط نکلا تو اس کا سر قلم کرکے نیا وزیراعظم اسی شرط پر بناؤں گا ۔ کئی لوگ یہ دعوی کر کے وزیراعظم بن چکے اور سر کٹا چکے ہیں ۔ چنانچہ طشتری میں ڈھانپا ہوا سر آخری وزیراعظم کا تھا اور اگلی باری اس نئے دعویدار کی ہے ۔جسے آپ تھیلی دے آئے ہیں۔ اس وقت وہی احمق ترین ہے۔

مصطفی کی تسلی ہو گئی کہ وصیت پوری ہوگئی ہے اور اب میری تسلی بھی ہوگئی ہے کہ جو بات کرنی تھی وہ پوری ہو چکی ہے۔ جو اگلی بات حالات حاضرہ کے تناظر میں صریحاً نہیں کی گئی وہ قارئین اپنی اپنی آنکھوں میں رڑک اور دلوں میں ٹٹول سکتے ہیں۔ لہذا اپنی معاون تحریر پوتی فریحہ فرخ کے اعزازی تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک دو دنوں کے لئے رخصت ہوتا ہوں ۔