اسلام بلاگ

عوامیت پسندی کا عفریت

انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی قوموں کے نام نہاد اشراف یعنی بادشاہ، وزرا، سردار اور مال دار تھے۔ ان طبقات کو ڈر ہوتا تھا کہ اگر قوم ان نبیوں کے پیچھے چل پڑی تو ہماری چودھراہٹ کا کیا ہوگا۔ اس لیے وہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خلاف ڈٹ کر جھوٹ بولتے، بہتان لگاتے اور خوب ملمع کاری کرکے بے چارے عوام کو حق کی تائید کرنے کے ایسے بھیانک نتائج و ہول ناک عواقب دکھاتے کہ مضبوط سے مضبوط اعصاب والا اور بڑے سے بڑا دانش مند فتنے میں مبتلا نہ بھی ہو تو خدشات و اوہام کا شکار ضرور ہو جاتا، سوائے جس پر خدا کی رحمت ہوتی۔

حریف کو گرانے یا کمزور کرنے کے لیے یہ طریقہ واردات باطل کا ایک نفسیاتی ہتھیار تھا۔ بعد میں سیاسی اکھاڑوں کی زینت بننے والا نظریہ "جزباتی وہیجانی سیاست” (Demagogy) بھی اسی نفسیاتی کھیل کا دوسرا رخ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حق کے مقابل یہ باطل کا ہتھیار تھا، جب کہ سیاست میں دونوں میں سے کوئی بھی اسے استعمال کرسکتا ہے، تاہم اہل دانش کی نظر میں یہ کبھی بھی پسندیدہ اور قابلِ قبول نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے اکثر دانش مند اسے جدید سماج کا سب سے بڑا فتنہ سمجھ رہے ہیں، لیکن دوسری جانب بین الاقوامی اشرافیہ عالمی اور ملکوں کی سطح پر اسے مسلسل فروغ دے رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ "عوامیت یا قومیت پسندی” (Populism) ایسے ایسے ممالک میں سیاسی برج گرا رہی ہے، جہاں کے عوام اس دور میں (نام نہاد) باشعور ومہذب کہلاتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال دورِ جدید میں تعلیم، شعور، ترقی اور جدت کا بت امریکا ہے، جہاں کرسی صدارت پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا مسخرہ براجمان ہے۔ پھر مہذب دنیا کی ماں سمجھا جانے والا برطانیہ ہے، جو اسی عوامیت پسندی کے نتیجے میں "بریگزٹ” اور وزیراعظم بورس جانسن جیسا دوہرا عذاب جھیل رہا ہے۔ یورپ میں تہذیب کا دوسرا بڑا دعوے دار فرانس ہے، جہاں 2017ء کے صدارتی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی عوامیت پسند اور قوم پرست جماعت "نیشنل فرنٹ” کی اسلام و تارکین وطن مخالف قائد مارین لی پین نے 39.9 فیصد ووٹ لے کر پورے مغربی یورپ میں بھونچال پیدا کردیا تھا۔ جرمنی میں 2017ء کے وفاقی انتخابات میں دائیں بازو کی عوامیت پسند "اے ایف ڈی” (متبادل برائے جرمنی) نے 12.6 فیصد ووٹ لے کر دانشوروں کے کان کھڑے کیے۔ آسٹریا میں کم عمر چانسلر سبستیان کرز کی حکومت 2017ء کے انتخابات میں 26 فیصد ووٹ لینے والی دائیں بازو کی عوامیت پسند فریڈم پارٹی کی مرہونِ منت ہے۔ ہنگری میں بھی 2018ء کے انتخابات میں دائیں بازو کے عوامیت پسند اور نسل پرست دو جماعتی اتحاد نے 5 فیصد اضافے کے ساتھ 49 فیصد نشستیں حاصل کرکے وکٹر اورباں جیسے متعصب شخص کو وزارت عظمیٰ پر برقرار رکھا۔ یہی حال اٹلی کا ہے، جہاں ماتیو سالوینی کی دائیں بازو کی عوامیت پسند لیگا نوڈ نے 2018ء کے انتخابات میں 37 فیصد ووٹ لے کر اتحادی حکومت بنائی۔ غرض آج امریکا سے وسطِ یورپ تک سیاست کا چلن عوامیت پسندی ہی ہے، پھر مشرقی یورپ اور تیسری دنیا کا تو پوچھنا ہی کیا۔

دنیا بھر میں سیاست کے منظرنامے پر نظر ڈالی جائے، تو معلوم یہی ہوتا ہے کہ عوامیت پسند سیاسی رہنما بین الاقوامی یا ملکی اشرافیہ کی ایسی کٹھ پتلی ہیں، جن میں علم، شعور اور تجربے کی کمی دیگر سیاسی طبقات سے زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود آج وہ کئی ممالک میں برسرِاقتدار، شریکِ اقتدار یا مضبوط حزبِ اختلاف ہیں۔ اس کی وجہ ان کی عوامیت پسندی ہے، جس کی مختصر وجامع تعریف "عوام کو الو بنانا” ہے۔ عوامیت پسند رہنما کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کی نفسیات سے کھیلتا ہے۔ ان کی کوئی بھی دُکھتی رگ پکڑ کر نجات دلانے کا اتنا ڈھنڈھورا پیٹتا ہے کہ لوگ اسے مسیحا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وہ بلند بانگ دعوے کرتا ہے، عوام کی رال ٹپکانے اور آنکھیں ڈبڈبانے والے غیر حقیقی نعرے لگاتا ہے، سہانے خواب دکھاتا ہے، جھوٹ پہ جھوٹ بولتا ہے، ہر برائی، کمزوری اور ناکامی کا ملبہ اپنے پیش روؤں پر تھوپتا ہے، اور ٹرک کی بتی پر "سنہرا مستقبل” لکھ کر عوام کو اس کے پیچھے دوڑنے پر لگا دیتا ہے۔ جہاں کچھ پھنسنے لگتا ہے، تو مذہب، قوم، نسل، زبان اور انسانیت سمیت کوئی بھی نعرہ پورے شد و مد سے استعمال کرکے خود کو بچا لیتا ہے، لیکن ملک اور قوم کی بنیادیں کھودتا جاتا ہے، جب کہ عوام اس کا دیا لولی پوپ چوستے جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں ہر سطح کے اشرافیہ کو اب اسی قسم کی سیاست اپنے مفاد میں معلوم ہوتی ہے۔ جس طرح کوئی چودھری، وڈیرہ یا سردار سوچتا ہے کہ اس کی قوم پڑھ لکھ گئی، تو میرا کیا بنے گا، بالکل اسی طرح اشرافیہ کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ سیاست میں اتنی زیادہ دانش مندی اور تجربے کاری چلنے لگی، تو ہم کہاں جائیں گے۔ اس لیے وہ دورِ جدید کے سب سے بڑے فریب جمہوریت کا سہارا لے کر مسلسل عوامیت پسندی اور اس سوچ کے رہنماؤں کو آگے لا رہے ہیں، جو دنیا کی فلاح، امن اور بقا کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ ہر ملک میں عوام کے پسندیدہ نعرے لگا کر نظریاتی بنیادیں کھودی جا رہی ہیں، لیکن لوگ عوامیت پسندوں کی جھولی میں ایسے گررہے ہیں، جیسے آندھی میں درختوں سے پتے جھڑتے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔