معلومات

آسمان سے گرنے والے انسان کی کہانی

یہ 1960 کی دہائی تھی جب دو بڑے ملکوں کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ ہتھیاروں اور بارود کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ جنگ ٹیکنالوجی کی جنگ تھی جو روس اور امریکہ کے درمیان تھی۔ خلاء میں انسان کو بھیجنے کیلیے یہ 2 سپر پاورز تیاریاں کررہے تھے دونوں کی کوشش تھی کہ سب سے پہلے خلاء میں ایک انسان کو بھیجا جائے تاکہ تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ کیلئے یہ درج کیا جائے کہ سب سے پہلے کس ملک نے خلاء کی بلندیوں کو چھوا تھا۔

روس بہت پہلے سے ہی اپنے سیٹیلائٹس خلاء میں بھیج چکا تھا اور آخر کار سپیس میں پہنچنے کی ریس میں بھی روس نے جیت حاصل کی اور یوری گاگرین وہ پہلے انسان بنے جو خلاء میں پہنچے تھے اور یوں تاریخ کے پنوں میں یہ اہم باب ہمیشہ کیلئے درج کردیا گیا لیکن أج کی یہ کہانی یوری گاگرین کی نہیں بلکہ Vladimir Komarov نامی ایک اسٹرونوٹ کی ہے جسکا تعلق رشیا سے تھا۔

تین اپریل 1967 کا دن تھا جب ایک سپیس راکٹ رشیا کے سپیس بیس سے خلاء کی جانب روانہ کردیا گیا۔ یہ راکٹ ابھی خلاء کے سفر پر نکلا ہی تھا کہ کمارو کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس جہاز میں کچھ تو خرابی موجود ہے لیکن اس خرابی کو نظر انداز کرتے ہوئے کمارو نے اپنا سفر جاری رکھا اور خلاء کی گہرائیوں میں کامیابی کے ساتھ پہنچ گیا۔ Komarov نے خلاء میں 27 گھنٹے گزارے اور زمین کے گرد 18 چکر بھی لگائے وہ بھی بلکل اکیلے۔ کماروں اس سپیس کرافٹ میں بلکل اکیلا زمین کے گرد چکر لگارہا تھا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ جہاز میں کچھ تکنیکی خرابی ضرور موجود ہے جسکی وجہ سے وہ کافی پریشان بھی نظر آرہا تھا۔

اس خلائی جہاز میں 2 سولر پینل لگائے گئے تھے جن کو سپیس میں پہنچ کر کھولنا تھا لیکن جہاز کے اندر خرابی ہونے کی وجہ سے سولر پینل نے کام کرنا چھوڑ دیا اور یہی وجہ تھی کہ سپیس کرافٹ کو روشنی بھی نہیں مل رہی تھی جسکی وجہ سے جہاز کو کافی نقصان پہنچ رہا تھا اور یہ بات نیچے زمین والے بھی جان گئے تھے کہ جہاز میں خرابی موجود ہے۔

اب کماروں کو زمین پر واپس جانا تھا لہذا وہ زمین پر لینڈ کرنے کی تیاری کرنے لگا۔ یہ بات تو آپ لوگ جانتے ہونگے کہ ہر سپیس کرافٹ کے ساتھ دو پیراشوٹ ضرور لگائے جاتے ہیں تاکہ واپسی پر انہیں کھول کر کر سپیڈ کو کم کیا جاسکے اور زمین پر آسانی کے ساتھ لینڈ کیا جاسکے۔ کماروں جب وہ واپس زمین کی طرف لوٹنے لگا تو زمین کی فضاء میں داخل ہوتے ہی جہاز کی سپیڈ بھڑنے لگی۔ اب کماروں کی بد قسمتی دیکھو کہ جیسے ہی وہ فضاء میں داخل ہوئے اس نے پیراشوٹ کو کھولنے والا بٹن دبایا لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی لیکن پیرا شوٹ اوپن ہی نہیں ہورہا تھا۔ کماروں سینکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی جانب آرہا تھا۔ وہ بار بار پیراشوٹ کو کھولنے کی کوشش کررہا تھا لیکن بدقسمتی سے پیراشوٹ جام ہوگیا تھا۔ اس دوران کماروں نے زمین کی طرف آتے ہوئے بے بسی اور خوف کے عالم میں رشیا کے سپیس سنٹر سے رابطہ کرتے ہوئے رو پڑیں اور افسوس بھی کیا۔ رشین کماروں کو ہر حال میں بچانا چاہتے تھے وہ ایک جہاز کو کماروں کو بچانے کیلئے بھیج رہے تھے لیکن آج کماروں کی قسمت خراب تھی اور موسم خراب ہونے کی وجہ سے کماروں کو بچانے کیلئے کوئی جہاز نہیں بھیجا گیا۔ آخرکار کماروں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ زمین پر کیپسول کے ساتھ آگرا۔ یہ جس سپیڈ سے زمین پر گرا تھا وہ سینکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ بعد میں جب Vladimir Komarov کی کیپسول کو کھولا گیا تو انکا جسم ایک کوئلے میں تبدیل ہوگیا تھا۔

کماروں ایک بار پہلے بھی یوری گاگرین کے ساتھ خلاء میں جاچکا تھا اور یہ ایک کامیاب پائلٹ بھی تھا اسلیے روس چاہتا تھا کہ دوبارہ اسے خلاء میں بھیجا جائے کیونکہ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا تو روس کیلئے یہ ایک عظیم کامیابی ہوتی لیکن یہ مشن ناکام ہوگیا اور خلائی جہاز میں تکنیکی خرابی ہونے کے باعث کماروں کو اپنی جان دینی پڑی لیکن انسانی تاریخ میں اس ہیروں کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے اور ہمیشہ یاد کیا جائے گا ۔۔۔۔۔