معلومات

آشوکِ

آشوکِ اعظم ہندوستان میں موریہ خاندان کا تیسرا بڑا حکمران تھا، یہ موریہ سلطنت کے بانی چندر گُپت موریہ کا پوتا تھا۔آشوک تین سوقبل مسیح پٹنہ میں پیدا ہوا۔ یہ 268قبل مسیح ہندوستان کے تخت و تاج کا مالک بنا، یہ ایک بہادر نڈر اور ظالم ترین حکمران تھا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس نے اپنی جوانی میں ایک چھری کی مدد سے شیر کا شکار کیا تھا۔اس کی ظلم اور بربریت کی بے شمار داستانیں مشہور ہیں۔ اس نے اقتدار اور تخت کے حصول کے لئے اپنے ننانوے بھائیوں کو قتل کیا ، اپنی حکمرانی کو وسعت دینے اور تخت کو بچانے کے لئے اس  جنگ و جدل کے زریعے خون کی بےپناہ ندیاں بہا دیں ۔میدان ِ جنگ میں یہ شخص اپنے مفتوحہ سلطنت کی رعایا اور فوج کو ذبح کر کے جشن منایا کرتا تھا۔

آشوکِ اعظم کے زمانے میں ہندوستان کی مشرقی سرحدوں پر ریاست کلنگاء واقع تھی ، جو آج کل آڑیسہ کہلاتی ہے۔ یہ ریاست جمہوری اور عسکری اعتبار سے کافی مضبوط ریاست تھی۔ آشوکا کی شدید خواہش تھی کہ وہ کلنگاء کو فتح کر کے موریہ سلطنت کا حصہ بنائے۔آخر کار تین سال کے مسلسل حملوں کے بعد آشوک کلنگاء کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ فتح کے نشے میں آشوک کی فوج نے مفتوحہ ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی،تقریبا سارے فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔اس کے علاوہ عام رعایا جن میں عورتیں، بوڑھے ، بچے اور نہتےنوجوان شامل تھے، اُن کو بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

جنگ کے بعد اگلی صبح جب اشوکِ اعظم میدان جنگ کاجائزہ لینے گیا تواس نے چاروں اطراف لاشوں کے ڈھیر دیکھے ۔اس نے اپنے وزیر سے پوچھا؛ کہ یہ کتنے لوگ اس جنگ میں ہلاک ہوئے؟وزیر نے تفاخرانہ لہجے میں جواب دیا، عالی جاں ؛ جنگ میں تقریبا ایک لاکھ لوگ جابحق اور ایک لاکھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ جب آشوکِ اعظم نے سنا کہ اس نے اتنے لوگوں کو قتل اور گھاٸل کیا ہے تو وہ پریشانی کے عالم میں زمین پہ بیٹھ گیا اور رونے لگا،اور کہنے لگا میں نے محض اقتدار اور طاقت کی حوص میں اتنے لوگوں کی زندگی اوراُن کا سکون چھین لیا۔ ضمیر کی اس ملامت اور احساس ندامت کی بدولت اشوک کے اندر کا ہمدرد انسان جاگ اٹھا۔

اس کے بعد اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا، اس نے اپنی تلوار کو ایک ندی میں پھینک دیا اور اپنی پانچ لاکھ کے قریب فوج کو ہمیشہ کے لئے رخصت پہ بھیج دیا۔ آشوک نے ہندو مت کوترک کر کے بدھ مت مذہب اختیار کر لیا،اس نے ہمیشہ کےلئےشکار کرنا ترک کر کے سبزہ خوری کو اپنا وطیرہ بنا لیا۔اس نے بدھ مت کو مذہبی فلسفے کے طور پہ اپنا لیااور درھم کی فضیلتوں کو رائج کرنے کی کوششیں کرنے لگا۔اس نےعدل و انصاف ، مساوات اور یکساں انسانی حقوق پہ مبنی نظام حکومت قائم کرنے پہ زور دیا۔ اس نے سرکاری طور پہ درھم بخشو ملازم رکھے جو لوگوں کو تقویٰ کی تلقین کرتے تھے۔

آشوکِ اعظم نے بدھ مت کو ایک نئی جلا بخشی، اس نے بدھ مت میں بہت ساری اصلاحات کیں۔ اس نے بدھ بخشووں کو مختلف ممالک میں تبلیغ کے لئے بھی بھیجا جہاں اسے نمایاں کامیابی ملی۔آشوک نے اپنے دورِ اقتدار میں بہت رفاہی کام کیے، اس نے انسانوں اور جانوروں کے لئے طبعی مراکز بنائے، پانی کے بڑے بڑے ڈیم بنا کر آب پاشی کو فروغ دیا اورملک کے کونے کونے تک شاہراوں کا جال بچھا دیا۔ اس نے ایماندار افسر تعینات کئےاور ہر طرف امن و امان اور خوشحالی کو یقینی بنایا ۔ یہی وجہ ہےکہ تاریخ ہندوستان میں آشوک کا دور سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔آشوک کے حکم کے مطابق اس کی زندگی کی تفصیلات اور حکمت عملیوں کو سلطنت کے طول وعرض میں بڑی بڑی چٹانوں اور ستونوں پہ کنند کر کے نسب کر دیا گیا۔جس میں سے بے شمار کنند کی گئی تحریریں آج بھی موجود ہیں۔

آشوک نے تقریبا چالیس سال حکومت کی، اس کی حکومت کا سورج ہندوستان کی وسیع و عریض سلطنت پہ چمکتا تھا،جس میں آج کا بھارت،پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش شامل تھے۔اس نے اتنی بڑی سلطنت کا نظم و نسق اتنے احسن طریقے سے چلایاکہ اس انتظامی انفرادیت کی بنا پہ دنیا آج بھی اسے آشوکا دی گریٹ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آشوک ۲۳۲ قبل مسیح اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔دشاہ اشوکا کی موت کے فورا بعد ہی۔ D.N.Jha لکھتے ہیں کہ 12 ویں صدی کی تاریخ کے کشمیری متن کے مطابق ، اشوکا کا بیٹا جولاکا ایک شیوی تھا اور متعدد بودھی خانقاہوں کی تباہی کا ذمہ دار تھا۔

تحریر : ام عمارہ