ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

اصحاب کہف :ایک مکمل داستان

ابن عباس سے روایت ہے کہ جناب عمر کےخلافت کےدور میں یہودیوں کے عالم کا ایک گروہ آیا ۔۔۔اورحضرت علی نے فرمایا:سوال کرو۔انہوں نے کہا:ہمیں اس قوم کے بار ے میں بتائیں کہ جن کو اللہ نے تین سو نو سال بعد دوبارہ زندہ کیا تھا ۔

آپ نے سورہ کہف کی تلاوت سے آغازکلام کرنا چا ہتے تھے کہ ان کے عالم نے کہا:ہم نے نہ جانے کتنی بار آپ کے اس قرآ ن کو سنا ہے ۔اگر آپ ان کے بارے میں جانتے ہیں تو ان کاقصہ ،ان کی تعداد ،کتے ،غار ،بادشاہ اورشہر کے نام بتائیں ۔

آپ نے “لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم “کہااورفرمایا:اے یہودی برادر! حضرت محمد مصطفیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ سرزمین روم پر ایک شہر تھا جس کا اقسوس تھا ۔وہاں کا بادشاہ نیک اورصالح شخص تھا ۔جب ان کے بادشاہ کا انتقال ہوگیا تو لوگوں میں افراتفری مچ گئی ۔فارس کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ دقیانوس تھا ۔اس نے اس اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک لاکھ آدمیوں کےساتھ اس شہر میں داخل ہوااور اسے اپنا دارالمملکت بنالیا۔وہاں ایک قصر بنایاجس کی لمبائی اور چوڑائی ایک فرسخ تھی۔اس میں چار ہزار سونے کے ستون ،سونے کی ہزار قندیلیں تھیں جن کی زنجیریں چاند کی تھیں۔وہاں خوشبودار تیل جلایا جاتا۔مشرقی اور مغربی حصہ میں ایک سو اسی کھٹکیاں تھیں ۔طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک وہ محل روشن رہتاتھا۔وہاں اسی ہاتھ لمبا اور اسی ہاتھ چوڑا سونے کاتخت تھا۔جس میں چاندی اور جواہرات ٹکے ہوئے تھے اور اس کےاوپر ایک تکیہ تھا۔تخت کےدائیں اوربائیں جانب اسی کرسیاں تھیں جوہرے زبرجد سے مزین تھیں ۔اس پر بطارقہ بیٹھتاتھا۔اس کے بائیں جانب اسی چاندی کی کرسیاں تھیں جو یالال قوت سے مزین تھیں ۔اس پر ہراقلہ بیٹھتاتھا۔تخت بلند ہوتاتھااور بادشاہ کے سر کی زینت بن جایاکرتاتھا۔

یہودی نے سوال کیا:وہ تاج کیساتھا؟ امام نے جواب دیا:وہ جالی دار سونے سے ڈھلاہوا تھا۔اس میں نو ستون تھےاور ہر ستون میں ایک بہت ہی چکمدار موتی تھا۔وہ ایسے چمکتاتھا جیسے سیاہ شب میں کوئی شے چمکتی ہو۔ہراقلہ کے پاس پچا س غلام تھے جو لال کا رنگ کا کمخواب و زربھت اور ہرے رنگ کا اسکرٹ کمخواب زیب تن کئے ہوتےتھے ۔وہ تاج ،چوڑیاں اور پازیب پہنے ہوئے ہوتے تھے ۔ان کے پا س شاہی عصاہوتااور وہ بادشاہ کے قریب کھڑی رہتے۔اس نے چھ (عقلمند)غلام کو وزیر بنایا جس میں سے تین دائیں اور تین بائیں طرف کھڑے رہتے ۔

یہودی نے کہا:ان کے نام کیاتھے ؟ امام نے فرمایا:دائیں جانب والے کے نام ؛تملیخا،مکسلینااور میشیلیناتھے۔اور جو ان کے بائیں جانب کھڑے ہوتے ان کےنام ؛مرنوس ،ویرنوس اور شاذر یوس تھے ۔وہ ان چھ افراد سے ہر کام میں مشورہ لیا کرتاتھا ۔وہ ہر روز اپنے محل کےصحن میں بیٹھتا جبکہ اس کے دائیں جانب بطارقہ اور بائیں جانب ہراقلہ ہوتے تھے ۔تین غلام وارد ہوتے ۔ایک ہاتھ میں سونے کا جام ہوتا جوکہ مشک سے پر ہوتاتھااور دوسرے کےہاتھ میں چاندی کا جام رہتا جو گلاب کے پانی سے پر رہتاتھا۔اور تیسرے کے ہاتھ میں ایک لال رنگ کی چونچ والی سفید چڑیا ہوتی ۔جب وہ بادشاہ اس چڑیا کی طر ف نگاہ کرتا اور پکارتاتو وہ گلاب کے عرق کے جام میں غوطہ زنی کرکے اسے کچھ اپنی چونچ میں لیتی ،اس کےبعد وہ جام مشک میں غوطہ زنی کرتی ،اس سے کچھ حصہ لیتی ،جب بادشاہ دوبارہ آواز لگاتا تو وہ اس کے تاج پر آکر اٹھتی اور اپنے بال و پر کی تما م تر اشیاء کو اس کےسر پر بکھیر دیتی اور جب بادشاہ اس منظرکو دیکھتا تو اس کا دل باغ باغ ہوجاتا۔اسی سبب سے اس نے اللہ کےعلا وہ اپنے خداہونے کا دعویٰ کیا ۔جو شخص اس کی اطاعت کرتا اسے عزت او رلباس سے نوازا جاتا ۔جو اس کے حکم سے سر پیچی کرتا اسے قتل کر دیاجاتا۔۔۔ہر برس وہ ایک نشست کو انعقادکرتے ۔ایک روز مہمان نوازی کےوقت ایک شخص اس کےپاس آیا اورکہاکہ فارس کا لشکر ان پر غلبہ پاچکاہےجبکہ اس کے دائیں جانب بطارقہ کے آدمی اور اس کے بائیں جانب ہراقلہ کے آدمی موجود تھے۔اس خبرسے وہ بہت مغموم ہوا۔یہاں تک اس کےسرکا تاج نیچے گر گیا۔ان تینوں میں سے جو کہ ان کےدائیں جانب تھے ان میں سے ایک کا نام تملیخا تھا۔وہ ایک جوان شخص تھا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا کہ اگر دقیانوس خداہوتا تو وہ اس خبر سے اس قدر رنجیدہ خاطر نہ ہوتا۔وہ نہ پیشاب کرتا،نہ جھپکی لیتااور نہ ہی سوتا۔اس کے افعال خدا کے افعال میں سے نہیں ہیں۔یہ چھ لوگ ایک دوسرے کو اپنے گھر دعوت کرتے تھے ۔اس روزان لوگوں کی تملیخا کے گھر پر دعوت تھی۔اس نے چنندہ غذائیں چن رکھی تھیں ۔اس نے ان سے کہا:اے بھائیوں! میرے دل میں کچھ ایسی چیز پیدا ہوگئی جس نے میرے کھانے پینے اور سونے کو چھین لیاہے ۔انہوں نے سوال کیا:اے تملیخا! وہ کیاہے ؟

اس نے کہا:میں نے ایک لمبی مدت تک اس آسمان کے کےبارے میں غوروفکر کیا اورخود سے کہا کہ اس آسمان کو ایک محفوظ چھت کی شکل کس نے دی ہےجبکہ نہ اس کےاوپر سے کوئی شے وابستہ ہے اور نہ ہی نیچے سے کوئی ستون جڑاہواہے؟کس نے اس آسمان میں چاند سورج جیسی دو تابناک نشانیاں بنائی ہیں؟کس نے اسے ستاروں سے آراستہ کیا ہے؟میں نے اس زمین کےبار ے میں ایک طولانی مدت تک غور وفکر کیا کہ اسے کس نے چھلکتے ہوئے سمندر پر بچھایا؟کس نے اسے اس قدر بلند پہاڑوں کے ساتھ دبا رکھاہےکہ و ہ ہلتی تک نہیں ؟میں نے خوداپنے سلسلے میں غورو فکر کیا کہ کس نے مجھے شکم مادر سے برآمد کیا؟کس نے غذا پہونچائی اور کس نے پرورش کی ؟

یقینا ً ! ان تمام اشیاء کا دقیانوس کے علاوہ کوئی اور خداہے ۔وہ ان میں سے نہیں بلکہ بادشاہوں میں سے ایک ہے ۔وہ آسمانوں میں بڑی طاقت رکھتاہے ۔وہ لوگ اس کےقدموں پر گر پڑے ،بوسہ لیا اورکہاکہ اللہ نے ہمیں آپ کےذریعہ ہدایت کی ہے لہٰذا، آ پ ہمیں مفید مشوروں سے نوازیں ۔تملیخا اپنی باغ میں گیا اور تین سو درہم کی کھجور فررخت کی اور اس دولت کو اپنے بیگ میں رکھ لیا۔وہ لوگ اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے اور شہر سے باہر نکل آئے۔جب وہ لوگ تین میل سفر کرچکے تو تملیخا نے کہاکہ اے بھائیوں ! اب دوسری دنیا آچلی اور اس بادشا ہ کی حکومت کی سرحد ختم ہوگئی ہے۔اب اپنے گھوڑوں سے نیچے اترجاؤ اورپید ل چلنا شروع کردو شاید اللہ ہمارے مشکلا ت آسان فرمادے ۔وہ لوگ اپنے گھوڑوں سے اترے اور روز سات فرسخ پیدل سفر کیا ۔یہاں تک کہ ان کے پاؤں سے خون بہنے لگا ۔پھر ان کوایک چرواہا ملا ۔انہوں نے اس سے کہا:اے چرواہا! کیاتمہارے پاس دودھ یا پانی ہے ؟

اس نے کہا:ہاں ! لیکن تم لوگوں کا چہرہ تو شہزادوں سے ملتا جلتاہے ۔میں گمان کرتاہوں کہ تم بادشاہ سلامت سے فرار اختیار کرہے ہو ۔انہوں نے کہا:اے چرواہا! ہمارے لئے جھوٹ بولنا جائز نہیں ۔اگر ہم تمہیں سچ بتادیں گے تو کیاہم تم سے محفوظ رہ سکے گیں ؟۔۔۔ان لوگوں نے اسے اپنا پورا قصہ بیان کیا۔وہ ان کے قدموں پر گیا ،بوسہ لیا اور کہا:اے لوگوں ! تمہارے افکار بالکل میری طرح ہیں ۔میرے دماغ میں بھی یہی سوال گھو م رہا ہے۔مجھے اتنا وقت دو کہ میں ان جانوروں کو ان کےمالک تک پہونچاآؤں اور پھر آپ لوگوں کےساتھ ہوجاؤں گا۔ان لوگوں نے اس کاانتظار کیا ۔اس نے ان جانوروں کو واپس کیا اور جلدی واپس لوٹ آیا ۔کتے بھی اس کےساتھ ساتھ ہی رہا۔یہودی کھڑاہو ا اور پوچھا:اے علی ! اس کتے کا کیانام تھا؟اس کا رنگ کیساتھا؟

امام نے فرمایا:”لاحول ولاقوۃ الا باللہ “کہااور فرمایا:کتے کا نام قطمیر اور اس کارنگ سفید اور مائل بسیاہ تھا۔ان جو انو ں نےجب کتے کو دیکھا تو یہ فکر کرنے لگےکہ کہیں اس کا بھونکنا ہمارے حضور کو عیاں نہ کردے ۔اس لئے انہوں نے اس پر پتھر پھینکا ۔لیکن اللہ نے اس کتے کو قوت گویائی عطا کی اور اس نے کہا:مجھ سے خوفزدہ نہ ہوں ،میں آ پ کو آپ کےدشمنوں سے محفوظ رکھوں گا۔چرواہا مستقل طور پر چلتارہا یہاں تک وہ ایک بلند پہاڑ پر جاپہونچے ۔وہاں ایک غار تھی جس کانام “وصید “تھا۔غارکے دورازےپر چشمے اور میوہ دار درخت تھے ۔ان لوگوں نے پھل کھائے ،پانی پیا اور سوگئے ۔انہوں نے غار کو اپنی پنا ہ گاہ بنالیا ۔کتا غارکے دروازے پراپناپاؤں لمباکرکے سوگیا۔اللہ نے موت کےفرشتوں کو مبعوث کیا ۔اس نے ان لوگوں کی روحوں کی قبض کیا اور ہر ایک کے لئے دو فرشتوں کا انتظام کردیا۔وہ ان کے پہلو کو دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں جانب بدلتے رہتے ہیں ۔اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:”وتری الشمس اذا طلعت تزا ورعن کھفھم ذات الیمین واذا غربت تقرضھم ذات الشمال ” اور تم دیکھوگے کہ آفتاب جب طلوع کرتاہے تو ان کےغارکےداہنے طرف سے کتراکر نکل جاتاہے اور جب ڈوبتاہے تو بائیں جانب جھک کر نکلتاہے ۔(سورہ کہف 17)

جب دقیانوس اپنی نشست سے واپس آیا تو اس نے ان لوگوں کےبارے میں سوال کیا تو اسے بیاگیا کہ شہر سے کوچ کر گئے ہیں۔ہ اسی ہراز(80,000)گھڑ سواروں کے ہمراہ روانہ ہوچلا ۔ان لوگوں نے انہیں ہر جگہ تلاش کیا یہاں تک کہ وہ غار تک جا پہونچے ۔جب انہوں نے انہیں دیکھا تووہ محوخواب تھے ۔اگر میں انہیں سزا دیناچاہتاتو میں انہیں اتنی سزا نہ دیتا جتنی انہوں نے خود اپنے آ پ کو دے رکھی ہے۔اس نے کہا:مستری کو بلایا جائے ۔ا ن لوگوں نے اس کے دہانے کو پتھر اور چونے سے بند کردیا۔بادشاہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:ان سے کہو کہ وہ اپنے اس پروردگار سے سوال کریں جو آسمان میں ہے ،ان کی حفاظت کرے اور انہیں یہاں سے باہر نکالے۔

حضرت علی نے فرمایا:اے یہودی برادر! وہ حضرات وہاں تین سو نو سال رہے ۔جب اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ کرنا چاہاتواس نے اسرافیل کو ان کی روح لوٹا نے کا حکم دیا۔سو اس نے ایسا ہی کیا ۔و ہ لوگ نیند سے بیدار ہوئے ۔جب سورج طلوع ہواتو ان میں بعض نے کہا کہ شب میں اپنے پروردگا ر کی عبادت نہیں کی تھی ۔وہ لوگ اٹھے جبکہ چشمے کا پانی خشک ہوچکا تھااور درخت مرجھاگئے تھے ۔ان میں سے بعض نے ہمارا معاملہ کتنا عجیب ہے ! یہ پانیوں نے لبریز چشمہ اور ہرے بھرے درخت سب ایک ہی شب میں مرجھاگئے ! انہیں بھوک کا احسا س ہوا۔ان لوگوں نے کہاکہ کچھ سکے دے کر کسی کو شہر بھیجو وہ دیکھے کہ کون سے کھانا بہتر ہےاور تمہارے لئے رزق کا سامان فراہم کرے اور وہ آہستہ جائے اور کسی کو تمہارے بارے میں خبر تک نہ ہو ۔(سورہ کہف آیت 19)

تملیخانےکہاکہ کوئی نہیں جائے گابلکہ میں تمہاری ضروریات کے لئے جاؤں گا۔اے چرواہے ! اپنالبامجھے دو ۔چرواہے نے اپنا لباس انہیں دیا اور وہ شہر سے باہر گئے ۔انہیں شہر سے باہر ایک ایسی جگہ نظر آئی جس کو وہ نہیں پہچانتے تھے ۔اور ایسے راہیں دیکھی جس کا وہ انکار کرنے لگے کہ یہ تو ہم نے نہیں دیکھی تھی۔شہر کےدروازے پر پہونچے تو دیکھا کہ وہاں ہرے رنگ کا پرچم لگاہواہے ج سپر “لاالٰہ اللہ عیسیٰ رسول اللہ “لکھا ہواتھا۔انہوں نے اپنی آنکھیں ملنی شروع کردیں اور کہاکہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہاہوں نا؟وہ داخل شہر ہوئے یہاں تک ایک نانوانی کی دکان پر جاپہونچے اور اس سے پوچھا:اے نانوائی! تمہارے اس شہر کاکیانام ہے ؟ اس نےجواب دیا:اقسوس ۔ تملیخانے کہا:تمہارے بادشاہ کا؟ اس نے کہا:عبدالرحمٰن ۔ انہوں نے کہاکہ یہ لواور مجھے غذا دیدو ۔نانوائی نے اس درہم کے وزن اور اس کی ساخت پر بہت تعجب کیا ۔یہودی کھڑا ہوااور پوچھا:اس درہم کاوزن کیاتھا؟

امام نے فرمایا:۔۔نانوائی نے کہا:لگتاہے تمہیں کوئی خزانہ ہاتھ لگاہے ۔تملیخا نےکہا:نہیں !یہ وہی سکہ ہے جس سے میں تین روز قبل کھجور فروخت کی تھی اور پھر میں دقیانوس کی عبادت کرنے سے فرار اختیار کر گیا۔نانوائی اس کاہاتھ پکڑا اور انہیں باددشاہ سلامت کے پاس لے گیا۔بادشاہ نے پوچھا کہ اس نوجوان کی کہانی کیاہے؟ نانوائی نے کہا:اسے خزانہ ہاتھ لگا ہے ۔

بادشاہ نے کہا:اے نوجوان ڈرومت !ہمارے رسول حضرت عیسیٰ نے ہمیں حکم دیاہے کہ اگر کسی کو خزانہ مل جائے تو اس کاصرف پانچواں حصہ لیاجائے گا۔اس لئے تم اس میں سے پانچواں حصہ دیدو اور پھراپنے فرائض سے آزاد ہوجاؤ۔تملیخا نےکہا:اے بادشاہ سلامت! میں نے کوئی خزانہ نہیں پایاہے ۔میں اس شہرکا ایک (عام )آدمی ہوں۔بادشاہ نےکہا:تم اس شہر کے باشندہ ہو؟آپ نےکہا:جی ہاں ! بادشاہ نےکہا:کیا تم یہاں کسی شخص کوجانتے ہو؟

آپ نےکہا:ہاں !بادشاہ نے پوچھا:تمہارانام کیاہے ؟آپ نے کہا:میرانام تملیخاہے ۔اس نے کہا:مگر اس طرح کے نام توہمارے یہاں نہیں ہیں۔بادشاہ نے کہا:کیا اس شہرمیں تمہارا کوئی مکان بھی ہے؟آپ نے کہا:ہاں !

بادشاہ نے کہاکہ اس سواری پر سوار ہواور میرے ساتھ چلو۔بادشاہ سوار ہوا اور اس کے ساتھ چند حکومتی افراد بھی تھے ۔آپ ان لوگوں کو سب بلند وبالااور عظیم الشان مکان کی طر لے گئے ۔۔۔اور کہا:یہ رہامیرا مکان !آپ نےدق الباب کیا اور اس گھر سے ایک ضعیف شخص برآمد ہوا۔وہ اس قدر مسن ہوچکا تھاکہ اس کی بھوویں اس کی آنکھوں کو ڈچھپائے ہوئے تھیں ۔اس نے کہا:تم کیاچاہتے ہو؟

بادشاہ نےکہا:یہ جوان ایک عجیب شے کی طر ف اشارہ کررہاہے اور مدعی ہےکہ یہ اس کامکان ہے ۔اس معمر شخص نے آپ سے پوچھا:آپ کون ہیں ؟

آپ نے کہا:میں تملیخابن قسطیکین ہوں ۔جیسے اس نے آپ کا نام سنا وہ آپ کے قدموں پر جاگرا،قدم بوسی کرنے لگااورکہاکہ اللہ کی قسم ! یہ میرے جد ہیں ۔بادشاہ سلامت ! یہ انہیں افراد میں سے ہیں جنہوں ے دقیانوس کے خوف سے فرار اختیارکیا تھا۔بادشاہ گھوڑے سے اترااور آپ کو اپنےدوش پر بٹھایا۔لوگ ان کےہاتھ پاؤ ں چومنے لگے ۔اس نے کہا:اے تملیخا! تمہارے دوسرے ساتھی کہاں ہیں ؟

آپ نے غار کاپتہ بتایا۔ان دنوں اس شہر میں ایک مسلمان اور ایک یہودی بادشاہ تھا۔دونوں اپنے گھوڑوں پر اپنے گھڑ سواروں کے ہمراہ چل پڑے ۔جب وہ لوگ غارکے قریب پہونچے تو تملیخانے کہاکہ میں اس بات کاخوف کرتاہوں کہ کہیں میرے ساتھی گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سن کر خوف زدہ نہ ہوجائیں اور پھر یہ گمان نہ کرنے لگیں کہ بادشاہ دقیانوس ان کی تلاش میں آیاہے۔مجھے اجازت اتناوقت دیں تاکہ میں جاؤ اور انہیں باخبر کرسکوں ۔لوگ وہیں ٹھہر گئے ۔آپ گئے یہاں تک غار میں وارد ہوگئے ۔جب آپ نے ان لوگوں کی طرف دیکھا تووہ گروہ کی شکل میں بیٹھے ہوئےتھے۔آپ نے کہا:تمام تعریفیں اس پروردگار عالم کی جس نے تمہیں دقیانوس کے شر سےنجات دلائی ۔۔۔۔

ایک نےکہاکہ تم نے کتنی مدت توقف کیا ہے تو سب نے کہاایک دن یا اس کاایک حصہ ۔(سورہ کہف 19)
ٍٍ تملیخا نے کہا:ہم لوگوں نے تین سو نو سال (309)گذاردیاہے اور دقیانوس اپنے عاقبت کوپہونچ چکاہے ۔صدیاں گز رچکی ہیں ۔اللہ نے ایک نبی کو مبعوث کیاہے جن کا اسم گرامی “عیسیٰ ابن مریم “ہے ۔بادشاہ اس کے ساتھی ہمارے یہاں آئے ہوئے ہیں ۔ان لوگوں نےکہا:اے تملیخا! تم چاہتے ہوکہ ہم عالمین کے لئے فتنہ قرارپائیں ؟تملیخا نے کہا:نہیں ! لیکن تم لوگ کیا چاہتے ہو؟

ان لوگوں نےکہا:اللہ سے دعا کریں جو کہ رحمٰن و رحیم ہے وہ ہماری روح کو قبض کرلے ۔انہوں نے دست دعا بلندکیااور اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا۔پھر اللہ نے غار کےدہانے کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کردیا۔آخرش! دونوں بادشاہ آئے اور سات روز تک اس غار کامحاصرہ کئے رکھا ۔لیکن غار کا دروازہ نہ پاسکے ۔مسلمان بادشاہ نےکہاکہ ان لوگوں نےہمارے مذہب پر اس دنیاسے کوچ کیاہے ۔لہٰذا ، ہم غار کےدہانے پر ایک مسجد تعمیر کریں گے ۔یہودی نے کہا:نہیں ! ان کی زندگی کا اختتام ہمارے مذہب پر ہواہے ۔لہٰذا،ہم غارکے دہانے پر ایک کنیسہ بنائیں گے۔دونوں میں آپسی جنگ ہوئی ۔مسلمان بادشاہ کو فتح نصیب ہوئی اور وہاں ایک مسجد تعمیر کرائی گئی ۔

اے یہودی ! کیا یہ باتیں تمہاری کتاب توریت سے موافقت کرتی ہیں ؟اس نے کہا:آپ نے حرف بہ حرف صحیح بتایاہے اور اس میں کسی قسم کی کمی و زیادتی نہیں کی ہے ۔اب میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کےرسول ہیں ۔

(Jesus through Shiite narrations,Chapter The religion of Jesus)

تبصرے
Loading...