اسلام بلاگ

اصحابِ کہف ، دجال، پہاڑ اور امام حُسین ؓ کا آپس میں کیا تعلق ہے۔

یہ حکم اللہ نے "اصحاب کہف” کو دیا کیونکہ وہ ایک ایسے شہر میں رہتے تھے جہاں ہر طرف فتنہ ہی فتنہ تھا، لوگ طرح طرح کے بتوں کی پوجا کررہے تھے، اسلام یا اس وقت کے نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام لینا بھی جرم سمجھا جاتا تھا، لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے ، قیامت قائم ہونے، یہاں تک کہ جنت و دوزخ کا بھی سرے سے انکار کرنے لگے تھے۔ایک ظالم جابر بادشاہ "دقیانوس” کی حکومت تھی، جو آدمی بت پرستی کا انکار کرتا بادشاہ اسے قتل کروادیتا تھا۔

اتنے زبردست فتنے کے زمانے میں بھی وہاں چند خوشنصیب افراد پھر بھی اللہ کے وحدانیت سے غافل نہیں ہوئے، وہ چند خوشنصیب اس شہر جس کا نام اُفسُوس تھا کے معززین میں سے تھے، ان میں سے ایک بادشاہ کی بیٹی کا شوہر بھی تھا اور یہی ان اصحاب کہف کا سردار بھی تھا جسے یملیخا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان معززیں کو طرح طرح کے بتوں کی پوجا کرنا غلط لگتا تھا کیونک وہ بنی اسرائیل کے اولیاء میں سے تھے، وہ ایک اللہ پر یقین رکھتے تھے اور کسی طرح اپنی قوم کو بھی ایک خدا کی پوجا کرنے کے لیے سمجھانا چاہتے تھے۔

اللہ عزوجل ان کے ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے؛نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّؕ- اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ(13) وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا(14)هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةًؕ-لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍؕ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ (15)
ترجمہ کنز الایمان:ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔ اور ہم نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی جب کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی۔ یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند؟ تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔

جب اصحاب کہف نے دیکھا کہ ظالم بادشاہ دقیانوس اللہ عزوجل کی عبادت یا حضرت عیسی (علیہ السلام) کا نام لینے پر بھی لوگوں کو پکڑ کر سرعام مار مار کر قتل کروا رہا ہے تو انہوں نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کا پروگرام بنایا۔ بادشاہ کو ان کی بغاوت کا علم ہوا تو اس نے انہیں سختی سے منع کیا کہ تم لوگ باز آجاؤ ورنہ تمہیں قتل کردوں گا لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آئے تو دقیانوس بادشاہ ان کے خون کا پیاسا ہوگیا۔ پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی اور دوسری طرف اللہ نے بھی ان کو بچاکر قیامت تک کے لیےانہیں ایک عظیم نشانی بنانا تھا۔

ایک طرف کافروں نے اپنی خفیہ تدابیر کی تو دوسری طرف اللہ عزوجل نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی۔ اللہ عزوجل نے ان معززین (اصحاب کہف) کے سردار یملیخا کے دل میں القاء کے زریعے وحی بھیجی اور فرمایا ؛وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا (14)ترجمہ: کنزالعرفان :
اور جب تم ان لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن کو یہ پوجتے ہیں ان سے جدا ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کام میں تمہارے لئے آسانی مہیا کردے گا۔

قارئین ! یہاں ایک انتہائی غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کی جاء پناہ کے لیے غار کا ہی کیوں انتخاب کیا؟ اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانگی ہوگی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ہمیں دجال کی آمد کی اطلاع ملتے ہی پہاڑوں پر چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔ کیا ان دونوں واقعات میں پہاڑ کا ذکر محض اتفاقی ہے؟ ہرگز نہیں۔چلیں اس کو بھی چھوڑیں، میدان کربلا میں امام حسین (علیہ السلام) جوانانِ اہل بیت سمیت شہید کردیے گئے تو ان کا سر مبارک یزید کے پاس لے جانےکے لیے کربلا سے لیکر شام تک کے تمام بازاروں پر نیزے پر لٹکا کر گھمایا گیا اور اس پورے راستے میں سر مبارک "اصحاب کہف” کی ہی آیات تلاوت کرتا رہا ۔ یہاں تک کہ یزید کی دربار میں پہنچ گا۔ کیا امام حسین (علیہ السلام) کا اصحاب کہف کی آیت تلاوت کرنا محض اتفاق تھا ؟ ہرگز نہیں۔

گر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں اتفاق تھے تو یقین کریں آپ غلط سمجھے ہیں، یہ اتفاق نہیں بلکہ علم کا وہ خزانہ ہے جو ان واقعات پر غور و فکر کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔
اپ میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ ان واقعات کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ ۔پہاڑ ایک ایسی جگہ ہے جہاں دجال کی حکومت قائم نہیں ہوسکے گی یا یوں سمجھیں کہ دجال کی دھوکہ دہی، مکاری اور چال بازی پر مشتمل ٹیکنالوجی کا اثر پہاڑوں پر نہیں ہوگا۔ میری ناقص معلومات کے مطابق احادیث سے دجال کا جو نقشہ کھنچتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال شہروں کی طرف جائے گا، لوگوں کو اپنی ٹیکنالوجی کی چال بازی سے اپنے آپ کو خدا منوانے پر مجبور کردے گا، اس کے پاس دنیا جہاں کی ٹیکنالوجی ہوگی اور جو لوگ بھی اس کے سامنے آئیں گے اسے خدا ماننے سے انکار نہیں کرسکیں گے کیونکہ دجال ایسے ایسے جعلی معجزات دکھائے گا کہ لوگوں کے پاس اسے خدا ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ اسی طرح لوگ اپنا ایمان گنواتے جائیں گے لیکن دجال مدینے میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

یعنی مدینے میں رہنے والے دجال سے محفوظ رہیں گے لیکن باقی دنیا کے لوگ کیسے محفوظ رہیں؟ ان کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا "جب دجال کی آمد کی اطلاع ملے تو (وقت ضایع کیے بغیر) فورا پہاڑوں کی طرف بھاگنا اور غاروں میں چھپ جانا ورنہ اپنا ایمان گنوا بیٹھوگے۔ دوسری طرف اللہ (عزوجل) نے قرآن پاک میں ہمیں اصحاب کہف کے فتنے کے مطلق آگاہ فرماتے ہوئے بھی یہی بتایا ہے کہ ” اصحاب کہف کو فتنے سے بچنے کے لیے حکم دیا کہ فاؤ الی الکف یعنی غار میں پناہ لو”۔

اب آتے ہیں امام حسین (علیہ السلام) کی طرف۔۔۔سردارانِ جنت اور شہید کربلا نے جان لیا تھا کہ میری اور اہل بیت کی شہادت کے بعد "دین اسلام” اور مسلمانوں پر خطرناک فتنہ آچکا ہے، یزید اور پھر اس کی اولاد حکومت کرتے کرتے دنیا سے اصل اسلام کو نیست و نابود کردے گی اس لیے اس فتنے کے دور میں اصحاب کہف والا طریقہ اپنایا اور لوگوں کے بجائے خود کربلا سے لیکر شام تک اصحاب کہف کی آیات تلاوت کرتے گئے تاکہ دین اسلام یزیدی فتنے سے ٹھیک اسی طرح بچ نکلے جس طرح اصحاب کہف 309 سال بعد زندہ ہوکر فتنے سے بچ نکلے تھے۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امام حسین (علیہ السلام) نے اصحاب کہف کی آیات تلاوت کرتے جاتے ہوئے لوگوں کو ایک پیغام دیا کہ سورہ کہف اور خصوصا اصحاب کہف کی آیات کی کثرت سے تلاوت کرو تاکہ تم لوگ اصحاب کہف کی طرح یزید لعنتی کے فتنے سے بچ نکلو اور اسلام دوبارہ زندہ ہوجائے ۔اب واپس آتے ہیں اصحاب کہف کی طرف ۔ ۔ ۔اللہ (عزوجل) فرماتا ہے جب انہوں نے غار میں پناہ لے لی تو یوں دعا مانگنے لگےاِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا (10)ترجمہ کنزالعرفان :جب ان نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی، پھر کہنے لگے: اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے معاملے میں ہدایت کے اسباب مہیا فرما۔

اس دعا کے بعد اللہ (عزوجل) نے اگلی آیت میں فرمایا :فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ (11)ترجمہ کنزالایمان :تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا (دیے)۔یہاں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان کے کانوں پر گنتی کے کئے برس تھپکا دیے اس کا مطلب ہے کہ انہیں کئی سالوں تک نیند سلا دیا۔ ایسی نیند جس سے کوئی آواز نہ جگا سکے۔ کتنے سال نیند سلایا اس کا جواب اللہ عزوجل سورہ الکہف میں ہی آیت نمبر 25 میں ارشاد فرماتا ہے کہ ؛وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا (25)ترجمہ کنزالایمان :اور وہ اپنے غار میں "تین سو برس ٹھہرے نو اوپر”۔ (یعنی 309 سال)اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ اس فتنے سے نکالنے کے لیے اللہ (عزوجل) نے اصحاف کہف کو تین صدیاں اور 9 سال تک سلائے رکھا۔ یہ محض نیند ہی نہیں تھی بلکہ ایک بہت بڑا معجزا تھا بلکہ ایک نہیں کئی معجزات تھے اور ان کے سونے اور پھر زندہ ہوکر اٹھانے میں بھی حکمت تھی۔اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ اللہ (عزوجل) نے اصحاب کہف کو اتنی زیادہ نیند کیوں سلایا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔

دراصل جس دور میں اصحاب کہف بھاگ کر غار میں چھپے تھے اس دور کا بادشاہ "دقیانوس” بڑا ظالم جابر تھا، وہ بت پرستی پر اپنی عوام کو مجبور کرتا تھا اور جو بت پرستی کے علاوہ کسی اور کو پوجے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام بھی لے تو اسے پکڑ کر سرعام چوک پر کوڑے مار مار کر قتل کروادیتا تھا۔ اصحاب کہف نے دعا مانگی تھی کہ ہمیں اس فتنے سے بچالے۔ جب وہ غار میں چھپے تو دقیانوس کو معلوم ہوگیا کہ وہ قریبی پہاڑ کے ایک غار میں چھپے ہوئے ہیں، بادشاہ نے حکم دیا کہ غار کو باہر سے بند کردو تاکہ وہ وہیں مر جائیں اور یہ غار ہی ان کی قبر بن جائے۔ دقیانوس کے لوگوں نے غار کو باہر سے دیوار بناکے بند کردیا اور غار کی ایک طرف تختی پر ان سب کے نام اور ان کے کتے کا نام لکھ کر چھوڑ دیا اور ایسی ہی ایک تختی سرکاری خزانے میں بھی جمع کروادی گئی۔

بعد میں زندگی کی گاڑی چلتی رہی، زمانے گزرتے گئے، ایک بادشاہ مرگیا دوسرا آگیا، دوسرا مرا تو تیسرا آگیا۔ اس طرح زمانے گزرتے گئے اور ایک ایسا زمانہ آگیا کہ جس کا بادشاہ نیک سیرت تھا، اس کا نام "بیدروس” تھا، وہ مسلمان تھا، اللہ پر یقین رکھتا تھا ۔ اس کے دور میں فرقہ بازی پھیلنے لگی، کچھ لوگ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کا انکار کرنےلگے، کچھ قیامت کا انکار کرنے لگے تو کچھ جنت و دوزخ کا ہی انکار کر بیٹھے۔ بیدروس نیک سیرت بادشاہ تھا۔ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اور رو رو کر اللہ عزوجل سے دعا مانگنے لگا کہ اے اللہ کوئی ایسی نشانی ظاہر فرمادے کہ میری رعایا مرنے کے بعد جی اٹھنے اور قیامت قائم ہونے پر ایمان لے آئے ۔

اللہ (عزوجل) کو پہلے سے معلوم تھا کہ ایک زمانہ آئے گا جب ایک نیک سیرت بادشاہ اپنی دعایا کو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا یقین دلانے کے لیے مجھ سے یہ دعا مانگے گا اس لیے اللہ (عزوجل) نے پہلے سے ہی اس کا انتظام "اصحاب کہف” کی صورت میں کر رکھا تھا۔ اصحاب کہف کو ٹھیک اتنے سال تک ہی سلائے رکھا جب تک اس نیک سیرت بادشاہ بیدروس کی بادشاہی نہ شروع ہوجائے۔ بیدروس کا زمانہ آیا تو ایک بکریاں چروانے والے نے اپنی بکریوں کے آرام کے لیے اس غار کو چنا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس غار کے باہر لگی دیوار کو گرادیا۔ جیسے ہی دیوار گرائی تو اللہ عزوجل کی طرف سے اصحاب کہف کی حفاظت کے لیے مقرر کیے گئے فرشتے نے ان سب کو ہیبت ناک کردیا اور وہ سب بھاگ گئے۔ اسی دوران اللہ عزوجل نے اصحاب کہف کو نیند سے جگادیا۔عقل انسانی کو مزید حیرت کے جھٹکے لگانے کے لیے یہاں میں آپ کو مزید دو اہم عقل سے ماورا حکمتیں سمجھاتا ہوں۔ ۔ ۔

اصحاب کہف کا جو غار تھا وہ چاروں طرف سے بند تو تھا لیکن اوپر چھت کی جانب سے کھلا آسمان تھا۔ جب سورج طلوع ہوتا تو دائین طرف سے آتا اور بائیں جانب کو چلتا جاتا ہوا غروب ہوجاتا تھا۔ 309 سال تک یوں ہی سورج روزانہ اصحاب کہف کے اوپر طلوع و غروب ہوتا رہا لیکن حیرت انگیز طور پر اتنے سالوں میں اصحاب کہف کو کبھی سورج کی کرنوں نے چھوہا تک نہیں۔ نہ ہی ان کے جسم کو مٹی یا کیڑوں مکوڑوں نے کھایا۔ یہ اللہ کا ایک بہت بڑا معجزہ تھا۔ اس کا ذکر اللہ عزوجل اسی سورہ کہف میں کچھ یوں فرماتا ہے کہ ؛

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِؕ-مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِۚ-وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ (17))ترجمہ کنزالایمان :اور اے محبوب تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے دہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو انہیں بائیں طرف کترا جاتا ہے حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے۔

دوسری عقل سے ماورا حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اصحاب کہف تین صدیاں اور نو سال (یعنی 309 سال) تک سوئے رہے، ہر سال 10 محرم کو ایک مرتبہ نیند میں ہی ان کا رخ دائین بائیں بدلا جاتا رہا، اتنے عرصے تک سونے کے بعد جب اللہ عزوجل نے انہیں جگایا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ ہم کتنے عرصے تک سوئے رہے ؟ دوسرے بولے ” ایک دن سوئے یا اس سے بھی کم۔ دراصل جس وقت وہ دقیانوس کے ظلم سے بھاگ کر غار میں آکر سوئے تھے وہ فجر کا وقت تھا اور جب 309 سال بعد اٹھے تو اس وقت سورج غروب ہورہا تھا یعنی مغرب کا وقت تھا، تو انہوں نے محسوس کیا کہ ہم صبح سوئے تھے اور مغرب کے وقت اٹھ گئے ہیں۔ ہے نہ حیرت انگیز بات؟

تین سو نو سال تک سونے کے بعد اٹھنے پر بھی انہیں ایسے لگا جیسے ابھی صبح ہی تو سوئے تھے۔ ان کے سردار "یملیخا "نے کہا کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ ہم کتنا عرصہ سوئے۔ علماء کہتے ہیں کہ انہوں نے سونے کے اوقات پر اس لیے بحث کی کہ شاید انہوں نے اپنے بڑھے ہوئے ناخن دیکھے تھے یا انہیں سر پر سفید بال آگئے تھے جب ہی وہ سوچ میں پڑ گئے کہ ہم کتنا عرصہ سوئے۔ خیر ان کی اس گفتگو کو اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ؛وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْؕ-قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْؕ- قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍؕ-قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْؕ-فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا (19) اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا (20)ترجمہ کنز الایمان:اور یونہی ہم نے ان کو جگایا کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں، ان میں ایک کہنے والا بولا تم یہاں کتنی دیر رہے؟ کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم، دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھرے، تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ ستھرا ہے کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے بےشک اگر وہ تمہیں جان لیں گے تو تمہیں پتھراؤ کریں گے یا اپنے دین میں پھیر لیں گے اور ایسا ہوا تو تمہارا کبھی بھلا نہ ہوگا۔

اصحاب کہف کو اٹھنے کے بعد بھوک لگی، انہوں نے ایک ساتھی کو بھیجا کہ جاکر دقیانوس بادشاہ کا ہمارے بارے میں حال احوال کرکے آؤ اور یہ سکا لے جاؤ اس سے کچھ اچھا کھانا بھی لے آؤ۔ وہ گیا تو شہر کو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ جو عمارات اس کے دور میں صدیاں پہلے تھیں وہ سب اب کنڈرات کا منظر پیش کر رہی تھیں اور جو لوگ کل تک اپنا ایمان ظاہر کرتے ہی قتل کردیے جاتے تھے وہ آج بات بات پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام کی قسمیں کھاتے نظر آئے۔ اس نے یہ سب دیکھا تو اسے حیرت کےشدید جھٹکے لگے اور سوچنے لگا کہ ابھی کل ہی تو ہم اس شہر سے دقیانوس کی وجہ سے بھاگ کر غار میں چھپے تھے لیکن اب یہ لوگ اور یہ شہر ؟ یہ کیا ماجرا ہے؟ اسے سمجھ نہ آیا، وہ روٹیاں لینے کے بجائے واپس اپنے ساتھیوں کے پاس غار میں جاتا ہے اور انہیں ساری صورتحال بتادیتا ہے۔ سب حیران و پریشان کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ اسی دوران ان کا سردار یملیخا سب کو غار میں چھوڑ کر نکلتا ہے اور شہر کا حال احوال معلوم کرنے جاتا ہے، وہ روٹیاں خریدنے کے لیے اپنے پرانے دور کا سکہ دیتا ہے لیکن اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا ہے، اللہ عزوجل تندور والے کے دل میں یملیخا کے بارے میں شک ڈال دیتا ہے۔ تندور والا صدیاں پرانا سکہ دیکھ کر سمجھتا ہے کہ ضرور اس کے پاس کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ وہ لوگوں کو بتا دیتا ہے، لوگ یملیخا کو گھیر لیتے ہیں اور اس پر شک کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کی حکمت کام کرتی ہے کیونکہ اللہ بھی یہی چاہتا ہے کہ لوگ یملیخا اور اس کے ساتھیوں کو پہچانیں۔

بات بڑھ جاتی ہے، نئے نیک سیرت بادشاہ "بیدروس” کے سپاہی آجاتے ہیں اور یملیخا کو پکڑ کر حاکم شہر کے پاس لے جاتے ہیں، نیک سیرت حاکم شہر یملیخا سے پوچھتا ہے کہ بتاؤ خزانہ کہاں ہے لیکن یملیخا کہتا ہے میرے پاس کوئی خزانہ نہیں یہ میرا اپنا ہی سکہ ہے جو میں کل ہی اس شہر سے بھاگتے ہوئے لے گیا تھا۔ حاکم شہر کہتا ہے کہ تمہاری بات کسی طرح بھی قابل یقین نہیں ہے کیونکہ اس سکے پر جو سن لکھا ہوا ہے وہ صدیاں پرانا ہے اور تم ابھی جوان ہو جبکہ ہم بوڑھے ہیں، ہم نے یہ سکا کبھی دیکھا ہی نہیں تو صاف صاف بتاؤ یہ سکہ تم نے کہاں سے حاصل کرلیا؟ یملیخا سمجھ جاتا ہے کہ ضرور اللہ عزوجل نے ہمیں کسی آزمائش میں ڈالا تھا یا ہم بہت بڑا زمانہ سوکر اٹھے ہیں۔ یملیخا حاکم شہر سے کہتا ہے جو پوچھوں اس کا جواب دو پھر معاملہ حل ہوجائے گا۔ پہلے یہ بتاؤ "دقیانوس”بادشاہ کہاں ہے۔ حاکم شہر کہتا ہے اس وقت روئے زمین پر دقیانوس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہے، ہاں البتہ صدیاں پہلے اس نام کا ایک کافر بادشاہ گزرا ہے۔ یملیخا کو اب پورا یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ نے صدیوں تک اسے اور اس کے ساتھیوں کو غار میں سلائے رکھا تھا۔ یملیخا حاکم شہر کو ساری صورتحال بتادیتا ہے کہ ہم دقیانوس بادشاہ کے ظلم اور تشدد کی وجہ سے یہ شہر چھوڑ کر قریبی غار میں چھپ گئے تھے اور یہ کہ میرے ساتھی قریبی غار میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور کہا آؤ میں تمہیں ان سے ملوادوں۔

پھر حاکم شہر یملیخا کے ساتھ ایک بڑا لشکر لے کر غار کی طرف روانہ ہوتا ہے اور یوں اصحاب کہف کا راز کھل جاتا ہے۔اس ساری صورتحال کو اللہ عزوجل سورہ کہف کی آیت نمبر 21 میں یوں بیان فرماتا ہے کہ :وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا ﱐ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًاؕ-رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْؕ- قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا (21)ترجمہ کنزل الایمان:اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں۔ جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔

یملیخا حاکم شہر اور ایک بڑے لشکر کو لیکر غار تک آتا ہے، حاکم شہر غار میں آکر یملیخا کے ساتھیوں سے ملتا ہے، جب سب کو اصحاب کہف کا پتا چل جاتا ہے تو لوگ مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ ان عظیم ہستیوں کی جگہ یعنی غار پر کوئی عمارت بناؤ کیونکہ اللہ انہیں خوب جانتا ہے، حاکم شہر بادشاہ "بیدروس” کو اطلاع کرواتا ہے۔ بادشاہ اور وزراء وہاں آجاتے ہیں ۔ بادشاہ بیدروس اصحاب کہف سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ قسم ہے ضرور ہم یہاں مسجد بنائیں گے۔

علماء کہتے ہیں پھر بادشاہ نے وہاں ہر سال لوگوں کا آنا اور نوافل پڑھنا ضروری قرار دے دیا یعنی ہر سال ایک خوشی (عید) کا دن مقرر کردیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اولیاء اللہ کے مزار بنانا، ان کا ہر سال عرس کرنا اور مزار کے ساتھ مسجد بنانے کا اصل یہی قرآنی آیت ہے۔ اللہ عزوجل نے خصوصی طور پر اس کا ذکر فرمایا ہے اور اسے غلط نہیں کہا۔ اصحاب کہف بھی امت محمدیہ کے اولیاء کی طرح قوم بنی اسرائیل کے اولیاء تھے۔

آپ کے ذہن میں سوال آسکتا ہے کہ اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی؟ کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا، کچھ کہتے ہیں وہ سات تھے آٹھواں ان کا کتا تھا تو کچھ نو پر اتفاق کرتے ہیں اور دسواں ان کا کتا مانتے ہیں۔ اللہ (عزوجل) نے اسی سورۃ میں فرمایا کہ تم لوگ ان کی تعداد جاننے کے لیے فضول بحث مت کرو، بس جتنا بتایا گیا ہے اسے کو جان لو، وہ جتنے بھی تھے اللہ انہیں خوب جانتا ہے اس لیے تم تعداد کو چھوڑ کر صرف اس واقعے پر غور کرو کہ اللہ نے انہیں کتنے سال سلایا اور کس طرح زندہ کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ عزوجل اسی سورۃ میں یہ بھی فرماتا ہے کہ انہیں کچھ "تھوڑے لوگ” جانتے ہیں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا؛

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْۚ- وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِۚ- وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْؕ- قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ ﲕ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا۪-وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا ۠ (22)ترجمہ کنزالایمان:اب کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا بے دیکھے الاؤ تکا(بے تکی) بات اور کچھ کہیں گے سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا، تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے، تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی اور ان کے بارے میں کسی کتابی سے کچھ نہ پوچھو۔

اللہ عزوجل نے اس آیت میں فرمایا کہ انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے۔ وہ تھوڑے لوگ کون تھے جو اصحاب کہف کو جانتے تھے؟ اس کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی ان میں شامل ہوں جو اصحاب کہف کو جانتے ہیں، پھر آپ نے ان کے نام اور تعداد بھی بتائی ہے۔ فرمایا کہ وہ ساتھ تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا اور ان سب کے نام یہ تھے۔۔ یملیخا۔ ۔ مرطونس۔ بینونس۔ سارینونس۔ ذونوانس۔ کشفیط طنونس۔ قطمیر (کتے کا نام)

اصحاب کہف کو صدیاں بعد زندہ دیکھ کر بادشاہ بیدروس کی قوم (جو فرقوں میں بٹ گئی تھی) کو یقین ہوگیا کہ واقعی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا حق ہے اور قیامت ضرور قائم ہونی ہے۔ بادشاہ نے دوبارہ جی اٹھنے پر اپنی رعایا کے ایمان لانے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اصحاب کہف کو غار سے نکل کر اپنے ساتھ چلنے کو کہا لیکن یملیخا نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں سے مشور کرلوں۔ جب غار میں جاکر اپنے ساتھیوں کو پورا قصہ سنایا کہ کس طرح میں پکڑا گیا اور ہمارے وقت کا ظالم بادشاہ دقیانوس صدیاں پہلے مرچکا ہے، ہم صدیاں بعد اس لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ اس قوم کو مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت پر ایمان لانے کے لیے بطور دلیل بن جائیں تو سب نے صورتحال جان کر ایک طرف اللہ کا شکر ادا کیا کہ اے االلہ تو نے ہمیں اس ظالم کافر بادشاہ دقیانوس کے فتنے سے بچایا لیکن دوسری طرف انہوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اس دنیا میں ہمارا کام ختم ہوچکا ہے اب ہم دوبارہ دنیا میں واپس جاکر کیا کریں گے؟ اس لیے انہوں نے اپنے سردار یملیخا کو بھیجا کہ بادشاہ کو خداحافظ کہہ کر واپس بھیج دے۔ یملیخا نے بادشاہ کے ساتھ ملاقات کی اور اسے کہا کہ اب ہمارا کام ختم ہوچکا ہے، ہم تمہیں اور تمہارے ملک کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں، اللہ تمہارے ملک کی انسانوں اور جنات کے شر سے حفاظت فرمائے۔ والسلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اس کے بعد اصحاب کہف نے غار میں ہی نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ نماز کے دوران جب سجدے میں گئے تو اللہ (عزوجل) نے حالت سجدہ میں ہی ان سب کی روح قبض کرلی اور وہ وہیں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بادشاہ کو ان کی وفات کا علم ہوا تو بادشاہ سمیت پوری رعایا بہت روئی اور ان کے غار پر عمارت اور ساتھ میں مسجد بنوادی جبکہ اصحاب کہف کی وجہ سے بیدروس کی قوم کے تمام فرقے بھی ختم ہوگئے۔

قارئین ! اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب زمین پر ہر طرف فتنے ہی فتنے ہوں اور اتنے شدید فتنے ہوں کہ ان سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہ آئے تو ہمیں پہاڑوں پر چلے جانا ہے۔ مثال کے طور پر ایسی ہی حالت دجال کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ہوگی اور اس وقت روئے زمین کے تمام شہر مومن مسلمانوں پر تنگ ہوجائیں گے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی دجال کو قتل نہیں کرسکے گا۔ یہ کام صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کریں گے اس لیے جب تمہیں دجال کی آمد کی اطلاع ملے تو فورا شہروں کو چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے جانا۔

پہاڑوں پر اس لیے کہ وہاں دجال کی طاقت اور ٹیکنالوجی کام نہیں کرے گی۔ اور اگر پہاڑوں پر نہیں جاؤ گے اور دجال سے لڑنے یا مذاکرہ کرنے کی کوشش کروگے تو چاہے کتنے بھی پکے مومن ہی کیوں نہ ہو پھر بھی دجال کو خدا ماننے پر مجبور ہوجاؤ گے کیونکہ دجال کے پاس دنیا جہاں کی ٹیکنالوجی ہوگی، وہ مردوں کو زندہ کردے گا، وہ بنجر زمین سے اناج اگا سکے گا، وہ سحرا میں بارش برسا سکے گا، سوائے چند ایک کے دجال ہر وہ کام کرسکے گا جو اللہ کے سوا کوئی انسان نہیں کرسکتا اس لیے تم اس سے کبھی مقابلا نہیں کرسکو گے بلکہ وہ تمہیں شکوک و شبہات میں ڈال کر تمہارا ایمان چھین لے گا اور تم کافر ہوکے مرجاؤ گے اس لیے جیسے ہی دجال کی آمد کی اطلاع ملے تو پہلا کام یہ کرنا ہے کہ فورا اس سے جتنا ہوسکے دور بھاگنا ہے اور "فاؤ الی الکھف” – غار میں پناہ لو ۔

تحریر: یاسررسول