ادب

’’راہب کیکڑا اور مصور آرٹ شارٹ‘‘

پچھلے چند برسوں سے میں تقریباً گوشہ نشین ہوں۔ سویرے سویرے ماڈل ٹائون پارک میں‘ پھر دوستوں سے فضول نوعیت کی گفتگو اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فضول قسم کی گفتگو اور نیم فحش لطیفوں کا تبادلہ بھی انسان کو نارمل اور صحت مند رکھتا ہے۔ ہمہ وقت سنجیدہ ادبی گفتگو اور فلسفیانہ موشگافیاں خاص طور پر اس عمر میں بندے کو چڑ چڑا کرنے کے علاوہ قبض بھی کر دیتی ہیں۔ سیر سے واپسی پر سبزیاں ترکاریاں اور دہی خرید کر میں گھر آتا ہوں اور پھر مجال ہے گھر سے باہر قدم بھی رکھوں۔ گوشہ نشین ہو جاتا ہوں اور گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے۔

انگریزی محاورے کے مطابق میں ایک ’’ہزمٹ کریب‘‘ یعنی ’’راہب کیکڑا‘‘ ہو چکا ہوں‘ اپنے گھر کی چٹان کے کونے کھدروں میں پڑا رہتا ہوں۔ لیکن کبھی ماضی کی مشہوریاں اور شہرتیں یاد آتی ہیں کہ کبھی ہم بھی خوبصورت تھے اور دل میں ایک لہر سی اٹھتی ہے اک تازہ ہوا سی چلتی ہے کہ کہاں گئے وہ دن۔ جی چاہتا ہے کہ پھر سے ہم درجنوں کیمروں کا مرکز ہوں۔ سینکڑوں آنکھوں میں بہار تو نہیں خزاں بن کے اتریں ۔ کچھ تالیاں بجیں خلق خدا ہم سے جڑ جڑ کر سیلفیاں اتارے اور یاد رہے خلق خدا میں موٹے مرد ہرگز شامل نہیں۔ ہم ہجوم نازنیناں اور مہ وشاںمیں گھرے معطر معطر ہو رہے ہوں اور ان کی قربت میں سلگ سلگ جاتے ہوں۔ چنانچہ جب پی ٹی سی ایل کے زبیر اکرم نے مجھے فون کیا اور نہائت ڈرتے ڈرتے گزارش کی کہ سر میں جانتا ہوں کہ آپ کہیں نہیں آتے جاتے۔ خاص طور پر شام کے کناروں میں لیکن میرا ایک دوست اور برخوردار عمران علی کاظمی جو کہ ایک مایہ نواز نہیں مایہ ناز بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور بھی ہے مجھ سے سفارش چاہتا ہے کہ آپ اس کی ترتیب شدہ نوجوان مصوروں کی نمائش کا افتتاح کریں۔

پیکجز مال کے گرائونڈ فلور پر واقع مصور آرٹ گیلری کے تصویری ہال میں سر میںنے وعدہ کر لیا ہے کہ میں آپ کو منا لوں گا۔ سر میرے وعدے کی لاج رکھ لیجئے۔ زبیر نہیں جانتا تھا کہ میں جو پہلے سے ہی تیار بیٹھا تھا کہ کاش کوئی بلائے اور پرانی مشہوریاں پھر سے میرے آس پاس مشک بار ہوں تو میں نے کہا سب شگفتہ شگفتہ بہانے تیرے ایسے واجبی سے بہانے کئے اور پھر اس کی کچھ منت سماجت کے بعد ایک ایسی عورت کی مانند مان گیا جس نے پہلے سے طے کیا ہوا ہوتا ہے کہ وہ مان جائے گی۔ ابتدا میں روائتی نہیں نہیں‘ کرتی ہے اور پھر مان جاتی ہے۔ چنانچہ میں زبیر اکرم کے ہمراہ جب پیکجز مال میں مصور آرٹ گیلری پہنچا تو وہاں اعجاز آرٹ گیلری والا محمد رمضان میرے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔ کیا یہ آرٹ گیلری بھی تمہاری ہے؟ میں نے پوچھا ’’سر آپ کو شائد یاد نہیں جب میں نے دوبئی میں ایک پاکستانی آرٹ گیلری قائم کی تھی تو اس کے نام کے لیے آپ ہی سے تو مشورہ کیا تھا اور آپ نے ہی تو انگریزی میں اس کے ہجے مجھے بتائے تھے۔

محمد رمضان پاکستانی آرٹ کے جہان میں ایک چھوٹا سا معجزہ ہے۔ کسی زمانے میں وہ فردوس مارکیٹ کی ایک کھوکھا نما دکان میں تصویریں اپنے ہاتھ سے فریم کیا کرتا تھا اور اس کے ہاتھوں میں ایسا ہنر تھا کہ اس کے بنائے ہوئے فریم میں تصویر زندہ ہو جاتی تھی۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنی ہنر مندی اور لیاقت سے پاکستانی مصوروں کی تصویروں کو یوں مارکیٹ کیا کہ وہ خوشحال ہو گئے اور ان کے ساتھ وہ بھی خوشحال ہوگیا۔ کسی نے سعید اختر سے شکائت کی اور سعید بلا شبہ عہد حاضر کا سب سے عظیم مصور ہے کہ سعید صاحب رمضان نے آپ سے آپ کی فلاں تصویر اتنے لاکھ میں خریدی اور اسے دوگنی قیمت میں آگے فروخت کر دیا تو سعید اختر نے کہا یہ پہلا شخص ہے جس کی وجہ سے ہماری تصویروں کا مول پڑا۔ اب وہ ہماری تصویریں بے شک دوگنی قیمتوں پر فروخت کر دے اس میں کیا فرق پڑتا ہے۔ پہلے تو ہمیں کوئی خریدتا ہی نہیں تھا۔ رمضان کے علاوہ شائد یہ اس کی گیلری کی انچارج تھی جس نے فوری طور پر ایک بہت بڑا اور بھاری سفید پھولوں کا گلدستہ یعنی ’’بوکے‘‘ میری جھولی میں ڈال دیا اس کا بوجھ اتنا تھا کہ میری ٹانگیں لرزنے لگیں اور میں نے اسے صبح کی سیر کے دوست فرید احمد کو تھما دیا۔ غرض کہ بڑی رونقیں تھیں۔

سرخ فیتے کو کاٹنے کے لیے مجھے جو سرخ ربن باندھے ہوئے ایک طشتری میں سجی قینچی پیش کی گئی وہ ’’کھنڈی‘‘ تھی۔ میں نے درجن بھر کیمروں کی جانب اپنے پورے نصف درجن باقی ماندہ دانت نکال کر دیکھتے ہوئے جب سرخ ربن کاٹنے کی کوشش کی تو وہ کاٹے نہ کٹے رے۔ گیت گانے لگا۔بالآخر دکھ کا یہ ربن کٹ ہی گیا۔ گیلری میں نمائش شدہ سبھی نوجوان مصوروں کی تصویریں تھیں میں انہیں دیکھتا جاتا تھا اور فخر کرتا جاتا تھا کہ میرے پاکستان میں ایسے ایسے باکمال مصور ہیں جن کے تصویری کام کو دنیا بھر کی آرٹ گیلریز میں آویزاں ہونا چاہیے۔ عمران علی کاظمی ‘ حبیب خاتھر‘ ماریا یاسین ‘ مہوش شوکت ‘ محمد حسین‘ قاضی نعیم‘ سدرا عاصم‘ سبھل خرم اور طیبہ رشید یہ سب پاکستان کے نہائت تخلیقی لوگ میرے ساتھ ساتھ چلتے تھے اور اپنی تصویروں میں نقش کیفیتوں کو بیان کرتے تھے۔

میرے سامنے تخلیق کی شراب کے جام لبریز تھے اور میں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر سکتا تھا کہ سب کے سب جام خمار آمیز اور پرکشش تھے۔ اس نمائش کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کی جانب سے جو درجنوں کیمرے مجھ پر مرکوز تھے میں نے ان سے مخاطب ہو کر یہی کہا کہ بڑا ادب اور بڑی مصوری دکھ اور رنج کی کسک کی کوکھ میں سے جنم لیتی ہے اور ہم لکھنے والے اور یہ نوجوان مصور ’’خوش نصیب‘‘ ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں دکھ بہت ہیں رنج زیادہ ہیں۔ ہمارے قلم اور برش خون میں بھیگے رہتے ہیں ۔ مثلاً کوئٹہ کا ہزارہ نوجوان مصور حبیب خاتھر جس کے سامنے اس کے قبیلے کے سینکڑوں لوگ صرف اس پاداش میں مارے گئے کہ ان کا عقیدہ مختلف تھا۔ مارے جانے والے بچوں اور عورتوں کی لاشیں تابوتوں میں کھلے آسمان تلے پڑی رہیں۔ پاکستان میں ہزارہ قبائل کی جس طور باقاعدہ نسل کشی کی گئی اور وہ ہزارے ہزاروں کی تعداد میں فرار ہو کر گہرے سمندروں میں فلپائن اور انڈونیشیا جانے کے لیے نکلے اور بہت سے ڈوب گئے۔ تو میں نے کچھ کالم ان کی حالت زار پر لکھے اور یقین جانیے پاکستان نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے لیے بلکہ اپنے ہی مذہب میں ایک جدا عقیدہ رکھنے والوں کے لیے بھی بدترین ملک ہے۔ حبیب نے اپنے دکھ کو تصویروں میں نقش کئے۔ کھرمنگ بلتستان کے ایک مصور نے مجھے بہت متاثر کیا کہ اس کے نقش اور تصویریں سب سے جدا تھیں۔

عمران کاظمی کی پورٹریٹ اتنی کاملیت رکھتی تھیں جیسے کسی ریمبرانٹ نے ان کو تصور کیا ہو۔ ماریہ یاسین نے ’’ونی‘‘ کے رواج کو موضوع بنا کر عورت کو ایک ایسی مرغی کی صورت پیش کیا تھا جسے اس کے سگے ذبح کر دیتے ہیں۔ مہوش شوکت کی ہر تصویر میں اس کے اپنے نقش نمایاں ہوتے تھے۔ اس نمائش میں واحد مجسمہ ساز قاضی نعیم تھا جس نے اپنے چوبی مجسموں میں تصوف کے چولہے تراشے تھے۔ سبھل خرم کی سیلف پورٹریٹ بے مثال تھی۔ مجھے اس سے عشق ہو گیا۔ طیبہ رشید ایک حجاب آور مصورہ۔ جس کی تصویریں حیران کرتی تھیں۔ یہ وہ نوجوان مصور ہیں جو ایک نیا پاکستان ہیں۔ پنجاب کا چیف منسٹر نہیں جو جہازوں میں اڑا پھرتا ہے اور پاکپتن بازار اس کے بند ہو جاتے ہیں اور بابا فرید کے مزار پر موجود زائرین کو دھکے دے کر نکال دیا جاتا ہے۔ کوئی جانے کون سا چوہان وزیر اطلاعات وغیرہ نہیں جانتا کہ زبان کیا ہوتی ہے اور بدزبانی کیا ہوتی ہے۔ وزارت کے نشے میں بولایا ہوا پھرتا ہے۔ یہ نہیں‘ یہ نوجوان مصور ایک نیا پاکستان ہیں۔

اس نمائش کے دوران بشیر احمد سے ملاقات ہو گئی جو صرف مجھے ملنے کے لیے چلا آیا تھا۔ استادبشیر احمد جس نے منی ایچر پینٹنگ یعنی مختصر تصویر کشی کی بنیاد رکھی اور آج دنیا بھر میں اس کے شاگرد‘ کیا شازیہ سکندر اور کیا عمران قریشی اتنے نامور ہو چکے ہیں کہ ان کے برش کی ایک سٹروک لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کی شناخت نہ کوئی میاں صاحب اور نہ کوئی زرداری یا عمران ہوتے ہیں صرف ادیب اور مصور ہوتے ہیں کہ یہ وہ ملامتی صوفی ہوتے ہیں جو بغیر غرض کے بغیر کسی لالچ کے پاکستان کی عظمت کے چراغ جلاتے جاتے ہیں۔

از مستنصر حسین تارڑ

لکھاری کے بارے میں

مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔

Loading...