کالمز

آرمی چیف کی تاجروں سے مٹینگ کی اندورنی کہانی

آرمی چیف کی تاجروں کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کے بارے میں بڑی کھپ مچائی گئی- اس میٹنگ کی اندرونی کہانی آپ کے سامنے پیش خدمت ہے- اس میٹنگ میں جو بڑے بڑے تاجر تھے ان میں سلطان لاکھانی (ایکسپریس نیوز)، میاں عامر محمود (دنیا نیوز)، میاں منشا ( نشاط چونیاں گروپ)، ملک ریاض، علی حبیب، عارف حببیب، گوہر اعجاز، سلطان علیانہ، زبیر طفیل ، عقیل کریم ڈھیڈی اور حسین داؤد (اینگرو گروپ) والے شامل تھے-حکومت کی طرف سے اس میٹنگ میں حماد اظہر، شبر زیدی اور حفیظ شیخ موجود تھے-

میٹنگ کا ایجنڈا یہ تھا کہ ملک کے 30 بڑے بزنس مین کو بلا کر ان سے پوچھا جائے کہ آپکو کیا کیا مسائل ہیں-بزنس مینوں نے یہ شکایت کی ہمیں نیب بہت تنگ کرتی ہے- تو آرمی چیف نے کہا کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ بزنس مینوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنادیتے ہیں جس کسی پر الزام آئے وہ بزنس مینوں کی کمیٹی اس کی تحقیقات کرے اور وہ فیصلہ دے کہ نیب کو اس کے خلاف کاروائی کرنی چاہیئے یا نہیں- اس پر اتفاق کرلیا گیا-

پھر بزنس مینوں نے آرمی چیف سے کہا کہ سمگلنگ کو بند کیا جائے تو آرمی چیف نے کہا افغانستان والی سایئڈ پر ہم باڑ لگارہے ہیں وہاں باڑ مکمل ہونے کے بعد سمگلنگ تقریبا ختم ہوجایئگی- لیکن بلوچستان میں ہم سمگلنگ مکمل طور پر بند نہیں کرسکتے اس کی وجہ بلوچستان کے ایرانی سرحدی علاقے ہیں جہاں کے لوگوں کا دارومدار سرحد کے آر پار چیزیں آنے جانے پر ہے- اگر آپ کو اس پر ایشو ہے تو آپ ان علاقوں میں فیکٹریاں کیوں نہیں لگالیتے- اس سے وہاں کے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور سمگلنگ کو بھی مکمل طور پر بند کردیا جایئگا-

پھر آرمی چیف نے کہا آپ سارے لوگ لٹھ لیکر ٹیکسٹایئل کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کیا دنیا میں ٹیکستایئل کے علاوہ کوئی بزنس باقی نہیں رہ گیا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپ لوگ ملک کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیئے ایسی چیزوں پر انویسٹ کریں جو کہ آج کل دنیا کی ضرورت ہیں- لیکن آپ 50 سال پہلے سے باہر آنے کی کوشش ہی نہیں کررہے- بلوچستان میں ریکوڈک کا منصوبہ ہے اس پر انویسٹ کریں، بلوچستان اور کے پی کے کے علاقوں میں کان کنی پر انویسٹ کریں- سیکورٹی چاہیئے آپکو سیکورٹی ہم دیں گے- اس کی میں آپکو یقین دہانی کراتا ہوں-لیکن یہ کیا آپ لوگ اکانومی کو جمود کا شکار کرکے بیٹھے ہیں- (یہ بزنس مینوں کو آسان میں الفاظ میں سمجھایا گیا ہے کیونکہ ان میں سے اکثر سیاست دانوں کے فرنٹ مین ہیں جو ایک وجہ سے پیسہ ہولڈ کرکے بیٹھے ہیں)

پھر میاں عامر محمود نے کہا میں پاکستان میں عنقریب آئی ٹی ریلیٹڈ بہت بڑی انویسٹمینٹ کرنے جارہا ہوں- تو جواب میں حماد اظہر، شبر زیدی اور حفیظ شیخ نے میاں عامر محمود کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی- ملک ریاض نے کہا میرا اگر ساتھ دیا جائے تو میں کنسٹرکشن کے شعبے میں پورے پاکستان کو یورپ کی طرح چمکا سکتا ہوں- تو جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ ملک صاحب آپکو روکا کس نے ہے- حفیظ شیخ نے کہا ملک صاحب آگے بڑھیئے ہم آپکو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں-

پھر حفیظ شیخ نے ان بزنس مینوں کا ایک فراڈ انکے سامنے بتایا- حفیظ شیخ نے کہا چین سے ہمیں یہ رپورٹ آئی ہے کہ پاکستانی بزنس مینوں کے ٹوٹل 12 بلین ڈالر کے امپورٹس آرڈر ہیں جبکہ پاکستان میں آفیشل فگرز جو کہ بزنس مینوں نے ریکارڈ کروائے وہ صرف 6 بلین ڈالر نکلے- یعنی 6 بلین ڈالر کی انڈر انوائسنگ کی گئی اور وہ 6 بلین ڈالر چین سے ہی دبئی، انگلینڈ اور سوئزرلینڈ اپنے غیر ملکی اکاؤنٹس میں بھجوادیا گیا– آپ لوگ یہ دو نمبریاں کرتے ہیں اور پھر جب نیب آپ سے پوچھتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ نیب ہمیں ڈرا رہی ہے- آپ لوگ وہی پیسہ دبئی میں انویسٹ کرتے ہیں- آپکا پیسہ دبئی میں ڈوب گیا- اگر یہی آپ پاکستان میں انویسٹ کرتے تو پاکستان کا بھی فائدہ ہوتا اور آپکا بھی-

پھر میاں منشا نے کہا دیکھیں جی ہم تباہ ہوگئے برباد ہوگئے تو عقیل کریم ڈھیڈی اور گوہر اعجاز نے میاں منشا کی کلاس لی- کہ آپ نے پچھلے حکمرانوں کے دوستیوں کے ذریعے کیپسیٹی چارجز کی مد میں مہنگی بجلی حکومت پاکستان کو بیچی اور آپ کہتے ہیں کہ آپ تباہ ہوگئے- آپ کی وجہ سے ہمارا ٹیکسٹایئل سیکٹر تباہ ہورہا ہے-ساتھ ہی حفیظ شیخ نے کہا کہ منشا صاحب آپکو ریترن 18 فیصد ملنا چاہیئے جبکہ پچھلی حکومتی حلقوں میں آپکی جان پہچان ہونے کی وجہ سے آپ اس وقت 60 فیصد ریٹرن لے رہے ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم تباہ ہورہے ہیں- حکومت ہمارے ساتھ زیادتی کررہی ہے-

پھر سوال پوچھا گیا کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے انڈسٹری بند ہورہی ہے تو حماد اظہر نے کہا اگر انڈسٹری بند ہورہی ہے تو بجلی کھپت کم ہونی چاہیئے جبکہ نیپراکے فگرز کے مطابق بجلی کی کھپت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے- تو کونسی انڈسٹری بندہ ہورہی ہے-؟آخر میں بزنس مینوں نے آرمی چیف کو یقین دلایا کہ ہم کسی ایسے گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں بنیں گے جو ملک کے مفاد کے لیئے نقصان دہ اور ملکی مفاد کے خلاف ہو-

حیرت کی بات ہے اس ساری میٹنگ میں ٹیکس کے حوالے سے کسی بزنس مینوں نے کوئی بات نہیں کی- کیونکہ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ جو لوگ آگے بیٹھے ہوئے انکو کچھ پتہ نہیں ہوگا لیکن جب ان لوگوں نے ان بزنس مینوں کے سارے کچے چٹھے کھول کر رکھے تو کسی نے ٹیکس کے بارے میں بات نہیں کی-

تمام دانشوڑان جو کل سے پلسیٹیاں لے رہے تھے انکے پلسیٹیاں لینے کی بنیادی وجہ یہ میٹنگ تھی جس میں ان بزنس مینوں کو سافٹ سے انداز سے سمجھایا گیا ہے کہ جن لوگوں کے کہنے پر آپ یہ سب کررہے ہیں انکو کوئی نہیں بچاسکے گا لیکن انکے ساتھ آپ بھی رگڑے جایئں گے اس لیئے ابھی بھی وقت ہے- اس پیار سے سمجھانے کا یہ لوگ کتنا اثر لیتے ہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن بتانے والے بتاتے ہیں کہ تمام بزنس مینوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہین بنیں گے

رئوف کلاسرا کے ویڈیو بلاگ سے

About the author

روف کلاسرہ

روف کلاسرا 92 ٹی وی پر کام کرنے والے پاکستان کی تحقیقاتی صحافی قیادت کر رہا ہیں. دنیا نیوز کے لیے کالم لکھتے ہیں اور چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

Loading...