معلومات

ارسطو (Aristotle)

ارسطو قدیم یونان کی قدیم شہری ریاست ایتھنز کا سب سے زیادہ ذہین، تخلیقی اور زرخیز دماغ تھا۔ ارسطو نے اپنی زندگی میں دس لاکھ سے زائد الفاظ تحریرکیے، بدقسمتی تک انسانی تہذیب کو ارسطو کے صرف بیس فیصد الفاظ ہی نصیب ہوئے ہیں۔ ارسطو کو انگریزی میں Aristotle کہا جاتا ہے جبکہ اردو یا عربی زبان میں ارسطو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ارسطو یونان کے ایک چھوٹے سے شہر stagira میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی تمام جوانی افلاطون کی اکیڈمی میں گزاری۔ ارسطو نے تقریبا بیس سال تک افلاطون کی شاگردی میں گزارے۔ اس کے بعد اس نے اپنی اکیڈمی بنائی جسے Lyceum کہا جاتا ہے. اس کے باپ کا نام Nicomachus تھا جو کہ ریاست میسیڈونیا کے بادشاہ Amyntas کا درباری طبیب تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو کے آباؤ اجداد کئی نسلوں سے اس ریاست کے شاہی دربار میں بطور معالج کام کرتے چلے آ رہے تھے، اگرچہ ارسطو جب ابھی لڑکپن میں ہی تھا تو اس کا باپ فوت ہو گیا لیکن اس کے باوجود ساری عمر ارسطو کا شاہی دربار سے قریبی واسطہ رہا اور اس نے اس ماحول کا کافی اثر بھی لیا۔ ارسطو کی ماں کا نام Phaestis تھا لیکن اس کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو کی ماں بھی اس کے بچپن میں ہی فوت ہو گئی۔

ارسطو کے باپ کے مرنے کے بعد ارسطو کا بہنوئی Proxenus اس کا سرپرست بنا اور اس کے جوان ہونے تک اس کا خرچ اٹھاتا رہا۔ چونکہ ارسطو کا تعلق معالج خاندان سے تھا اس لیے ارسطو کو ایسی تربیت ملی جس نے اس کا رجحان مظاہر قدرت کے مطالعے کی طرف کر دیا۔ ایسی تعلیم و تربیت نے ارسطو کے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر چھوڑا اور یہی وجہ تھی کہ ارسطو اپنے استاد افلاطون کے برعکس بہت گہرا فلسفی نہ بن سکا۔ جب 367 قبل مسیح میں ارسطو سترہ سال کا ہوا،تو اسے اعلی تعلیم کے لیے Athens بھیج دیا گیا۔ اس زمانے میں ایتھنز کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اس شہر میں ارسطو نے افلاطون کی اکیڈمی میں داخلہ لیا جو کہ پورے یونان میں اعلیٰ ترین درسگاہ تھی۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ارسطو ایک مثالی عالم بن گیا۔ افلاطون کی اس اکیڈمی سے ارسطو بیس سال تک منسلک رہا، 347 قبل مسیح میں افلاطون کا انتقال ہو گیا۔ اگرچہ ارسطو اپنے استاد کا بہت ہونہار شاگر تھا لیکن افلاطون کے مرنےکے بعد اس کی اکیڈمی کا سربراہ نہ بن سکا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب افلاطون نے اسے اپنی زندگی میں اپنا جانشین نہ بنایا تو اس نے دلبرداشتہ ہو کر وہ اکیڈمی ہی چھوڑ دی۔ افلاطون نے اپنا جانشین اپنے بھتیجے Speusippus کو بنا دیا تھا اور افلاطون کی موت کے بعد وہی اس کی اکادمی کا سربراہ بنا۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بہت سے بنیادی فلسفیانہ معاملات میں ارسطو اور افلاطون کے نظریات ایک دوسرے سے کافی مختلف تھے۔ افلاطون کا نظریہ یہ تھا کہ دنیا میں خیالات، فلسفہ اور نقائص سے پاک چیزیں ہی سب کچھ ہیں، جبکہ اس نظریہ کے برعکس ارسطو خیالات کی دنیا کی بجائے حقیقت اور مادی دنیا کے بارے میں زیادہ سوچاکرتاتھا۔

دو یونانی ریاستوں کے بادشاہ Hermias نے ارسطو کو اپنے دربار میں ملازم رکھ لیا اور ارسطو چند سال تک اس کی دونوں ریاستوں میں باری باری مقیم رہا۔ پھر بادشاہ کی لے پالک بیٹی Pythias جو کہ بادشاہ کی بھانجی بھی تھی، سے ارسطو نے شادی کر لی۔ ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، اور اس کا نام بھی انہوں نے Pythias رکھا۔ جب اس بادشاہ کی ریاست پر ایرانیوں کا قبضہ ہوگیا تو ارسطو وہاں سے Macedonia چلا گیا، اگلے چار سال کے دوران ارسطو مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا، جہاں نہ صرف وہ علم حاصل کرتا رہا بلکہ لوگوں کو بھی تعلیم دیتا رہا۔ اسی عرصے میں ارسطو نے حیاتیاتی سائنسوں پر تجربات کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ ارسطو نے نباتات اور حیوانیات پر اپنے جو مشاہدات کیے وہ انہی دنوں کے تجربات پر مشتمل ہیں۔ انہی علاقوں میں اس کی ملاقات اپنے جیسے ایک اور شخص Theophrastus سے ہو گئی، اور ان دونوں نے مل کر سائنسی میدان میں کافی تجربات کیے۔ جب ایتھنز میں ارسطو نے اپنی اکیڈمی Lyceum قائم کی تو ارسطو کے بعد اس اکیڈمی کا سربراہ بھی یہی شخص مقرر ہوا۔ ارسطو نے اس زمانے میں موجود نہ صرف تمام علوم کا مطالعہ کیا، بلکہ ان علوم میں اضافہ کرنے کے لیے اپنا خاطر خواہ حصہ بھی ڈالا۔ طبیعی سائنسوں میں ارسطو نے علم تشریح الاعضاء، فلکیات، جنینیات (embryology) جغرافیہ، علم ارضیات، فن موسمیات، فزکس اور حیوانیات کا مطالعہ کیا۔ فلسفے میں ارسطو نے جمالیات، اخلاقیات، حکومت، ما بعد الطبیعات، سیاسیات، معاشیات، نفسیات، فن بلاغت، اور دینیات کے بارے میں مضامین لکھے۔ اس کے علاوہ ارسطو نے تعلیم، غیر ملکی رسوم و رواج، لٹریچر اور شاعری کا مطالعہ کیا۔ اگر ارسطو کی تمام تحریروں کو جمع کر لیا جائے تو اس سے یونانی علوم کا ایک انسائیکلو پیڈیا تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو ہی وہ واحد شخص تھا جو اپنے زمانے کے تمام علوم سے واقف تھا۔

343 قبل مسیح میں یونانی ریاست میسیڈونیا کے بادشاہ فلپ دوئم نے ارسطو کو اپنے پاس آنے کی دعوت دی تا کہ وہ تیرہ سالہ شہزادے سکندر (جو بعد میں سکندر اعظم کے نام سے مشہور ہوا) کو تعلیم دے سکے۔ بادشاہ نے ارسطو کو اپنی شاہی اکیڈمی کا سربراہ بھی بنا دیا۔ اس عرصے میں ارسطو نہ صرف سکندر کو بلکہ دو مزید افراد Ptolemy اور Cassander کو بھی تعلیم دیتا رہا، اور یہ دونوں بھی بعد میں بادشاد بنے۔

سکندر اعظم : دنیا کا عظیم فاتح سکندر اعظم ، ارسطو کا شاگرد تھا۔ الیگزنڈر دی گریٹ یا سکندر اعظم نے تقریبا تین سال تک ارسطو سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ارسطو کو جب ایتھنز میں سزائے موت سنائی گئی تو وہ ایتھنز سے چلا گیا۔ ایتھنز کو چھوڑتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ اب وہ یونان کے لوگوں کو یہ موقع فراہم نہیں کرے گا کہ وہ فلسفے کو نقصان پہنچائیں، اس لئے وہ سقراط کی طرح زہر کا پیالا پی کر نہیں مرے گا۔

افلاطون کے جانشین Speusippus کی وفات کے بعد جب دوبارہ اس کی اکیڈمی کے لیے انتخابات ہوئے تو ارسطو کی بجائے Xenocrates اس کا سربراہ بن گیا، اس وجہ سے بادشاہ فلپ کی دلچسبی ارسطو میں کم ہو گئی ۔ ارسطو پانچ سال تک سکندر کا استاد رہا،اور جب سکندر کا باپ فوت ہوا تو سکندر بادشاہ بن گیا۔

ارسطو ایک ایسی فلسفیانہ دنیا تشکیل دینے میں مصروف ہو گیا جس کا مرکز یونان ہو، لیکن بادشاہ بن جانے کے بعد سکندر کا ارادہ ارد گرد کے ممالک فتح کر کے یونان کی سرحدوں کو دور دور تک پھیلانا تھا، اور اس مقصد کے لیے اس نے تیاریاں بھی شروع کر دی تھیں ۔ ارسطو نے یونان کے لیے قومی حکمت عملی ترتیب دی جس کے تحت اس کے خیال میں یونانی ثقافت کو وحشیوں سے دور رکھا جا سکتا تھا، اس کے برعکس سکندر کا خیال تھا کہ انہیں غیر یونانی ثقافت کو بھی اپنی پالیسیوں میں جگہ دینی چاہیے تا کہ غیر یونانی علاقوں میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں آسانی ہو سکے۔ ارسطو کی خدمات کے اعتراف میں سکندر نے ارسطو کو مکمل آزادی دے دی کہ وہ سائنسی علوم کے مطالعے میں اور سائنسی تحقیق کے لیے جتنی چاہے وہاں سے کتابیں حاصل کر لے۔ اس کے بعد سکندر نے اپنی غیر ملکی مہمات کا سلسلہ شروع کر دیا اور چند ہی سالوں میں اس کی سلطنت پھیلتی چلی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ سکندر نے ایک طرف تو افلاطون کی اکیڈمی میں مدد جاری رکھی اور دوسری طرف ارسطو کو مشورہ دیا کہ اپنی اکیڈمی کھول لے۔ ارسطو نے ایتھنز میں Lyceum کے نام سے اپنا سکول کھولا اور آئندہ بارہ سال تک اسے چلاتا رہا۔ یہاں اپنی باقی ساری زندگی ارسطو نے علم حاصل کرنے اور دوسروں کو تعلیم دینے اور تصنیف و تالیف میں گزار دی ۔ اس نے اپنے سکول کو ایک بے مثال مرکز بنایا جہاں سائنسی تحقیقات کی جاتی تھیں۔ یہاں صبح کے وقت ارسطو اپنے سینیر طالب علموں کے ساتھ تفصیلی بحث کیا کرتا، اور سہ پہر کے وقت وہ عام قسم کے فلسفی کا طالب علموں کو مقبول عام موضوعات پر لیکچر دیا کرتا تھا۔ زمانہ قدیم میں ارسطو ہی دنیا کا واحد شخص تھا جس نے سب سے پہلے ایک بہت بڑی لائبریری قائم کی ۔ ارسطو کا یہ سکول 525 قبل مسیح تک چلتا رہا اورجب اس علاقے پر بادشاہ Justinian کا قبضہ ہو گیا تو اس نے اسے بند کرا دیا۔ ارسطو نے بارہ سال کے عرصے میں اپنا بہت سارا ادبی کام کیا۔ اس نے بہت سے مکالمے لکھے جن کے محض چند ٹکڑے ہی صحیح سلامت بچ سکے ۔ ارسطو کے جو مقالہ جات یا مضامین ہم تک پہنچے وہ عام لوگوں کے مطالعے کے لیے نہ تھے بلکہ وہ تو اس کے اپنے سکول کے طلبہ کے کورس کا حصہ تھے۔ اگلے دو ہزار سال تک دنیا ارسطو کے ان لا ثانی مقالہ جات سے استفادہ حاصل کرتی رہی۔

شادی کے تقریبا دس سال بعد ارسطو کی پہلی بیوی Pythias کا انتقال ہو گیا تھا ۔ اس کے بعد ارسطو کا رومانس پتھیا کی غلام لڑکی (Herpyllis) سے شروع ہو گیا، ارسطو نے اسے غلامی سے آزاد کر دیا اور جلد ہی دونوں نے شادی کر لی۔ اس عورت کا تعلق بھی ارسطو کے آبائی علاقے Stagira سے ہی تھا۔ Herpyllis سے ایک بیٹا پیدا ہوا اور ارسطو نے اس کا نام اپنے باپ کے نام پر Nicomachus رکھ دیا۔ بعد میں ارسطو نے اپنے فلسفیانہ کام Nicomachean Ethic کا نام بھی اپنے باپ Nicomachus کی نسبت سے ہی رکھا لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ نسبت ارسطو کے باپ سے ملتی ہے یا اس کے بیٹے سے۔

ارسطو دنیا کا وہ واحد فلاسفر ہے جس نے تقریبا تمام علوم کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔ اس نے سوشل سائنسز، پولیٹیکل سائنس، اخلاقیات، نیچرل فلاسفی، سائنس، فزکس، بیالوجی، میٹا فزکس جیسے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ منطق، موسیقی، ریاضی، آسٹرانومی، کاسمالوجی اور ہسٹری پر بھی اس کی بہت ساری تحریریں موجود ہیں۔ اس نے سائیکالوجی، تھیالوجی، سیاسی تاریخ، گورنمنٹ تھیوری، شاعری، آرٹ، ڈرامہ اور تھیٹر پر بھی اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔

اس نے جس موضوع پر بھی لکھا کمال کردیا۔ اس کے بعد اس کی ہر تحریر مکمل موضوع بن گئی۔ فزکس پر لکھا تو فزکس کا ایک مکمل ڈسپلن ترتیب پا گیا۔ جدید یونیورسٹیوں میں مختلف موضوعات کی بنیادی کلاسیفیکیشن اور ٹرمز کی ڈیفینیشنز ارسطو نے ترتیب دیں۔ یہ واحد فلسفی ہے جس نے لاجیکل سسٹم کی نشوونما کی۔ منطق کا طریقہ کار سائنسی انداز میں بتایا۔ جب منطق کا یہ سسٹم اس نے مختلف موضوعات پر اپلائی کیا تو اس سے کوئی نئی دریافت یا نئی بات سامنے آئی۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جس نے بھی ارسطو سے فیض یاب ہونا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے لاجیکل سسٹم کو سب سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرے۔

وہ اپنا لاجیکل سسٹم لٹریچر ریویو سے شروع کرتا ہے کہ جس موضوع پر وہ جو کچھ لکھنا چاہتا ہے یا کچھ نئی بات کرنا چاہتا ہے اس کے بارے میں اس سے پہلے اس موضوع پر کیا کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ اس موضوع پر انسانی تاریخ میں کس طرح کا بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے۔ کسی بھی نقطہ نظر پر پر کچھ کہنے سے پہلے وہ مخالفانہ نقطہ ہائے نظر بیان کرتا ہے۔ اس عمل کو وہ dialectics کہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اہم بحث و مباحثے کو سمجھنا۔ جب وہ کسی بحث و مباحثے کو کھولتا ہے اور اس کے بعد اپنا منطقی تجزیہ دیتا ہے تو اس تجزیئے کو بھی وہ لاجیکل سسٹم سے گزارتا ہے۔ تراش خراش کے بعد وہ کوئی نئی بات یا نئی دریافت سامنے لاتا ہے۔ارسطو کے اس لاجیکل سسٹم کو آرگنان کہا جاتا ہے۔ اس لاجیکل سسٹم کا ہمیشہ فلاسفی پر بہت اثر رہا ہے۔ اس کی بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو صرف لاجیکل سسٹم کی وضاحت کے لئے لکھی گئی ہیں۔

سائنسز : ارسطو سائنسز کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے مطابق سائنسز کی تین کیٹاگریز ہیں۔ تھیوریٹیکل سائنسز، پریکٹیکل سائنسز اور پروڈکٹیو سائنسز۔ تمام وہ سائنسز جن کو نیچرل سائنسز کہا جاتا ہے۔ معاشی نظام سے جن کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ علم جو صرف اپنے لئے یا اپنے واسطے پڑھا جائے اسے وہ تھیوریٹیکل سائنسز کہتا ہے۔ سوشل سائنسز، سیاست کا علم، ان کو وہ پریکٹیکل سائنسز کا نام دیتا ہے۔ ارسطو کے مطابق وہ علم جس کے نتیجے میں انسانی زندگی اور انسانی سماج میں بہتری آئے اسے وہ پریکٹیکل سائنسز کہتا ہے۔ وہ علم جس سے انسانی تہذیب اور انسانی زندگی میں خوشی، اطمینان اور خوبصورتی پیدا ہو۔ انسانی زندگی میں آسائشیں پیدا ہوں، ایسے علوم کو وہ پروڈیکٹو سائنسز میں شمار کرتا ہے۔ زراعت، موسیقی، تھیٹر، ڈانس، شاعری وغیرہ کو وہ پروڈیکٹیو سائنسز کہتا ہے۔ اس کے مطابق یہ تمام علوم انسانی زندگی کو جدید اور خوبصورت بناتے ہیں جس سے انسان روحانی اور معاشی طور پر خوش رہتا ہے۔

تقریبا دو ہزار سال تک ارسطو کے نظریات کا اثر انسانی سوچ پر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے جدید سائنسی سوچ دنیا میں پھلی پھولی ہے۔ اسلام کے سنہری دور میں مسلمان فلسفیوں کا پسندیدہ ترین فلسفی ارسطو تھا۔ ابن رشد نے اسپین میں بیٹھ کر ارسطو کے نظریات کو بارویں اور تیرہویں صدی میں یورپ تک پھیلایا۔ جس کی وجہ سے یورپی دنیا میں نشاۃ ثانیہ ہوئی۔ جب تک نیوٹن اس زمین پر نہیں آیا تب تک فزکس کے بنیادی اصول و ضوابط ارسطو نے تشکیل دیے تھے۔ نیوٹن کے آنے کے بعد فزکس کی دنیا میں نئی انقلابی تبدیلیاں آئیں جو ارسطو کے نظریات سے مختلف تھیں۔

ارسطو اپنا سکول سکندر اعظم کی وفات تک چلاتا رہا جس کا 323 قبل مسیح میں اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایتھنز کے شاہی خاندان اور خود ارسطو کے لیے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے ۔ ایتھنز کی اسمبلی نے یونانی شہری ریاستوں کو سکندر اعظم کے خاندان سے نجات دلانے کے لیے سکندر کے جانشین کے خلاف جنگ شروع کر دی اور اس کو تخت سے ہٹا دیا۔ نئی انتظامیہ نے ارسطو کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ ارسطو دیوتاؤں کا احترام نہیں کرتا اور اسی بنا پر اسے ملحد قرار دے دیا گیا۔ یہی وہ الزام تھا جس کے تحت 399 قبل مسیح میں افلاطون کے استاد سقراط کو سزائے موت دی گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ اس پر مقدمہ چلایا جاتا، ارسطو ایتھنز سے نکل گیا اور Euboea جزیرے میں Chalcis کے مقام پر چلا گیا اور اپنی زندگی کا باقی حصہ اس نے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ وہیں گزارا۔ اس علاقے میں جا کر ارسطو کے نظامِ انہضام میں خرابی پیدا ہو گئی اور 322 قبل مسیح میں 63 سال کی عمر میں ارسطو کا انتقال ہو گیا۔ اسے اس کی پہلی بیوی کی قبر کے قریب دفنا دیا گیا۔۔

تحریر : ام عمارہ