بلاگ

” اپنی فطرت میں خاص نیچ لوگ”

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کھلے مصالحہ جات کی فروخت پر پابندی لگائی ہوئی اور ہول سیلرز کو پہلے سے وارننگ جاری کرکے مطلع کیا ہوا ہے . لیکن جب راولپنڈی میں فوڈ انسپکٹرز نے چند تاجروں کو بغیر پیکنگ کے مصالحہ جات فروخت کرنے کی پاداش میں جرمانے کرنے کی کوشش کی تو حسب روایت انجمن تاجران نے جنگلیانہ رولا اور اودھم مچا کر اس کوشش کو سبوتاژ کیا. ہمارے تاجران کا موقف تھا کہ بھلا چالیس پینتالیس مصالحہ جات کو کون پیک کرکے بیچ سکتا ہے؟ اس لئے یہ حکم واپس لیا جائے. بعد ازاں چند درجن لوگوں نے اکٹھے ہو کر ریلی نکالی اور اپنی آزادی رائے کا اظہار ٹائر جلا کر کیا.

اپنی دکانوں کے ایک طرف اللہ اور ایک طرف محمد لکھوانے والوں، رزق کی دعائیں لکھنے والے با شرع حلیے والے کسی اسلام اور اخلاق کے دائرے کو عملی طور پر نہیں مانتے. رسید اکثر نہیں ملے گی، دھمکی آمیز انداز میں سامان واپس نہ کرنے کے اعلان لکھے ہونگے، ملاوٹ مارکیٹ اور بزنس کی مجبوری کے طور پر جائز سمجھی جاتی ہے. مال میں دو نمبری عام ہے. دھوکہ فریب جہاں داؤ لگا وہاں کرینگے. بڑے سپر اسٹورز والے بہتر کسٹمر سروس دے رہے ہیں تو جس طرح "کریم "”اوبر” نے ٹیکسی والوں کے دماغی میٹر درست کر دیئے اللہ کرے، ہمارے تاجران بھی ہدایت پکڑیں.یہ انکی بدمعاشی کی ہلکی سی جھلک ہے.

آج سے تین برس قبل سپریم کورٹ نے آرڈر دیا تھا کہ بچوں کو اسکول پک اینڈ ڈراپ والی وین، سوزوکیوں اور ویگنوں میں گیس سلنڈرز نہیں ہونگے. کیونکہ کچھ حادثات میں سلنڈرز پھٹنے سے معصوم بچوں کی جان چلی گئی تھی. حکومت نے کراچی میں اس حکم پر عمل کرانا چاہا تو سوزوکی ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بچوں کو اٹھانے سے ہی انکار کر دیا. تازہ ترین صورتحال کا علم نہیں مگر ان نیچ لوگوں کا رویہ دیکھیں اور جواز دیکھیں کہ ہم پٹرول پر افورڈ نہیں کر سکتے. سلنڈرز نہ پھٹنے کی بھی کر گارنٹی نہیں. مرینگے، مارینگے مگر منافع نہیں چھوڑینگے.یہ بد خصلت اور عذاب شدہ لوگوں کی نشانی ہے.

پنجاب حکومت نے اعلان کیا کہ کیونکہ اگلے تین ماہ بچوں کے امتحانات کا سیزن ہے تو اس عرصے میں اساتذہ کو طویل رخصت نہیں ملے گی نہ عمرے کی چھٹیاں ملیں گی. ظاہر ہے استاد نہیں ہونگے تو تعلیم کا حرج ہوگا. لیکن یہ پاکستان کے استاد ہیں. ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ ہم اس پابندی کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے. جب چاہیں جتنی مرضی چھٹیاں کرنا ہمارا حق ہے. بچے اور تعلم جائے بھاڑ میں. پرائیویٹ اسکولز اور تعلیم کی مجموعی حالت پر پھر کبھی لکھونگا.

قصور میں ایک اسکول کے پرنسپل صاحب بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر بیچنے میں ملوث پائے گئے. قصور میں ہی پچھلے دس برسوں میں بچوں کی زیادتی کے سینکڑوں واقعات ہو چکے ہیں جن میں 92 فیصد ملوث افراد پڑھے لکھے تھے اور ان میں صرف ڈھائی فیصد کو سزا ہو سکی ہے. سینٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ برسوں میں 17 ہزار سے زائد کیس بچوں کی زیادتی کے درج ہوچکے ہیں. اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم از کم اس سے دوگنے واقعات رپورٹ نہیں ہوسکے ہونگے. یہ صرف بچوں سے زیادتی کے واقعات ہیں. باقی خواتین کو تو فی الحال چھوڑ دیں.

یہ پچھلے دو دن کی چند خبریں ہیں. اب کوئی بے شرم بہانے باز یہ نہ کہے کہ اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں. ہمارے معاشرے میں برے ہی چھائے ہوئے ہیں، اچھے آٹے میں نمک کے برابر ہیں. کوئی جاہل یہ بھی نہ کہے کہ اس مغربی ملک میں یہ ہوتا ہے اس ہمسائے ملک میں وہ ہوتا ہے. اگر کسی اور ملک کی اچھائی سے تقابل کر نہیں سکتے تو برائی سے کیوں کرتے ہیں؟ پھر قرآن، اللہ رسول اللہ کو مانتے ہی کیوں ہو جب حرکتیں شیطان والی کرنی ہیں؟. خیر خدا تو اس منافقت کو جانتا ہے اسی لئے ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر ذلیل و خوار ہے.

بہتری کا کوئی آسان حل نہیں نہ ٹوٹکا ہوتا ہے. سچائی، دیانت داری، حق کے لئے کسی مجبوری کا بہانہ بنائے بغیر جرات سے کھڑا ہونا پڑے گا. لیکن ہمارے گونگلو دانشور اور لوگ ہر بات کا مکروہ جواز پیش کرکے ہر برائی کی ذمہ داری کسی اور پر تھوپ دیتے ہیں. ایسے معاشرے اپنی غلاظت کے شیطانی سرکل میں ہی گھومتے رہتے ہیں .

ٓ
از ثاقب ملک