بلاگ معلومات

اپنا کام

اگر آپ کے پاس کوئی تگڑا آئیڈیا ہے، مگر سرمایہ کاری کی کمی ہے تو آپ پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم کسی بھی "نیشنل انکیوبیشن سینٹر” میں چلےجائیں۔ مارچ کے آخری ہفتے میں خود کو انکیوبیٹ کروانے کے لئے فارمز ویب سائٹ پر موجود ہوتے ہیں۔ آپ فارم جمع کروائیں، اپنا آئیڈیا اور درخواست فارم کے ساتھ لگائیں، اگرانکیوبیشن سینٹر کی ٹیم کو آپ کا آئیڈیا پسند آگیا تو وہ آپ کو شارٹ لسٹ کر لیں گے۔ اس شارٹ لسٹ ہونے کے نتیجے میں آپ کو سال بھر کے لئے مفت "ورک اسپیس” مع بجلی و انٹرنیٹ میسر آ جائے گا۔ مزید یہ کہ اس دوران آپ کی مسلسل کوچنگ بھی کی جاتی رہے گی اور کچھ عرصے کے بعد آپ کو "ججز” کے سامنے پیش کر دیا جائے گا، جہاں آپ اپنا آئیڈیا ان کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ یہ ججز دراصل "انویسٹرز” ہوتے ہیں، آپ کا آئیڈیا انہیں پسند آگیا تو وہ آپ کو ابتدائی طور پر کچھ نہ کچھ انویسٹمنٹ ضرور فراہم کر دیں گے اور اگر آپ میں لگن اور صلاحیت ہوئی تو اس طرح آپ کو اپنا ہنر اور جگر آزمانے کا موقع مل جائے گا۔

بہرحال پچھلے دنوں کراچی کی این – ای – ڈی یونیورسٹی میں قائم انکیوبیشن سنٹرمیں "ایئر لفٹ” کے کو- فاؤنڈر اور سی- ٹی-او جناب احمد ایوب صاحب کے ساتھ ایک اچھی نشست رہی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ساری گفتگو اردو میں کی جب کے جتنے صرف "بولنے” والے تھے وہ انگریزی ہی بولتے رہے۔احمد ایوب صاحب نپی تُلی گفتگو کرنے والے ایک محنتی انسان ہیں۔ پچھلے 19سال سے آئی- ٹی اور ڈیولپمنٹ کی فیلڈ سے وابستہ ہیں، بریڈفورڈ یونیورسٹی امریکہ سے اعلی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ تقریبا 2018 کے اواخر میں انہوں نے عثمان گل اور انکی ٹیم کے آئیڈیے "ائیر لفٹ ” میں دلچسپی کا اظہار کیا اور خود بھی اس ٹیم کا حصہ بن گئے۔ عثمان گل جو لاہور کا ایک نوجوان لڑکا ہے اس نے اس بات کا احساس کیا کہ جب پیزا ، کریم اور اوبر موبائل کے ذریعے سے بُک کروائی جاسکتی ہے تو بسوں اور ویگنوں کے لئیےکیوں نہیں ؟ اور اس طرح وہ ملک جہاں سڑک پر ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی اب وہاں موبائل پر بھی ٹرانسپورٹ میسر آ چکی ہے۔عثمان گل نے مارکیٹ میں موجود اس "گیپ” کا جائزہ لیا اور پچاس ہزار ڈالر سے اپنی چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ لاہور میں اس اسٹارٹپ کا آغاز کردیا۔ جلد ہی ان کی ٹیم میں احمد ایوب صاحب بھی شامل ہوگئے اور مزید ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر کی مدد سے انھوں نے کراچی میں بھی اس سروس کا آغاز کر دیا۔

2019، 19 فروری کو ایئر لفٹ میں صرف دو مسافروں نے کراچی میں سفر کیا۔ ایئر لفٹ کی آئی- ٹی ٹیم کو اس وقت صرف 13 لوگ چلا رہے ہیں اور ان تمام کی سربراہی احمد ایوب صاحب کے ہاتھ میں ہی ہے۔ احمد صاحب نے بتایا کہ ان 13 میں سے آدھے ایسے ہیں جن کے پاس یونیورسٹیز کی ڈگریاں تک موجود نہیں ہیں لیکن وہ اپنی فیلڈ کے ماہر اور خود کو کام میں کھپا دینے والے لڑکے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی جامعات سے فارغ ہونے والے 50 فیصد نوجوان ایسے ہیں جن کے پاس نوکریاں نہیں ہیں، کم و بیش امریکہ سے لے کر انڈیا تک اعدادوشمار کی کمی اور زیادتی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہے لیکن پاکستان اب ان میں سرفہرست ہے اور اس میں ڈگری سے زیادہ ڈگری لینے والوں کا قصور ہے۔

احمد صاحب کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی سے نکلنے والے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف ایک "ایپ” بنا کر دنیا میں طوفان برپا کر دیں گے۔ مارک زکربرگ اور جان کام کا واٹس ایپ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی اسٹارٹپ میں ایپ بنا کر کلاؤڈ پر ڈالنے اور گوگل ایپ پر آن لائن کر دینے کا یہ سارا عمل”انٹرپرنیورشپ”  کا صرف 5 فیصد ہے وہ کہتے ہیں کہ آج میں ڈیولپر سے زیادہ خود کو بس کا ڈرائیور محسوس کرتا ہوں اور ابھی بھی سینکڑوں دفعہ کبھی میں مسافربنتا ہوں اور میرا کوئی ٹیم ممبر ڈرائیور کے ساتھ بس میں بیٹھتا ہے جبکہ کبھی میں ڈرائیور کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور وہ مسافر بن جاتا ہے اور اس طرح ہم اپنی سروسز کی ٹیسٹنگ کرتے ہیں۔

انٹرپرنیورشپ میں آئیڈیے سے کہیں زیادہ کسٹمر کا خیال رکھنا اہم ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ، "آپ مجھے بتائیں کریم کے پاس ایسا کیا نیا تھا جو اوبر کے پاس نہیں تھا؟”، جو آئیڈیا اوبر پہلے سے 35 ملکوں میں چلا رہا ہے اسی کو کریم نے کاپی کرلیا، بس فرق یہ تھا کہ کریم نے اپنے کپتان اور مسافر دونوں کو اوبر سے کہیں زیادہ تحفظ، عزت اور اپنے پن کا احساس دیا تھا جس کی وجہ سے اوبر کا ہی آئیڈیا اوبرکو کریم نے 3بلین میں بیچ دیا

میں نوجوانوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی ان کی حوصلہ شکنی کر رہا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ حقائق کی دنیا میں رہنا سیکھیں۔ وہ مسکرائے اور بولے ؛ "ہمارے ایک انویسٹر نے ہمیں 75 ہزار ڈالرز دیے اور کہا کوشش کرنا کے کم از کم چار مہینے چل جائیں اور ہم نے چار مہینے تک اپنی تنخواہیں نہیں لیں اور کسی نہ کسی طرح چار مہینے کے پیسوں کو 6 مہینے تک چلایا”۔ یہی وجہ ہے کہ آج ائیر لفٹ میں روزانہ 25000 مسافر سفر کر رہے ہیں جبکہ 22لاکھ ڈالر کی انویسٹمنٹ ائیرلفٹ کو مزید حاصل ہو چکی ہے وہ رکے اور بولے "اسٹیوجابس 3،3 کلومیٹر دور پیدل جا کر ایک جگہ سے برگر صرف اس لیے کھاتا تھا کیونکہ وہاں برگر سستا ملتا تھا اور اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے اور آج اپنا "کام” شروع کرنے والے پہلے "میک بُک”خریدتے ہیں اور پھر انویسٹمنٹ کا رونا روتے ہیں۔

آپ محض ڈگری سے، محض اپنے ہنر اور صرف اپنے شعبے میں مہارت سے کوئی بزنس کھڑا نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو ٹیم بنانا پڑے گی، بچت کی عادت ڈالنا پڑے گی ، اپنےکسٹمرز کو 100 نہیں بلکہ 110فیصد سننا ہوگا بلکہ انہیں پوری توجہ، عزت اور محبت بھی دینی ہوگی۔ انہیں تحفظ کا احساس فراہم کرنا ہوگا، ورنہ صرف نری "ایپ” بنا کر، پروگرامنگ کے جوہر دکھا کر اور ڈیولپمنٹ کا جادو جگا کر آپ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے ہیں۔ ہاں یہ سب یقینا بعد میں آپ کے لئیے کارآمد ہوجائے گا لیکن اصل چیز ایپ بنانایا آن لائن کرنا نہیں بلکہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا اور نام بنانا ہے اور اسے بنانے کے لئے باہر آپ کو خود کو مٹانا پڑے گا۔