ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

آپ کا رب بڑا ہی قدرت والا ہے

ویسے تو ہمیں کسی کو بھی اپنے مذہب اور کتاب کے بارے میں صفائی دینے کی ضرورت ہی نہی ھے، لیکن اکثر ایسی باتیں سامنے آجاتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے جیسے کہ ایک عالم کو معلوم ھے، ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں پیدا ہوئے؟ وہاں کا نقشہ ،آب و ہوا، موسم کے رنگ کسی سے بھی ڈھکے چھپنے والے نہی ہیں، طرہ یہ کہ وہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلکل ہی ” امی ” رہے، اسکول تو خیر کیا ہی ہوتا ہوگا اس وقت وہ تو پیدا ہوتے ہی اللہ کی آزمائش سے سرخرو ہوتے چلے گئے، باپ، ماں، چاچا کے بعد بھی اجڈ لوگوں میں صادق امین کا لقب پانا از خود کامیابی ہی ھے ۔

چالیس سال کی پختہ عمر میں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا میسنجر چنتے ہیں” خیال رکھیں ” وہ پیدائش سے نبوت تک ایک ہی جگہ رہے ہیں اور جب قران ان پہ اترنے لگا تو وہ جبرائیل علیہ سلام سے سن کے دہرانے لگے ۔ ہوسکتا ھے غیر مسلم اور شدید قسم کے پڑھے لکھے انسان کو یہ ” جوک ” لگتا ہو۔۔۔ آسمانی کتاب، جبرائیل وغیرہ وغیرہ

لیکن اس بات پہ ایک دنیا قائم ھے کہ قران نامی کتاب صدیوں سے جوں کی توں چلی آرہی ھے، سینہ بہ سینہ ” مطلب یہ اس میں جدید سائنس ٹیکنالوجی کی مدد سے کائنات کے وہ راز جو اب عیاں ہورہے ہیں وہ شامل نہی کیے ہیں ۔ یہ 1400 سال پرانی ہی کتاب ھے جب بجلی، موبائل، ناسا ،فیس بک، گوگل قسم کی چیزوں کا تصور بھی نہی تھا ۔۔اب اسی قران میں ایک سورت ھے، نور۔ اس کی آیت ھے 40 ۔۔۔ اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍلُُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْج مِّنْ فَوْ قِہ مَوْج مِّنْ فَوْقِہ سَحَاب ط ظُلُمٰت بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ ط اِذَآاَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرٰ ہَا ط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہُ نُوْرًافَمَالَہُ مِنْ نُّوْرٍ [9] ترجمہ بھی ملاحظہ کیجیے :یا پھراس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہوجس پر ایک موج چھائی ہوئی ہو ۔اسکے اوپر ایک اور موج آرہی ہو اور اسکے اوپر بادل ہو، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے۔ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔ اللہ جسے نور نہ بخشے اس کیلئے پھر کوئی نور نہیں۔

اب دیکھیئے غور طلب بات یہ ھے، 1400سال پہلے ایک انسان جو کہ ” امی ” ہیں، وہ کیونکر اتنی تفصیل سے ایسی باتیں بیان کرسکتے تھے جو انہوں نے خود نہی دیکھی ناہی ذاتی تجربات رہے۔ تو ثابت ہواایسی انہونی معلومات یقیناً کسی مافوق الفطرت(super natural) ذریعے سے آرہی تھیں یا یہ تفصیلات وہی بتاسکتا تھا جس نے اسے ( سمندر) بنایا یعنی اللہ کی جاہ و جلال ہستی نے۔ کیونک لطف یہ ہی تو ھے جس انسان نے چالیس سال تک لکھا نہی پڑھا نہی، سمندر نہی دیکھا دریا نہی دیکھا ،وہ سامنے بیٹھے گنوار اور سیدھے سادے لوگوں کو ایسی گنجلک مثال دے ہی کیوں رہے ہیں ، آسان مثال بھی تو دی جاسکتی تھی، تو اس کا بہت ہی واضح جواب کتاب کا مالک دے رہا ھے سورت آل عمران ۔138 ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ عام لوگوں کے لئے تو یہ بیان ھے اور پرہیزگاروں کے لیے ہدایت اور نصحیت ھے

کتاب کے خالق کو معلوم تھا، اس نے کائنات بنائ ہی اپنی سب سے بہترین تخلیق کے لیے، یعنی اشرف المخلوقات ۔ اب یہ الگ بات ھے ہم نے اسے چوم چوم کے گوٹے لگے کپڑے میں سجاسنوارا کے باحفاظت گھر کی بلند ترین جگہ رکھ چھوڑا ھے ۔ہمیں جس علم کو 1400 سال پہلے دیا گیا ھے وہی علم باقی دنیا والے لاکھوں روپے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ لگاکے وہ باتیں یا معلومات حاصل کرپاتے ہیں اور ہم عش عش کر اُٹھتے ہیں ۔

جیسے1400 سال پہلے ہمیں بتایا گیا اس کی ایک شاندار مثال یہ ہی آیت ھے کہ سمندر کی گہرائیوں میں تاریکی ہوتی ہے۔ عام انسان کے بس سے باہر ہے کہ وہ 20یا 30میٹر سے زیادہ گہرائی میں اضافی سازو سامان اور آلات سے لیس ہوئے بغیر غوطہ لگا سکے ۔ اس کے علاوہ انسانی جسم میں اتنی قوت برداشت نہیں کہ جو 200 میٹر سے زیادہ گہرائی میں پڑنے والے آبی دباو کا سامنا کرتے ہوئے زندہ بھی رہ سکے۔

یہ بات ادھر ختم نہی ہوتی، مزے کی بات تو یہ ھے کہ، یہ آیت تمام سمندروں کی طرف اشارہ نہیں کرتی کیونکہ ہر سمندر کو پرت در پرت تاریکی کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ یہ آیت مبارک بطور خاص گہرے سمندروں کی جانب متوجہ کرتی ہے کیونکہ قرآن پاک کی اس آیت میں بھی وسیع اور گہرے سمندر کی تاریکی کا حوالہ دیا گیا ہے، گہرے سمندر کی یہ تہہ در تہہ تاریکی دو اسباب کا نتیجہ ہے ۔

اب زرا سا بور ٹاپک شروع ھے رنگوں کے متعلق لیکن کھلی نشانیوں والی کتاب کی ایک ایک بات کی تصدیق کرتی ہوئ جدید سائنس ہمیں بتاتی ھے کہ عام روشنی کی ایک شعاع سات رنگوں سے مل کر بنتی ہے۔ یہ سات رنگ با ترتیب ، بنفشی ، کاسنی، نیلا، سبز، پیلا، نارنجی اور سرخ ہے۔ روشنی کی شعاع جب پانی میں داخل ہوتی ہے تو انعطاف (Refrection) کے عمل سے گزرتی ہے اوپر کے دس سے پندرہ میٹر کے دوان پانی میں سرخ رنگ جذب ہو جاتی ہے۔ لہذا اگر کوئی غوطہ خود پانی میں پچیس میٹر کی گہرائی تک جا پہنچے اور زخمی ہو جائے تو وہ اپنے خون میں سرخی نہیں دیکھ پائے گا کیونکہ سرخ رنگ کی روشنی اتنی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی طرح 30سے 50میٹر تک کی گہرائی تک آتے آتے نارنجی روشنی بھی مکمل طور پر جذب ہو جاتی ہے۔ پیلی روشنی 50 سے 110میٹر تک ، سبز روشنی 100سے 200میٹر تک، نیلی روشنی 200میٹر سے کچھ زیادہ تک جبکہ کاسنی اور بنفشی روشنی اس سے بھی کچھ زیادہ گہرائی تک پہنچتے پہنچتے مکمل طور پر جذب ہو جاتی ہیں۔ پانی میںرنگوں کے اس طرح ترتیب وار غائب ہونے کی وجہ سے سمندر بھی تہہ در تہہ کرکے باریک ہوتا چلا جاتا ہے ، یعنی اندھیرے کا ظہور بھی روشنی کی پر توں کی شکل میں پیدا ہوتا ہے۔ 1000میٹر سے زیادہ کی گہرائی میں مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔

دھوپ کی شعاعیں بادلوں میں جذب ہوتی ہیں۔ جو نسبتاً روشنی کی شعا عوں کو اِدھر اُدھربکھیرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بادلوں کے نیچے تاریکی کی ایک پرت (تہہ) سی بن جاتی ہے۔ یہ تاریکی کی پہلی پرت ہے جب روشنی کی شعاعیں سطح سمندر سے ٹکراتی ہیں تو وہ (سمندری) لہروں کی سطح سے ٹکرا کر پلٹتی ہیں اور جگمگانے کا ساتاثردیتی ہیں ، لہٰذا یہ (سمندری) لہریں ہیں جو روشنی کو منعکس کرتی ہیں تاریکی کی وجہ بنتی ہیں۔ غیر منعکس شدہ روشنی ، سمندر کی گہرائیوں میں سرایت کر جاتی ہے۔

لہٰذا سمندر کے دو حصّے ہوئے ، سطح کی امتیازی علامت روشنی اور گرمی ہیں۔ جب کہ اندھیرا سمندری گہرائیوں کی وجہ سے ہے۔ علاوہ ازیں گہرے سمندر اور سطح سمندر کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے والی چیز بھی لہریں ہی ہیں۔اندرونی موجیں سمندر کے گہرے پانیوں کا احاطہ کرتی ہیں کیونکہ گہرے پانیوں کی کثافت اپنے اوپر موجود کم گہرائی والے پانیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اندرونی پانیوں میں تاریکی کا راج ہوتا ہے ۔سمندر کی اتنی گہرائی میں مچھلیاں بھی نہیں دیکھ سکتیں ۔روشنی کا واحد ذریعہ خود انکے جسم ہوتے ہیں۔

اسی بات کو قرآن پاک نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔ترجمہ:” مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں, جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھاہو” بالفاظ دیگر ان لہروں کے اوپر مزید اقسام کی لہریں ہیں یعنی وہ لہریں جو سمندر کی سطح پر پائی جائیں ترجمہ ” پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہیں” غرض اندھیروں میں جواوپر تلے پے درپے ہیں۔ جیسا کہ وضاحت کی گئی یہ بادل وہ پے در پے رکاوٹیں ہیں ۔ جو مختلف سطحوں پر روشنی کے مختلف رنگ جذب کرتے ہوئے اندھیرے کو بڑھا وا دیتی چلی جاتی ہیں۔ اور کونسی کھلی نشانیاں چاہیں ہمیں اپنے رب کی تعظیم کے لیئے؟؟ بےشک ۔۔ ” آپ کا رب بڑا ہی قدرت والا ہے”

( گوگل سے بھی مدد لی گئ ) تحریر : عمارہ خان

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...