اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ کالمز معلومات

غصہ: نعمت بھی مصیبت بھی

جذبات زندگی کا ایندھن ہیں۔ اگر آپ کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں بہت غصہ آتا ہے، یا اُن لوگوں میں جو بہت حساس اور جذباتی ہیں تو آپ کو خوشخبری ہو کہ خُدا نے آپ کو کامیاب ہونے کےلیے بے پناہ ایندھن دے کر بھیجا ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے غصے اور جذبات کو درست طور پر سمجھتے ہوئے ان کی مثبت انداز میں آبیاری کی جائے؛ اور انہیں channelize کیا جائے یعنی صحیح سمت پر گامزن کیا جائے۔غصہ حرام ہونے اور غصہ آنے کی صورت میں اسے پی جانے یا دبا دینے کی تعلیم ہمیں بچپن سے لےکر پچپن تک اس تسلسل سے دی جاتی رہی ہے

کہ قلب و ذہن کے کسی کونے میں معمولی خیال تک نہیں گزرتا کہ غصے کے بےشمار مثبت پہلو بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم غصے کے مثبت پہلوؤں کا تذکرہ کریں، یہ جاننا ضروری ہے کہ غصے کو ’’پی لینا‘‘ ہمارے ہاں کہاں سے وارد ہوا ہے؟ اس کی وجہ سورہ آلِ عمران، آیت 134 کا فہم ہے جس میں اللہ رب العزت نیک بندوں کی خصوصیات بتاتے ہوئے فرماتے ہیں ’’والکاظمین الغیظ‘‘ یعنی ’’اور جو غصے کو پی جاتے ہیں۔‘‘ اور غصہ پی جانے سے ہمارے ہاں مراد یہ لی جاتی ہے کہ غصے کو دبا دیا جائے۔ایک تحقیق کے مطابق عربی لفظ ’’کاظمین‘‘ کے ماخذ کی طرف جائیں تو معلوم ہوتا ہے

کہ عرب لوگ کسی بھرے ہوئے کنویں کوایک مخصوص عمل (Process) کے ذریعے خالی کنویں کے ساتھ جوڑتے تھے جس سے خالی کنواں بھی بھرجاتا تھا۔ یعنی بھرے ہوئے کنویں کو خالی کنویں سے جوڑنے کا عمل ’’کاظمت‘‘ کہلاتا ہے جس کے باعث پانی ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے۔ لیکن اُردو میں کاظمت کا کوئی مناسب متبادل نہیں؛ اور قاعدہ یہ ہے کہ کسی زبان میں اگر مروجہ لفظ موجود نہ ہو تو قریب ترین لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کاظمین کے معنی کے طورپر اُردو میں جو قریب ترین لفظ ملا وہ ’’پی جانا‘‘ لیا گیا۔ لہٰذا اسی معنی کے تناظر میں ہمیں یہ سکھایا گیا

کہ جب بھی غصہ آئے تو اسے پی جانا چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مترجمین کی بڑی تعداد نے اگرچہ اسے ’’پی جانے‘‘ کے معنوں میں لیا ہے البتہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور مولانا احمد علیؒ نے کاظمین کا ترجمہ ’’غصے کو ضبط کرنے والے‘‘ کیا ہے جو انگریزی لفظ to manage کے زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح علامہ آلوسی السید محمود بغدادیؒ تفسیر روح المعانی میں عربوں کا محاورہ نقل کیا ہے کہ وہ کظم اس وقت بھی بولتے تھے جب مشک بھر کر پانی اُبلنے لگتا تو لوگ رسی سے اس کا منہ باندھ دیتے، لہٰذا کظم کے معنی ہیں: ’’شَدُّ رَأسِ الْقِرْبَۃِ عِنْدَ اِمْتِلَائِ ہَا‘‘ یعنی مشک کا منہ باندھ دینا جب پانی بھر کر اس کے منہ سے نکلنے لگے۔ گویا کاظمت کے مفہوم کی گہرائی میں اتریں تو اس کا مفہوم غصے کو ضبط یعنی Manage کرنا، روک لینا یا ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا لیا جانا چاہیے۔

اور یہی مفہوم ایموشنل مینجمنٹ (جذباتی انتظام کاری) کے محققین اپنی تحقیق میں بیان کرتے ہیں؛ یعنی غصے کو پینا درست نہیں بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اسے کسی مثبت یا تعمیری مقصد کی طرف موڑ دیا جائے۔1990 کی دہائی میں ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق کسی بھی انسان کی کامیابی میں آئی کیو (یعنی ذہانت) کا کردار صرف 15 سے 20 فیصد تک ہوتا ہے جبکہ 80 سے 85 فیصد کامیابی کا انحصار آدمی کی جذباتیت پر ہوتا ہے۔ یہیں سے ایک نئی اصطلاح ’’Emotional Intelligence‘‘ یعنی ’’جذباتی ذہانت‘‘ متعارف کرائی گئی۔جذباتی ذہانت یوں تو ایک مضمون ہے جس کے تحت بہت سے جذبات کی تہذیب کرنا سکھایا جاتا ہے

تاہم سرِدست چونکہ موضوع غصے کا جذبہ ہے اس لیے زیرِ نظر تحریر میں میری توجہ اسی ایک نکتے پر رہے گی۔آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ طبیعتاً ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیں، انہیں غصہ ذرا دیرسے یا بہت کم آتا ہے لیکن روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں سے بھی ہمارا واسطہ پڑتا رہتا ہے جو چہرے سے بہت غصیلے لگتے ہیں، ناک منہ پر مسلسل بارہ بجائے رکھتے ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے غصے کو دبایا ہوا ہوتا ہے اور غصہ چونکہ فطری طور پر کہیں نہ کہیں اظہار چاہتا ہے، چنانچہ جب اسے اظہار یا ریلیز کرنے کے مواقع میسر نہ ہوں تو غصے کے اثرات ان کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے ہیں جس کے سبب ان کی شخصیت کے گرد ایک غیر مرئی سی کانٹوں کی دیوار قائم ہوجاتی ہے جسے دیکھ کر لوگ راستہ بدل لینے ہی میں عافیت جانتے ہیں۔بات بات پر نکتہ چینی کرنا، تنقید کرنا اور موقع بے موقع جھڑکیاں دینا ان کی عادت بن جاتی ہے۔ بالخصوص بڑھاپے میں ان کا چڑچڑا پن عروج پر ہوتا ہے، طبیعت و مزاج میں یہ تمام تر خامیاں اکثر غصے کو غیرفطری طور پر اور زبردستی دبا دینے

یا ’’پی لینے‘‘ کی کوشش کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ غصے کو جتنا دبایا جائے گا، وہ اتنا ہی شخصیت کو متاثر کرے گا۔یہی معاملہ دیگر بہت سے جذبات کےساتھ بھی ہے مثلاً محبت کا جذبہ، یا اِس سے ایک قدم اور آگے بڑھیے تو جنسی تسکین کا جذبہ۔ ان تمام جذبات کا ہمارے اندر موجود ہونا درحقیقت ہمارے انسان ہونے کی علامت ہے۔ مسئلہ ان جذبات کے ہونے کا نہیں کیونکہ یہ تو خود خدا نے ہمارے اندر رکھے ہیں۔ مسئلہ درحقیقت ان جذبات کے بےقابو ہونے یا بےلگام ہونے کا ہے۔غصے کی مثال کسی سیلابی ریلے کی مانند ہے۔ اگر آپ کے پاس سیلابی پانی کو روکنے، اسے محفوظ کرکے کارآمد بنانے کےلیے ڈیم (بند) موجود نہ ہوں تو یہ سیلاب بستیوں اور کھیت کھلیانوں کو اجاڑ کر رکھ دے گا۔ لیکن اگر ڈیم موجود ہوں تو جو سیلابی پانی تباہی و بربادی کا مؤجب بن سکتا تھا، اسی کو محفوظ کرکے بجلی جیسی انتہائی کارآمد اور مفید چیز بنائی جاسکتی ہے، نہری نظام کی

بحالی کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پانی پہنچانے اور کھیتوں کو سیراب کرنے کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔عین یہی معاملہ غصے کے ساتھ بھی ہے۔ غصہ درحقیقت ایک توانائی (انرجی) ہے، ایک اندھی قوت ہے جسے اگر منضبط (کنٹرول) کرکے کسی مثبت اور تعمیری مقصد کےلیے استعمال کرلیا جائے تو یہی جذبہ جو آپ کو مصیبت معلوم ہوتا ہے، آپ کےلیے زندگی میں کامیابی کا عنوان بن جائے گا۔ یعنی کمال یہ نہیں کہ آپ نے غصے کو پی لیا، کمال یہ ہے کہ آپ غصے کو چینلائز (Channelize) کرنا سیکھ لیں۔ اس حوالے سے واصف علی واصفؒ کا یہ قول معنویت سے بھرپور ہے: ’’کم ظرف کا غصہ اسے کھا جاتا ہے اور اعلیٰ ظرف کا غصہ اسے بنا جاتا ہے۔‘‘ اوریہ اعلیٰ ظرفی مقصدیت کے شعور سے پیدا ہوتی ہے، یعنی جس انسان کی زندگی میں کوئی برتر اور اعلیٰ مقصد ہوگا وہ اپنے غصے کو اس مقصد میں کامیابی کےلیے استعمال کرے گا۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے لوگ کسی خاص شعبےمیں

صرف اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ انہیں زندگی میں کسی نے یہ طعنہ دیا کہ تم فلاں کام نہیں کرسکتے؛ اور انہوں نے اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے اُس کام میں مہارت حاصل کی اور طعنہ دینے والوں کو غلط ثابت کردکھایا۔آپ کو محسوس ہوتا ہے کسی نے آپ کی قدر نہیں پہچانی، آپ کو کہیں بلاجواز اور بے قصور ذلیل و رسوا کردیا گیا، کسی ادارے نے باوجود اہلیت کے آپ کی اہلیت تسلیم نہیں کی اور آپ غصے سے بےقابو ہورہے ہیں تو ٹھہر جائیے۔ آپ کا غصہ بالکل ٹھیک ہے، اسے ضائع ہونے نہ دیجیے۔ بعض اوقات اس قسم کے منفی واقعات ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ قدرت آپ کے اندر چھپی مخفی صلاحیتوں کو باہر لانا چاہتی ہے۔ حالات و واقعات کی ٹھوکر آپ کو آپ کے اندر کے خزانے کا وہ نقشہ دکھا دیتی ہے

جو عام حالات میں دکھائی نہیں دیتا لہٰذا غصے کو ضبط (Manage) کیجیے۔اپنی زندگی کےلیے کوئی اعلیٰ مقصد تلاش کیجیے اور اپنے وقت اور صلاحیتوں کو اس کے حصول میں جھونک دیجیے۔ اپنی توانائیوں کو کسی بامقصد کام کےلیے وقف کردیجیے؛ اور اپنے کام سے ثابت کر دکھائیے کہ آپ کسی سے کم نہیں! یاد رکھیے کہ عمل کا تعلق حقیقتاً جذبے سے ہے نہ کہ صحت و طاقت سے۔ مواقع آپ کے منتظر ہیں۔ اگر انسان کے اندر کوئی کام کرنے کی آگ بھڑک اُٹھے تو وہ ہر حال میں اُس کام کو کر ڈالتا ہے خواہ حالات کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں، خواہ وہ بسترِ مرگ پر ہی کیوں نہ پڑا ہو۔