بلاگ صحت

مصنوعی بے ہوشی

اینستھیزیا Anesthesia کی اصطلاح دراصل حسیات کے عارضی طور پر یا محسوس کرنے کی صلاحیت سے کچھ وقت کے لئے محروم ہونے کے لئے استعمال کی جاتی ہے. طبی اصطلاح کے مطابق یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں مریض کو درد کے احساس سے محروم کرکے اس کے جسم پر کوئی طبی طریقہ کار اپنانا ہو جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جسمانی تکلیف کے احساس یا درد کو بلکل محسو س نہ کر سکے. آپ کا دماغ ہی آپ کے جسم کے تمام افعال کو قابو رکھتا ہے اور اس کا اعصابی نظام nervous system جو ریڑھ کی ہڈی spinal cord میں موجود ہے اور دھاگے جیسے اعصاب کے ذریعے جسم کے تمام حصوں سے منسلک ہے وہ آپ کے دماغ سے نکلے پیغام کوان تک پہنچانے اور ان حصوں سے ملنے والی معلومات کو دماغ تک لے جانے کا ذمہ دار ہے. بے ہوشی کی ادویات ان اعصاب کو دراصل معطل کر دیتی ہیں اور دماغ کو جسم پر لگنے والے کٹ یا چیرے کے ذریعے پیدا ہونے والے درد کا احساس تک نہیں ہوتا . مریض کو بغیر بے ہوش کرکے بھی اس کے درد محسوس کرنے کی صلاحیت معطل کی جا سکتی ہے اور اینستھیزیا کا جزوی یا مکمل بے ہوشی کا بھی طریقہ اپنایا جا سکتا ہے.

عام اینستھیزیا general anesthesia میں مریض بے ہوش ہوتا ہے اور اس کا پورا جسم مکمل طور پر اس بے ہوشی میں کسی تکلیف یا درد کو محسوس نہیں کر پاتا دوسرے لوکل اینستھیزیا local anesthesia میں مریض کے جسم کا وہ حصہ درد کو محسوس کرنے سے قاصر ہوتا ہے جسکا آپریشن کرنا مقصود ہو. اس میں مریض اپنے ہوش وحواس میں ہوتا ہے لیکن اپنے جسم کے اس حصے میں کچھ محسوسس نہیں کرتا جس حصے کا آپریشن ہو رہا ہوتا ہے. عام اینستھیزیا پیدا کرنے والے کیمیکل کی دریافت سے پہلے سرجری کے مریضوں کے لئے الکحل اورافیم کا ہی سہارا تھا. آپریشن کے دوران اگر انکا اثر ختم ہو جاتا تو کئی مریض درد کی شدت کو محسوس کرتے ہی آپریشن کے دوران ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے. نیٹروس آکسائیڈ, ایتھر اور کلوروفام گیسوں کا اینستھیزیا کے لئے استعمال انیسویں صدی میں شروع ہوا. نیٹروس آکسائیڈ گیس جس کو عام طور پر laughing gas کہا جاتا ہے سب سے پہلے دانتوں کے آپریشن میں استعمال کی گئی مگر اس میں ناکامی کی وجہ سے ایک عرصے تک اس کو استعمال نہیں کیا گیا مگر آج آپریشن میں درد کو قابو رکھنے کے لئےاس کا استعمال عام ہے. انیسویں صدی کے اختتام تک ایتھر کو ہی کلوروفام سے محفوظ تصور کیا جاتا تھا اور بہت ہی تجربہ کار اس کا استعمال کرنے کی اہلیت رکھتے تھے.

اب نا ایتھر اور نا ہی کلوروفام کو سرجری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ جدید اینستھیزیا کے طریقہ کار میں اب کیمیکلز اور دوسری ادویات اپنا کر درد محسوس کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کرکےمریض کی سرجری کی جاتی ہے. کچھ کیمیکلز ایسے بھی ہیں جو منہ کے ذریعے یا جسم کی جلد , عضلات میں انجکشن کے ذریعے داخل کئے جاتے ہیں. کچھ کیمیکلز کو نسوں کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہےیا پھر گیس ماسک لگا کر سانس کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے. کچھ کیمیکلز کریم, جیلز یا مائع کی صورت اس جگہ لگائے جاتے ہیں جس حصےکا آپریشن کرنا ہوتا ہے. عام اینستھیزیا میں مریض کو مکمل بے ہوش کرنے کے بعد مُمسَک ادویات کے ملاپ جیسے نیٹروس آکسائیڈ, نارکوٹیکس narcotics ( جو نیند لاتی اور درد کو ختم کرتی ہے) اور عضلات کو ڈھیلا کرنے کی دوا ؤں کو آپریشن کے دوران مسلسل استعمال کیا جاتا ہے. دورانِ آپریشن اینستھیزیالوجسٹ یا اینستھیزیا دینے کا ماہر مریض کے بلڈپریشر, سانس کی رفتار اور دل کی دھڑکن پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ضرورت کےمطابق بے ہوشی کو طاری رکھنے کے لئے جسم میں ان کیمکلز یا ادویات کی مقدار کی مطلوبہ سطح کو قائم رکھتا ہے.مریض کو ہوش میں لانے کے لئے عام دوا تھیوپینٹون سوڈیم thiopentone sodium کا استعمال کیا جاتا ہے جو جسم میں داخل ہوتے ہی 30 سیکنڈ کے اندر اپنا اثر دکھاتی ہے. مریض پر بے ہوشی طاری رکھنے یا اسے ہوش میں لانے کے لئے کے لئے سانس کے ذریعے گیس یا وہ مائع ادویات جو فوراً ہی گیس میں تبدیل ہو جاتی ہیں کا استعمال کیا جاتا ہے. جن میں نیٹروس آکسائیڈ, ہالوتھین halothane, انفلیورین enflurane, اور آئسوفلیورین isoflurane شامل ہیں.