ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

انڈے ، مرغیاں ، کٹے اور ہمارا احساس کمتری

عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈوں ، مرغیوں اور کٹوں کا ذکر کیا کر دیا ، احباب بد مزہ ہو گئے ۔ طنز اور تضحیک کے دیوان لکھے جا رہے ہیں ۔ معلوم نہیں یہ روایتی احساس کمتری کا آزار ہے کہ مرغی ، انڈے اور کٹوں جیسی مقامی اصطلاحات سے مزاج یار برہم ہوگیا یا یہ اپنی تہذیب سے جڑی مقامی معیشت سے جہالت کی حد تک ناواقفیت کی علامت ہے لیکن یہ بات شرح صدر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان کا موقف معیشت کے کسی بھی پیمانے پر پرکھ کر دیکھ لیجیے ، وہ نامعتبر نہیں ہے۔

دنیا محض چند بڑے شہروں کی چکا چوند کا نام ہے نہ ہی معیشت کو محض جدید اصطلاحات تک محدود کیا جا سکتا ہے ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں ’’ رورل اکانومی‘‘ نام کی ایک چیز بھی پائی جاتی ہے ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی آبادی کا غالب حصہ آج بھی دیہاتوں میں رہتا ہے ۔ ایسے ملک میں ’’ رورل اکانومی‘‘ کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ عمران خان نے معیشت کے اسی پہلو کو اپنا مخاطب بنایا ہے تو اس پر تنقید کیسی ؟

مرغیوں ، انڈوں اور کٹوں کے ذکر پر تمسخر اڑانے والے احباب کیا جانتے ہیں ہماری ’’ رورل اکانومی‘‘ کا حجم کیا ہے؟ اناج کو ایک طرف رکھ دیجیے اس ’’ رورل اکانومی‘‘ کے صرف اس ایک پہلو کا ذکر کر لیتے ہیں جس کا تعلق مرغیوں ، انڈوں اور کٹوں سے ہے ۔

کٹوں کے ذکر پر بد مزہ ہونے والوں کو معلوم ہونا چاہیے پاکستان کی کل جی ڈی پی کا 11 فیصد لائیو سٹاک پر مشتمل ہے ۔ جی ہاں گیارہ فیصد ۔ یعنی آپ کی زرعی زمینوں سے اگنے والے اناج سے بھی زیادہ ۔ چند سال پہلے کی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں 24.2 ملین گائیں ہیں ۔ 26.3 ملین بھینسیں ہیں ، 24.9 ملین بھیڑیں ہیں اور56.7 ملین بکریاں ہیں ۔ یاد رہے کہ ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں ۔ اب کیا اتنے ملین مویشی ان ’ پینڈو‘ لوگوں نے خواہ مخواہ رکھے ہوئے ہیں کہ چلو نہ فیس بک ہے نہ ٹوئٹر تو کٹے، بھینسیں اور بکریاں ہی پال لی جائیں ؟ یہ ’’ رورل اکانومی ‘‘ ہے اور اسی کی بدولت پاکستان ہر سال 30 ملین ٹن دودھ پیدا کرتا ہے اور اس کا شمار دودھ پیدا کرنے چار بڑے ممالک میں ہوتا ہے ۔ آج ہم سعودی عرب سے تیل یا قرض مانگنے تو چلے جاتے ہیں لیکن کسی حکومت کو یہ خیال نہیں آیا کہ سعودی عرب سے کہے وہ حج کے موقع پر ذبح کرنے کے لیے پاکستان سے بھی معقوم تعداد میں لائیو سٹاک منگوائے ۔ امکانات کا ایک جہاں موجود ہے لیکن کوئی اس طرف توجہ نہیں کرتا۔

ذرا انڈوں اور مرغیوں کی بھی سنتے جائیے ۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کام میں معیشت کے کتنے غیر معمولی امکانات ہیں ؟ پاکستان میں اس وقت 530 ملین مرغیاں ہیں ۔ کیا ہمیں علم ہے ہر سال ان مرغیوں کا کتنا گوشت ہم کھا جاتے ہیں؟ ہمارے معدوں میں ہر سال جانے والے گوشت کا وزن 2250 ملین کلوگرام ہے ۔ کیا آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاکستان میں ہر سال کتنے انڈے مارکیٹ میں پہنچائے جاتے ہیں؟ 18 ہزار ملین ۔ جی ہاں اٹھارہ ہزار ملین ۔ ایک دفعہ پھر یاد کراتا چلوں کہ ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں ۔ کیا انڈے اور مرغی کے ذکر پر ہنسنے اور تمسخر اڑانے والوں کو معلوم ہے اس کاروبار کی وجہ سے ملک میں کتنے لوگوں کو روزگار میسر ہے؟ پندرہ لاکھ لوگوں کو ۔ اس کاروبار کا گروتھ ریٹ حیران کن طور پر 12 فیصد سالانہ ہے

یہ اگر اتنا ہی معمولی شعبہ ہوتا تو مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں اسلم اس سے وابستہ نہ ہوتے۔ سرمایہ دار اس شعبے میں مال بنائے تو درست ہے لیکن وزیر اعظم اسی شعبے میں عام آدمی کے لیے سہولیات لانے کی بات کرے تو اس کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اور حیران کن طور پر اس کام میں حمزہ شہباز کی ن لیگ اور میاں اسلم کی جماعت اسلامی کے کارکن آگے آگے ہوتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے قائدین کرام کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ’’ رورل اکانومی‘‘ کو بہتر کرنے کی بات خود ان کے انتخابی منشور میں موجود تھی یہ الگ بات کہ منشور پر عمل کرتے ہوئے عام دیہاتی کے حالات بہتر کرنے کی بجائے اس اکانومی پر بھی حمزہ شہباز نے ہاتھ صاف کر لیے۔

ہم میں سے اکثریت کا پس منظر دیہاتی ہے لیکن ہم احساس کمتری کا شکار ہیں ۔ ہم ماڈرن ہونا چاہتے ہیں، ہماری بلا سے کہ اس کوشش میں ہم کتنے ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہو جائیں ۔ ہم ساری زندگی مصنوعی طور پر اس خوف میں عجیب و غریب حرکتیں کرتے گزار دیتے ہیں کہ ہمیں پینڈو نہ سمجھا جائے۔ اس احساس کمتری کا صحیح اندازہ لگانا ہو تو اراکین پارلیمان کا وہ پروفائل کسی روز جا کر پڑھیں جو وہ اسمبلی میں جمع کراتے ہیں ۔ پلڈاٹ نے کچھ سال قبل اسے کتابی صورت میں شا ئع کیا تھا ۔ یہ اسمبلی روایتی زمینداروں اور جاگیرداروں سے بھری پڑی تھی جن کا بنیادی ذریعہ آمدن بھی یہی زراعت ہی کا شعبہ تھا لیکن پوری اسمبلی میں صرف چار اراکین ایسے تھے جنہوں نے دلچسپی کے میدان میں زراعت اور کھیتی باڑی لکھا تھا ۔ ایک صاحب کی تعلیمی قابلیت درس نظامی تھی اور انہوں نے دلچسپی کے میدان میں سپیس سائنس لکھا ہوا تھا۔

پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک تھا اس لیے زراعت کے شعبے میں تعلیم و تحقیق کے لیے فیصل آباد ، لسبیلہ ، پشاور ، ٹنڈو جام میں زرعی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے آگے مزید شہروں میں سب کیمپس قائم کیے گئے ۔ پوٹھوہار کے علاقے میں زراعت کے امور میں علم و تحقیق کے لیے زرعی بارانی یونیورسٹی قائم کی گئی ۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ وہی احساس کمتری آڑے آ گیا کہ اب ہم بھلا آلو ، مٹر ، گاجر ، گنے اور کینو وغیرہ پر تحقیق کرتے اچھے لگتے ہیں ۔ چنانچہ حالت یہ ہے کہ اس وقت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ، سافٹ ویئر انجینئرنگ ، کمپیوٹر سائنس وغیرہ کی تعلیم دی جا رہی ہے

۔ یہی حال بارابنی یونیورسٹی کا ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کلاسز جاری ہیں ۔ ایک دور میں بارانی یونیورسٹی نے ایل ایل بی کی کلاسز بھی شروع کر دی تھیں ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ زرعی یونیورسٹیاں اپنی ساری توانائیاں زراعت اور اس سے متصل شعبوں پر صرف کرتیں لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔ مرغی ، انڈے اور کٹے ہماری ’’ رورل اکانومی‘‘ کے اہم ترین اجزاء ہیں ۔ تاہم کسی کے ہاں یہ تفنن طبع کا عنوان ہیں تو یہ اس کا اپنا نقص فہم ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...