بلاگ

امتیابھ بچن اور ہم پاکستانی مسلمان

دوستوں نے چارلس سوبھراج کا نام سنا ہو گا؟؟ کراچی والا نہیں جس کے نام پہ ہسپتال ہے، بلکہ مشہورِ زمانہ مفرور انٹرنیشنل اسمگلر چارلس سوبھراج۔۔۔ 70 اور 80 کی دہائی کا ایک مشہور بھارتی کردار، جسے انٹر پول بھی تلاش کر کے تھک گئی تھی۔۔ چارلس سوبھراج اپنے دور میں "لیموزین، کیڈلک، جیکوارڈ ، فورڈ، ” جیسی مہنگی ترین گاڑیوں کا اسمگلر بھی تھا۔۔۔ جو بڑی چالاکی ، ہوشیاری سے ایران افغانستان کے رستے ان گاڑیوں کے پرزہ جات بشمول انجن اسمگل کر کے بھارت میں اسمبل کر کے بڑی بڑی سلیبڑٹیز، ہائی پروفائل لوگوں کو وہ گاڑیاں بیچتا تھا۔۔۔ ان لوگوں کو اس دور کی یہ "ہائبرڈ” کار اونے پونے پڑتی تھی، چارلس سوبھراج سے یہ "فیض” حاصل کرنے والوں بڑی بڑی شخصیات میں اس وقت کے وزیر اعظم ، اور کءی وزراء سمیت سپریم سٹار ہیرو "امتیابھ بچن” بھی شامل ہیں۔۔۔ چارلس سوبھراج دو نمبر کام کو ایک نمبردکھانے میں خاصہ رکھتا تھا۔۔۔

امتِابھ بچن کی بات بعد میں کرتے ہیں ، پہلے دو پنڈتوں کا سچا اصلی واقعہ سناتے ہیں۔۔۔ ، دونوں پنجاب کے دو مختلف دیہات کے رہائشی تھے، ایک پنڈت جی تو تھوڑا بہت علم ، گیان رکھتے تھے جبکہ دوسرے پنڈت جی حسن منصوری جیسے مطق جاہل، علم و گیان سے دور دور تک کا واسطہ نہ تھا، البتہ بلنگ بانگ دعوے، لمبی لمبی باتیں، من گھڑت قصے کہانیاں سُنا کر ، اپنے گاوْں والوں کو مرعوب کر رکھا تھا۔۔۔ کسی دوست نے اگر 90 کی دہائی کا پاکستانی ڈرامہ "چھوٹی سی دنیا” دیکھا ہو تو یا اس کا مشہور زمانہ کلپ جس میں انگلش بولنے کا مقابلہ ہوتا ہے، جانو جرمن دیکھا سنا ہو تو بس ۔۔۔ وہ پنڈت جی وہی جانو جرمن تھے۔۔۔ دونوں گاوْں والے اپنے اپنے پنڈتوں کے علم و گیان کے قصے ایک دوجے کو سناتے تو نوبت جھگڑے تک پہنچ جاتی کہ نہیں جی ہمارا پنڈت "زیادہ بڑا گیانی ہے”

پھر یوں ہوا کہ دونوں گاوں والوں نے اس جانو جرمن والے انگلش ملاکھڑے کی طرح دونوں پنڈتوں کا "ملاکھڑہ” جسے مولوی حضرات "مناظرہ” کہتے ہیں رکھ دیا، کہ جو زیادہ علم ، گیان بولے گا وہی "سکندر” وقت مقررہ پہ دونوں اطراف کے لوگ اپنے اپنے پنڈت کو سر پہ بٹھائے پہنچ گئے۔۔۔ دونوں پنڈت ایک دوجے کے آمنے سامنے۔۔۔ اب حسن منصوری جیسے جاہل پنڈت اندر سے ڈر رہے ہیں کہ پول نہ کھل جائے ، دوسرا پنڈت بات کرے تو کوئی من گھڑت جواب دیں۔۔۔ جب کہ دوسرے پنڈت جی بوجہ ادب احترام خاموش کہ پتا نہیں سامنے والے پنڈت جی کس درجہ کے گیانی ہیں، وہ پہلے بولیں، کہیں ان کی بے ادبی گستاخی نہ ہو جائے۔۔۔۔۔ کافی دیر دونوں اطراف سے

خاموشی۔۔۔ بلا آخر اصلی پنڈت سے نہ رہا گیا، انہوں نے ہاتھ جوڑ کر دوسرے پنڈت حسن منصوری کو ڈنڈوت کرتے ہوئے ادب سے فرمایا۔۔۔
” پنڈت مہاراج! کجھ اُچرو” ( کچھ بولیں، ارشاد ۔۔۔) اب حسن منصوری جیسے پنڈت کی بلا جانے، کہ "اُچرو ” کیا ہوتا ہے ، بصد احترام بولنے کی درخواست ہے۔۔۔ مگر پنڈت جی چونکہ "اصلی پنڈت تھے، یو ٹیوب چینل، سوشل میڈیا نیٹ ورک سمیت ،خلفاء کی کثیر تعداد رکھتے تھے، اور جانو جرمن ڈرامے کے رائٹر و ہدائیت کار بھی تھے، اور جانو جرمن بھی تھے۔۔۔ فوری جھٹ سے بولے "اُچرو، مُچرو، گُھچرو”۔۔۔۔۔( بے تُکے مہمل الفاظ، خود ساختہ من گھڑت) تالیوں کی گونج کہ ان کے پنڈت نے ایک لفظ کے بدلے 3 جواب دئیے۔۔۔۔ اب گیانی پنڈت کو حیرانی اور پریشانی ہوئی کہ پتا نہیں کون سی زبان میں ، کیا جواب دیا ہے، جو کبھی سُنا نہ پڑھا۔۔۔ حریان پریشان ہو کر دیسی زبان میں پوچھا ” ایہہ کی ؟؟” (یہ کیا ہے) پنڈت جانو جرمن دلیر ہو چکے تھے، "ایہہ کی” کے جواب میں فوری بولے "ایہہ کی، میہہ کی، ڈھیہ کی، لیہہ کی، نیہہ کی” تالیوں کا شور گونجا، جانو جرمن پںڈت حسن منصوری کو ہاتھوں پہ اُٹھا لیا گیا، جب کہ اصلی گیانی کی آواز اسی شور میں کہیں دب کر رہ گئی ، کہ ایک بات کے اتنے اتنے جواب، ہمارے پنڈت اصلی کھرا، سچا گیانی ہے۔۔۔

اسی امتیابھ بچن کی بے شمار فلمیں ہیں، جس میں اس نے نے بھوکے ننگے، غریب، یتیم، عام انسان کا کردار ادا کیا ہے، گربت کے فضائل، خواص، پہ بے شامر عمدہ ڈئیلاگ مارے ہیں۔۔۔۔۔۔ مگر اصل زندگی میں اس کے پاس دنیا کی سب سے مہنگی گاڑی ہوا کرتی تھی اسی چارلس سوبھراج سے لی گئی لیموزین ، ، ممبئی کے مہنگے ترین علاقہ میں 3 ایکڑ سے بڑا بنگلہ۔۔۔ شاید 92 تک سب سے مہنگا اداکار تھا، جو اپنی فلم کا سب سے زیادہ معاوضہ لیا کرتا تھا۔۔۔ یہاں ہم سب امتیابھ بچن ہیں۔۔۔ اگر نہیں تو ہمارے ارد گرد امتیابھ بچن موجود ہیں۔۔50 ہزار معاوضہ لے کر نعت شریف پڑھنے والے امتیابھ بچن جو نعتیں پڑھ رہے ہوں گے "مینوں چڑھیا فقر دا رنگ” لاکھ سے اوپر معاضہ لے کر گھنٹہ تقریر کی فلم چلانے والے اسلامی سکالر، مولوی مفتی ، ذاکر، مقرر "جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ” کے اسوہ حسنہ بتا رہے ہوں گے۔۔ ساری زندگی قتل و غارت کرنے کرانے والے سیاہ ست دان مہاجروں کی مظلومیت، مہاجر قوم پہ ٹسوے بہا رہے ہوں گے۔۔ جعلی ڈگریاں لے کر تعلیم کے محمکہ کے اعلیٰ عہدے پہ ہوں گے۔۔

منہ میں سونے کا چمچ لیکر پیدا ہونے والے غریب عوام کی غربت مہنگائی کے خلاف جہاد کے دعوے کرتے ملیں گے۔۔روحانی علاج فی سبیل اللہ کے نام پہ ہزاروں ، لاکھوں روپے بٹورتے ملیں گے۔۔۔ لینڈ کروزرز، ، ویگوز، میں سفر کرنے والے فقر درویسشی کے فضائل بیان کرتے ملیں گے، ان کے چہرے کی نورانیت سے متاثرہ لوگ انہیں ملنے جائیں تو موصوف انگلینڈ امریکہ کے دورہ پہ ہوں گے۔۔۔ انگلیںڈ دوبئی، فرانس، امریکہ سے کم کسی کا کیس لینے کے روادار نہ ہوں گے۔۔۔ کسی غریب کو اپنے عمل کا صدقہ دینے کو تیار نہ ہوں گے۔۔۔۔ بخدا! سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ کس کس کا کہوں، کس کس کا بتاوْں ، یونیورسٹیز، کالج سکولز غریب بچوں کو سکالرشپ کے نام پہ فیس معاف تو کر دیں گے، مگر ہزاروں روپے کی کتابیں دیگر لوازمات نہیں دیں گے۔۔۔ فیس معاف کے نام پہ ادکاری۔۔۔ یہ الفاظ "ترس” ہمدردی”، فی سبیل اللہ، خدمت وغیرہ ۔۔۔ یہ اسی اداکاری کے پورے 3 گھنٹے کی فلم ہے۔۔۔ اور یہ امتیابھ بچن زندگی کے ہر شعبہ میں ہر میدان میں ہیں ۔۔ اور سب سے کامیاب لبادہ "اسلام” تصوف” ، "عامل” ، "روحانی علاج” ، پیر’، بابا "” صوفی تعلیم وتربیت” وغیرہ وغیرہ یہ سب سے خوبصورت "کاسٹیومز” ہیں۔۔۔ اندر کے جلاد بھیڑئے، شیطان کو نورانی چہرہ دینے کے۔۔۔۔۔

اُس اداکار کی مانگ ، معاوضہ زیادہ ہو گا، بیرون ملک میں بھی مانگ ہو گی جس کے نام کے ساتھ مقدس، معتبر سلاسل کے نام کے
ساتھ عارف، پیر طریقت، رہبرِ شریعت، عارفِ دوراں، قطبِ زماں، غوثِ رہبراں، وغیرہ وغیرہ کے لیبل زیادہ ہوں گے، ایسے پنڈتوں نے الفاظ زیادہ سیکھے ہوئے ہیں، "اُچرو ، مُچرو، گُھچرو”، ان کی ریٹنگ زیادہ ہے، ان کے "نقال” عرف "خلیفہ” زیادہ ہیں۔۔۔ مگر یہ سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے "امتیابھ بچن ” ہیں۔۔۔ ہم سب کہیں نہ کہیں "امتیابھ چن ” ہیں۔۔۔۔ اگر آپ نے خود کا ادارک کر لیا ہے کہ آپ ” امتیابھ بچن” ہیں تو ارد گرد کے امتیابھ بچنوں سے بچنا آپ پہ عین واجب ہے۔۔۔۔ اور ساتھ میں عین فرض ہے کہ مرشدی سید واصف علی واصف رحمت اللہ علیہ والی دعا مانگنا ک ” یا اللہ اداکاری کو اداکاروں سے بچانا، اسلام کو مسلمانوں سے بچانا،۔۔۔۔۔۔۔”