ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

عامر لیاقت سے گرگٹ لیاقت تک کا سفر

کل شام کو سوشل میڈیا پر ایک طوفان اس وقت کھڑا ہوا جب عامر لیاقت حسین نے بول ٹی وی کی انتظامیہ اور خاص طور پر شعیب شیخ کو اپنے ٹوئیٹس کے ذریعے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ عامر لیاقت کا موقف تھا کہ بول اور شعیب شیخ نے یہ کہا کہ عامر لیاقت کی طرف سے چینل چھوڑنے کا کوئی نوٹس نہیں ملا اور ہم کو ان کے ٹویٹ سے پتہ چلا کہ انہوں نے چینل چھوڑ دیا ہے۔ جس پر عامر لیاقت نے بول انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آپ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، میں نے سب کچھ بتا دیا تھا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ چونکہ تم لوگوں نے میرے خلاف ٹرینڈ شروع کر کے مجھے ڈرانے کی کوشش کی ہے تو اب میں بھی بھرے بازار میں تمہارے کپڑے اتاروں گا اور پھر اس کے بعد عامر لیاقت نے حسبِ معمول الزام تراشیوں اور کردار کشی کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جو کہ نہایت شرمناک تھا۔

میں عامر لیاقت کا بہت بڑا ناقد رہا ہوں لیکن ایک سال قبل جب عامر لیاقت بول سے وابستہ ہوئے تو میں نے ان کو سپورٹ کرنا شروع کیا اور بلاشبہ عامر لیاقت نے بہترین شوز کیے۔ خاص طور پر عامر لیاقت کا گستاخ بلاگرز کے کیس میں بہت شاندار کردار رہا اور اس کے علاوہ بھارتی پروپیگنڈا کو جس طرح عامر لیاقت نے کاؤنٹر کیا وہ بھی بلاشبہ قابلِ تعریف تھا۔ اور اس کے علاوہ میں جو ایک بات سمجھ رہا تھا وہ میری بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ عامر لیاقت اب سمجھ دار ہو گیا ہے اور اب وہ صرف اپنے مشن پر فوکس کرے گا اور یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی۔
عامر لیاقت نے تو اتنی تیزی سے رنگ بدلے کہ گرگٹ بھی حیران ہے کہ یہ کون ہے ؟ عامر لیاقت نے بول کے خلاف اعلان جنگ کرتے ساتھ ہی تمام پرانے دشمنوں سے معافی مانگ لی ہے اور کہا کہ مجھے بول نے اکسایا تھا۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی ایک جھوٹ تو اس کے پہلے بیان میں ہی شامل ہے کہ میں نے بول انتظامیہ کو بتا دیا تھا کہ میں چینل چھوڑ رہا ہوں جب کہ سب جانتے ہیں کہ استعفیٰ دینے کا ایک آفیشل اور فارمل طریقہ کار ہوتا ہے۔ اگر عامر لیاقت نے اسعفیٰ لکھا تھا تو وہ اب منظرِ عام پر کیوں نہیں لائے ؟ اور اگر زبانی کلامی کہا تھا تو پھر بول انتظامیہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ عامر لیاقت نے ایک غیر پروفیشنل انداز اپنایا۔
آج سے کچھ دن پہلے عامر لیاقت کے متعلق ایک بات گردش کر رہی تھی کہ شاید عامر لیاقت پی ٹی آئی جوائن کریں گے اور میں اس کے حق میں شد و مد کے ساتھ دلائل دے رہا تھا لیکن آج مجھے احساس ہو رہا ہے کہ عامر لیاقت کا پی ٹی آئی میں شامل نہ ہونا بھی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ثابت ہو گئی ورنہ اس شخص کا کیا اعتبار ہے، جو آج جس کے بھی گن گا رہا ہو چند دنوں بعد اسی پر بہتان تراشیاں کرنے لگتا ہے۔ پہلے ایک چینل میں جاتا ہے، پھر وہ چھوڑ کر دوسرے چینل پر جا کر پہلے والوں کی برائیاں کرتا ہے، پھر دوبارہ سے پہلے والے چینل کو جوائن کر لیتا ہے اور دوسرے والے چینل کی برائیاں شروع کر دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ چند مہینے بعد اچھی بولی لگوا کر دوبارہ بول جوائن کر لے گا۔

تو ایسے بندے کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ وہ آج پی ٹی آئی میں شامل ہو اور چند مہینوں بعد جب اکتا کر پارٹی چھوڑ دے تو ہم سب کو معلوم ہو کہ عائشہ گلالئی اور ریحام خان کے بعد ایک تیسری عورت بھی مارکیٹ میں آ گئی ہے جس کے پاس عمران خان پر بہتان تراشیاں کرنے کو بہت مواد ہے اور وہ عورت عامر لیاقت ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ ایسا وقت آنے سے پہلے ہی اس شخص کی اصلیت کھل کر سب کے سامنے آ گئی ہے۔

اب یہ طے ہے کہ عامر لیاقت نے جو کچھ جیو اور میر شکیل الرحمان کے ساتھ پچھلے ایک سال سے کیا ، اب وہی کچھ وہ شعیب شیخ اور بول ٹی وی کے خلاف کرنے جا رہا ہے۔ یہ واقعی ایک نوٹنکی کرنے والا ہے جس کا کوئی دین ایمان نہیں ہے اور میرے خیال میں تو یہ بندہ اب مکمل طور پر ناقابلِ اعتبار شخص بن چکا ہے اور کوئی بھی بڑا چینل اس کو شاید اپنی ٹیم میں شامل نہ کرے کیونکہ ہر چینل یہی سوچے گا کہ آج یہ ہم میں شامل ہو، ایک سال تک ہمارے راز جمع کرے اور پھر سال بعد وہی باتیں استعمال کر کے ہم کو بلیک میل کرے، اس لیے بہتر ہے کہ عامر لیاقت جیسے گرگٹ کو خود سے دور ہی رکھو۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ وینا ملک کے جذبات اور عائشہ گلالئی کے جھوٹ ملاؤ تو ایک عامر لیاقت بنتا ہے۔ میں آج کے بعد اس شخص کو کسی بھی معاملے پر سپورٹ نہیں کروں گا۔ یہ طے ہے!!

 

تحریر: عاشوربابا

 

تبصرے
Loading...