بلاگ

‎ امریکی مسلمانوں کا المیہ! ایک چشم کشا تحریر 11/9

نائن الیون میرے لئے ایک ڈراؤنے خواب جیسا ہے – میں کھڑکی کے سامنے اپنی ڈیسک پر بیٹھی سامنے نظر آنے والے شاندار اور پروقار ٹوئن ٹاورز کو دیکھ رہی تھی جب میں نے ھاربر کی جانب سے اس دیو ھیکل جہاز کو تیزی سےٹاورز کی جانب بڑھتے دیکھا اور پھر وہ اور اس کے بعد دوسرا جہاز اس ٹاور کی عمارت سے جان بوجھ کر ٹکرا دیا گیا جس کو میں روزانہ شاید سینکڑوں بار دیکھا کرتی تھی- انتہائ خوف کے عالم میں اس خوفناک منظر کی سرخیاں لکھتے کے ساتھ ساتھ میںپاگلوں کی طرح بار بار فون پر اپنے شوہر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کررہی تھی جو میرے خیال کے مطابق اس حادثے کے وقت شاید ٹوئن ٹاورز کی عمارت میں موجود تھا- اور پھر ایک سپر سونک جیٹ کی سی زوں زوں کی آواز جو دھیرے دھیرے ایک زوردار گونج اور پھر دھماکے میں تبدیل ہوگئ جو پہلے ٹاور کی آواز تھی جو میرے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہوگیا- بحیثیت ایک امریکن یہ ایک ایسی یاد ہے جو میں زندگی بھر نہیں بھول پاؤنگی-

لیکن ابھی پچھلی ماہ ویسٹ ورجینیا ھاؤس آف ڈیلیگیٹس چیمبر کے باہر ایک نسل پرستی اور تعصب پر مبنی نعرہ دیکھنے کو ملا جس میں ٹوئن ٹاورز کی شعلوں میں گھری عمارت کے سامنے امریکہ کے الیکشن میں منتخب شدہ صومالی نژاد مسلم کانگریس وومن الحان عمر کی حجاب میں ملبوس تصویر تھی- ٹوئن ٹاورز کے اوپر جلی حروف میں لکھا تھا کہ “ تم کہتے تھے کبھی نہیں بھولو گے” اور پھر الحان کی تصویر کے نیچے بڑے بڑے حروف میں لکھا گیا تھا- “ میں اس بات کا ثبوت ہوں کہ تم بھول گئے ہو-‏ “NEVER FORGET’ — YOU SAID.” Right below that image was a picture of Omar in hijab with the caption “I AM PROOF — YOU HAVE FORGOTTEN” emblazoned underneath.

بحیثیت ایک امریکن مسلم خاتون کے یہ پیغام دیکھ کر میرے جسم میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئ کیونکہ اس واقعے میں ہم جیسی مسلم خواتین نے بھی اپنی آنکھوں سے یہ اندوہناک منظر دیکھا تھا بلکہ اپنے بہت سے دوست اور پیارے بھی کھوئے تھے- اس پوسٹر میں واضح طور پر الحان عمر کو تعصب اور نسل پرستی کا نشانہ بنایا گیا تھا جنہوں نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل اور (AIPAC) امریکن اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا- یہ پوسٹر امریکہ کی تمام مسلم آبادی کے منہ پر ایک طمانچہ تھا- یہ ایک یاددہانی تھی کہ ہم مسلمان امریکی اپنے آپ کو خواہ کتنا ہی وطن پرست امریکی سمجھیں لیکن ہم بہرحال امریکی معاشرے کے لئے غیر امریکن یا اجنبی ہی رہیں گے- ہم مسلمان امریکی سیاست، کھیل، فنون صحافت میڈیا یا کسی بھی دوسرے ہائ پروفائل انڈسٹری میں اپنی شمولیت سے خواہ کتنے ہی اپنے پن اور حب الوطنی کا اظہار کریں لیکن امریکن معاشرے میں خاموش پانی کی سطح کے نیچے متلاطم لہروں جیسا ایک اسلام اور مسلم مخالف رویہ محسوس ہوتا رہتا ہے

مزید پڑھیں: پانچ سو سال خونریزی کی کہانی

امریکی معاشرے کا ایک بڑا حصہ اب بھی اسلام کو ایک اجنبی مذہب اور امریکی معاشرے کے طرز زندگی سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے- امریکی معاشرے میں بحیثیت مسلمان رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مستقل ان اعمال اور عقائد کے بارے میں معزرت خواہانہ رویہ اپنائے رکھیں جن کی ہم میں سے اکثر مسلمان شاید پابندی بھی نہیں کرتے- یہ مستقل معزرت خواہانہ رویہ اب امریکی مسلمانوں کو تھکانے لگا ہے- کاش میں کہہ سکتی کہ اسلام فوبیا کے اس رویے سے میرا سامنا نائن الیون کے بعد سے شروع ہوا ہے لیکن ایسا نہیں ہے- اس اسلام فوبیا سے میرا پہلا واسطہ اس وقت پڑا جب میں جونیئر اسکول کی طالبعلم تھی- اس زمانے میں امریکہ اور عراق کی گلف وار جاری تھی- جب اسکول کے پرنسپل کا اسسٹنٹ مجھے لنچ روم سے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا اور ساتھ ساتھ مجھے اسکول سے نکالنے کی دھمکی دیتا رہا- جب میں خوف سے پتھر بنی اس کے آفس میں بیٹھی اپنا جرم پوچھ رہی تھی تو اس نے مجھے میرا لکھا وہ نوٹ دکھایا جس میں میں نے کسی دوست سے صرف اس بات کا اظہار کیا تھا کہ یہ جنگ غلط ہورہی ہے- اسسٹنٹ نے میرے لئے (un-American) ان – امریکن کے الفاظ استعمال کئے جو میں کبھی نہیں بھول سکتی-

اس ان – امریکن کے ساتھ اس وقت دھشت گرد کے الفاظ بھی جوڑ دئے گئے جب ایک بارودی مواد سے بھری کار ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دی گئ تھی- میری کیمسٹری کی کلاس کے دوران میرے برابر بیٹھے میرے ہم جماعت نے نفرت آمیز تاثرات کے ساتھ مجھ سے سوال کیا کہ کیا تم لوگوں کو بچپن سے ہی دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے؟ اس سوال سے چند گھنٹے پہلے ایک اور لڑکا جسے میں بہت پسند کرتی تھی مجھ سے یہ کہتا ہوا پیچھے ھٹ گیا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم مجھ پر کوئ بم نہ پھینک دو- وہ ایک انتہائ خراب دن تھا- میرے دوست احباب کی اکثریت مجھے ایک لبرل مسلمان کے خانے میں فٹ کرتی ہے کیونکہ میں حجاب نہیں کرتی اور میرا پہناوا بھی اسکرٹ اور دوسرے امریکی لباسوں جیسا ہے- لیکن دوسری طرف میں شراب سے مکمل پرھیز کرتی ہوں اور دن میں پانچ بار اسلامی طریقے اور عقائد کے مطابق عبادت بھی کرتی ہوں جو ان کے نزدیک مجھے ایک قدامت پسند اور پریکٹسنگ مسلم بناتے ہیں-

میں ان کے چہروں پر ہمیشہ ایک کنفیوژن اور استعجاب دیکھتی ہوں جو مستقل یہ تجزیہ کرتے رہتے ہیں کہ آیا کہ یہ مسلمان ایک لبرل اور آزاد خیال مسلمان ہے یا ایک قدامت پسند اور اسلام کے بنیادی عقائد پر عمل کرنے والا- ان کے نزدیک یہ ایک دہرا معیار ہے جو اکثر مسلمانوں نے اپنایا ہوا ہے- انہوں نے اپنے ذہن اور سوچ کے مطابق مجھے بحیثیت مسلمان کسی نہ کسی جگہ فٹ کررکھا ہے- میرے لئے یہ اسلام فوبیا کی ایک بدترین مثال ہے جسے ہضم کرنا بڑا مشکل ہے- میرے عقیدے اور حب الوطنی پر حملے کئے جاتے ہیں- ان میں سے کچھ تو سر عام اور بالکل واضح طور پر کھل کر مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے رہتے ہیں جس کی ایک مثال فوکس نیوز کی چہیتی اینکر جینائن پیرو ( Jeanine Pirro) ہے- اس قسم کے لوگ مسلم دشمنی اور اسلام مخالفی میں اس قدر شدید ہیں کہ ان کی سوچ پر ھنسا ہی جاسکتا ہے- لیکن جب میرے دوست احباب اور ساتھ کام کرنے والے ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں اور ہمارے عقائد و اعمال کے بارے میں کنفیوژ رہتے ہیں اور ہمیں غیر امریکی یا امریکی معاشرے کے لئے غیر موزوں سمجھتے ہیں تو یہ میرے لئے انتہائ تکلیف کا باعث ہوتا ہے-