ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

اختتام کی شروعات

ہمیں امریکا کہتا تھا تم ایٹم بم نہیں سنبھال سکتے‘ ملک تقسیم ہے‘ لوگ شدت پسند ہیں‘ سسٹم کمزور ہے‘ حکومتوں میں جان نہیں ہوتی‘ لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں اور عوام معمولی غلط فہمیوں پر پورے ملک کو آگ لگا دیتے ہیں لہٰذا تمہارے پاس ایٹم بم کا ہونا خطرناک ہے لیکن ہم کہتے تھے‘ دنیا میں ہم سے زیادہ ذہین‘ مضبوط اور اہل قوم کوئی نہیں‘ ہم ٹین کے ڈبے جوڑ کر ایٹمی پلانٹ بنا لیتے ہیں‘ ہمارے کرکٹر گلی محلوں سے اٹھ کر دنیا بھرکی ٹیموں کو ناک سے چنے چبوا دیتے ہیں‘ ہم نے افغانستان میں دو سپر پاورز کو شکست دی‘ ہم چاہیں تو ہم سوویت یونین کو 15ملکوں میں تقسیم کر سکتے ہیں اور ہم اگر چاہیں تو ہم اڑتی چڑیا کے پر گن کر چڑیا کو بھی حیران کر دیتے ہیں‘ ہم کہتے جاتے تھے اور دنیا ہنستی جاتی تھی‘ دنیا کو ہم پر ہنسنا بھی چاہیے تھا‘ کیوں؟

کیونکہ دنیا جانتی تھی دنیا کا ہر پاگل‘ ہر نالائق اور کنوئیں کا ہر مینڈک یہی دعویٰ کرتا ہے‘ ہم نے وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہم واقعی کنوئیں کے مینڈک بھی ہیں‘ نالائق بھی‘ نااہل بھی اور پاگل بھی۔ ہم کیا لوگ ہیں‘ آگ لگ جائے تو ہم آگ نہیں بجھا سکتے‘ زلزلہ آ جائے تو ہم ملبے میں دبے لوگ نہیں نکال سکتے‘ سیلاب آ جائیں تو ہم لوگوں کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکتے‘ اسامہ بن لادن آٹھ سال ایبٹ آباد میں چھپا رہتا ہے اور ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی‘ امریکی اسامہ بن لادن کو مار کر واپس چلے جاتے ہیں اور ہمیں پتہ نہیں چلتا‘ ہمیں امریکا بتاتا ہے ہم نے فلاں جگہ آپ کا فلاں مجرم ڈرون سے مار دیا‘ ایمل کانسی ہو یا یوسف رمزی یہ ہمارے ملک میں آزدانہ پھرتے رہتے ہیں‘ امریکا پاکستان میں آ کر اپنے مجرم اٹھا کر لے جاتا ہے اور ہمیں اطلاع تک نہیں ہوتی‘ ملک میں گاڑیاں کتنی ہیں ہمیں نہیں پتہ‘ بچے‘ جوان اور بوڑھے کتنے ہیں ہم نہیں جانتے‘ عورتیں اور معذور کتنے ہیں ہم نہیں جانتے‘ کتنے بچے سکول جا رہے ہیں اور کتنے گلیوں میں پل کر جوان ہو رہے ہیں ہمیں نہیں معلوم‘ ہمارا ملک گردوں‘ آنکھوں اور جگر کی پیوند کاری کی منڈی بن چکا ہے‘ ہمارے ملک سے شیر خوار بچے چوری ہوتے ہیں‘

بچوں کے بیوپاری ان کے اعضاء نکال کر، ان کا بون میرو نکال کر بیچ دیتے ہیں اور لاشوں کو قیمہ مشین میں ڈال کرکچرا بنا دیتے ہیں ہم یہ بھی نہیں جانتے‘ ہمارے ملک میں کینسر‘ ایڈز‘ ٹی بی اور ہیپاٹائٹس سی کے کتنے مریض ہیں ہمیں نہیں معلوم‘ ہمیں ہر سال کتنی نوکریاں درکار ہیں‘ ہمارے کتنے نوجوان ہر سال یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر مارکیٹ میں آتے ہیں‘ ہمارے کتنے لوگ روزانہ سڑکوں پر ایکسیڈنٹ کا نشانہ بن جاتے ہیں‘ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو کیا پڑھایا جاتا ہے‘

ملک میں کتنے لوگ نشے کے عادی ہیں اور ہمارے دفتری نظام کو انتقال فرمائے کتنا عرصہ ہوچکا ہے ہم نہیں جانتے لیکن ہم اس کے باوجود دنیا کی ذہین ترین‘ اہل ترین‘ متبرک ترین اور مضبوط ترین قوم بھی ہیں‘ کیوں اور کیسے؟ دنیا شاید ان حالات کے باوجود غلط فہمی کا شکار رہتی لیکن ہم نے آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے اپنے سارے کپڑے اتار دیئے‘ ہم اپنے تمام جسمانی عیبوں کے ساتھ مکمل طور پر ننگے ہو چکے ہیں‘ ہمارے پاس اب چھپانے کیلئے کچھ نہیں بچا‘ ہم اب اختتام کی شروعات تک پہنچ گئے ہیں۔

آپ یاد کیجئے15اگست 2013ء کو کیا ہوا تھا‘ سکندر نام کا ایک شخص‘ اپنی بیوی اوردوبچوں کے ساتھ دنیا کی واحد اسلامی نیو کلیئر پاور کے دارالحکومت میں آیا‘ بلیو ایریا کی مین شاہراہ پر گاڑی روکی‘ ایک کلاشنکوف اورایک مشین گن لہرائی‘ وہ پانچ گھنٹے دنیا کی واحد اسلامک نیو کلیئر پاور کو للکارتا رہا اور پوری دنیا ریاست کا تماشہ دیکھتی رہی‘سکندر سے پہلے علامہ طاہر القادری انقلاب کا ریلا لے کر اسلام آئے‘ بلیو ایریا میں دھرنا دیا‘وہ چاردن اسلامک نیو کلیئر پاور کو للکارتے رہے اور ریاست بغلوں میں ہاتھ دے کر کھڑی رہی یہاں تک کہ چارسیاسی جماعتوں کے 10نمائندے ان کے کنٹینر میں حاضر ہوئے‘

معاہدہ کیا‘ معافی مانگی‘ تاوان ادا کیا اور علامہ طاہر القادری کینیڈا واپس تشریف لے گئے‘علامہ طاہر القادری 15 اگست 2014ء کو عمران خان کے کزن بن کر دوبارہ اسلام آباد آئے‘ عمران خان 126 اور ان کے کزن 68 دن ایٹمی دارالحکومت پر قابض رہے‘ ایوان صدر کا گیٹ بھی ٹوٹا‘ ہجوم پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی داخل ہوا‘ پی ٹی وی کی عمارت پر بھی قبضہ ہوا‘ سپریم کورٹ آف پاکستان کی دیواروں پر شلواریں بھی لٹکائی گئیں اور پولیس اہلکاروں کو سڑکوں پر کیلوں والے ڈنڈوں سے بھی مارا گیا لیکن ریاست آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر خاموش کھڑی رہی اور رہی سہی کسر فیض آباد کے دھرنے نے پوری کر دی‘ 7نومبر کو تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکن پورے پنجاب سے نکل کراسلام آباد آئے‘

پنجاب پولیس نے ان میں سے کسی شخص کو نہیں روکا‘یہ21 دن فیض آباد انٹر چینج پر قابض رہے‘ اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کی زندگی عذاب ہو گئی‘ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور حکومت کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا‘ حکومت نے 25 نومبر کی صبح آپریشن شروع کیا لیکن حکومت بری طرح ناکام ہو گئی‘ آپ ریاستی رٹ کی پوزیشن ملاحظہ کیجئے‘ فیض آباد میں 25 نومبر کی صبح دو ہزار مظاہرین اور چھ ہزار پولیس اہلکار تھے‘ ایف سی اور رینجرز بھی ان کے ساتھ تھے‘ ریاست کے آٹھ ہزار جوان مل کر دو ہزار مظاہرین کو کنٹرول نہیں کر سکے اور احتجاج کی آگ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے 16 بڑے شہروں تک پھیل گئی‘ پورا ملک بند ہو گیا‘

حکومت نے پریشانی میں ٹیلی ویژن چینلز‘ انٹرنیٹ اور فیس بک بھی بند کر دی‘ ان فیصلوں نے صورتحال مزید گھمبیر بنا دی‘ ریاست میں ریاست اور حکومت میں حکمرانی ختم ہو گئی‘ میں 25 نومبر کی رات مری سے اسلام آباد واپس آیا‘ پورا شہر سنسان تھا‘ پولیس غائب تھی‘ ناکوں‘ چیک پوسٹوں اور تھانوں میں بھی پولیس اہلکار موجود نہیں تھے‘ پولیس کے 180 جوان ہسپتالوں میں پڑے تھے‘ میں نے چند گھنٹوں میں اپنی آنکھوں سے ری پبلک کو بنانا ری پبلک بنتے دیکھ لیا‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام‘ جمہوریت اور پاکستان تینوں ہائی جیک ہو چکے تھے۔

ہم نے چند گھنٹوں میں ثابت کر دیا تھا ہم میں ملک چلانے کی ”کیپسٹی“ نہیں‘ ملک میں اگر ایک ہزار لوگ باہر آ جائیں تو ریاست کی رٹ دم توڑ جاتی ہے اور یہ لوگ جب تک وزراء کے استعفے نہ لے لیں‘ یہ دس بیس لاشیں نہ اٹھا لیں یہ واپس نہیں جاتے‘ ہم نے 25 نومبر کو یہ بھی ثابت کر دیا ہم اپنے قاتل خود ہیں‘ ہم ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کا بدلہ میٹرو سٹیشن‘ انڈر پاسز‘ سرکاری گاڑیوں‘ عام غریب لوگوں کی املاک اور عاشقان رسولؐ کی لاشوں سے لیتے ہیں‘

ہم اپنے سر میں اینٹ مار لیتے ہیں‘ ہم کیا لوگ ہیں گستاخانہ خاکے ڈنمارک میں بنتے ہیں لیکن ٹریفک ہم اپنی بند کر دیتے ہیں‘ ہم شیشے اپنے توڑ دیتے ہیں‘ ہم گاڑیاں‘ عمارتیں اور میٹرو سٹیشن اپنے جلا دیتے ہیں‘ خانہ کعبہ پر مسلمان باغی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن امریکی قونصل خانہ اور برٹش سنٹر لاہور میں جلا دیا جاتا ہے اور اسلام کے خلاف سازش یورپ میں ہوتی ہے لیکن مسلمان نوجوان‘ مسلمان پولیس کے ہاتھوں اسلام آباد میں شہید ہو جاتے ہیں‘ ہم کس قدر کمزور ہیں‘

ہم اندر سے کس قدر کھوکھلے ہیں ہمارا کوئی بھی دشمن‘ ہماری صفوں میں چھپا کوئی سازشی ہمارے قانون‘ ہمارے آئین میں چھیڑ چھاڑ کر دے‘ وہ ملک سے فرار ہو جائے لیکن ہم اپنے سر پھاڑ لیں گے‘ ہم اپنے شہر بند کر دیں گے اور ہم اپنی گاڑیاں اور اپنے میٹرو سٹیشن توڑ دیں گے‘ آپ کو دنیا میں شاید ہی کہیں ایسے لوگ ملیں جو دوسروں کا غصہ اپنے اوپر اتارتے ہوں‘ جنہیں کوئی دوسرا گالی دے اور وہ اٹھ کر اپنا گھر جلا دیتے ہوں‘ کیا کوئی ریاست اس طرح چلائی جا سکتی ہے؟

کیا دنیا کسی جوہری طاقت کو اس کمزوری کے ساتھ برداشت کرے گی اور اگر کرے گی تو کتنی دیر کرے گی۔حکومت خادم حسین رضوی کو ریاست کا دشمن سمجھتی ہو گی لیکن میں انہیں پاکستان کا محسن اعظم سمجھتا ہوں‘ رضوی صاحب کمال انسان ہیں‘ انہوں نے چند دنوں میں عوام‘ ریاست اور حکومت سب کو مغالطوں سے باہر نکال دیا‘ یہ آئے اور چند دنوں میں پوری دنیا کو بتا گئے ہم کیا ہیں‘ ہمارا معاشرہ کیا ہے‘ ہمارے مذہبی رہنما کیا ہیں‘ ہماری پولیس‘ ہماری انتظامیہ‘ ہماری پارلیمنٹ‘ ہماری عدلیہ‘ ہمارا میڈیا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ یہ ہمیں بتا گئے ہمارے سسٹم میں اپنا بوجھ اٹھانے کی سکت بھی نہیں‘

یہ ہمیں بھی بتا گئے ہم کتنے مسلمان ہیں‘ ہم کتنے دین دار ہیں اور ہماری ریاست میں کتنی جان ہے؟ یہ بتا گئے ہمارے ملک میں کہاں اور کتنی دیر دھرنا دیا جائے تو ملک میں پٹرول بھی ختم ہو جاتا ہے اور ائیر پورٹس‘ ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی دم توڑ جاتی ہے اور یہ ہمیں یہ بھی بتا گئے ملک کا اصل حکمران کون ہے‘ ملک کی اصل طاقت کس کے ہاتھ‘ کس کی جیب میں ہے؟چنانچہ یہ شخص ہمارا عظیم محسن ہے‘ یہ آیا اور دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کو آئینہ دکھا کر چلا گیا‘ یہ ہمیں بتا گیا ہم اختتام کی شروعات میں داخل ہو چکے ہیں‘ ہم سول وار کے دھانے پر کھڑے ہیں‘ بس جس دن ہمارے کسی دشمن نے کوئی ایک گروپ ایکٹو کر دیا ہم اس دن دس حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے‘ ہم اس دن الم ناک داستانوں کا جدید ترین المیہ بن جائیں گے۔

کالم : جاوید چوہدری

تبصرے
Loading...