اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ

آخر کیوں اور کس طرح؟

شنید ہے کہ احسان اللہ احسان نامی خوارجی, دہشتگرد اور ٹاپ براس قیدی, “نمبرون” کے ان درجنوں سیف ہاؤسز میں سے ایک سیف ہاؤس سے بمع اہل و عیال فرار ہوکر بخیر و عافیت افغانستان پہنچ کر محوِ استراحت ہے جن کی خبر خود “نمبرون” کے دو افراد میں سے ایک کو بالکل معلوم نہیں ہوتی۔ خبر میں کتنی صداقت ہے اور کتنا جھوٹ یہ آپ اور میں بالکل بھی طے نہیں کرسکتے، تاآنکہ حکومتی یا عسکری ترجمان اسکی تصدیق یا تردید کردے۔لیکن اس مدعے پر بات کرنے, دستیاب معلومات کی بنیاد پر تنقید یا تعریف کرنے میں عوام جمہوریت کی رو سے حق بجانب ہے۔اب وہ دور نہیں کہ کسی نے اعتراض یا سوال کردیا تو ہم اسے غداری اور دہشتگردی کی سند تھما کر کھڈے لائن لگادیں۔

سوال ہمارے بھی تھے اور ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ سامنے اندھی محبت اور عقیدت کے مارے بیمار اذہان موجود ہیں لہذا سوال کرکے اس کی حرمت پامال کرنے والی بات ہی ہوگی۔ہمیں بتایا اور سمجھایا گیا تھا، چند نامعلوم گمنام نمائندگانِ عسکریات و دانشوریات کی جانب سے کہ ملک مشکل دور کا شکار ہے, ففتھ جنریشن وار اور ہائبرڈ وار فیئر کا زمانہ ہے, ادارے جس کو اطلاعاً یا بغیر اطلاع اٹھا لیں تو ہم نے سوال نہیں کرنا بلکہ تسلیم کرنا ہے اور سوال کرنے والوں کو دشمن قرار دیکر عوامی جراح کا سامنا کروانا ہے۔لیکن اب اس سراب نما حقیقت کے دائرے میں گول گول گھوم کر سر اس قدر چکرا رہا ہے کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم کشمیر بھی موسیقی اور ڈراموں سے آزاد کروانے کے درپے ہیں, تقریریں ہماری رسدِ انتہائی بن چکیں, پریس کانفرنسز اور ٹوئٹس ہمارے جدید نوعیت کے ہتھیار اور عسکری ستارے ہمارے آخری سہارے بن چکے جبکہ دشمن سے ہم ایک انچ اپنا بازیاب نہیں کرواسکے اور دشمن مختلف لسانی و سیاسی تحاریک برپا کرکے ہمیں درہم برہم کرنے کے درپے ہے۔کیا عالمی اخلاقیات کا چورن ہمارے ہی ملک میں پایا جاتا ہے کہ ہم پابند ہیں لہذا کوئی حرکت کرنا تو رہا ایک طرف ،ہم تو بیان بھی سوچ سمجھ کر دینے کے پابند ہیں۔

احسان اللہ احسان بھاگا, بھگایا گیا, چھوڑا گیا یا چھڑوایا گیا اس راز سے پردہ کب اور کون سرکائے گا یا اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو کون عوام کی بے چینی اور غم و غصہ کو کم کرنے کا جتن کرے گا، حقیقت بیان کرکے۔ہمیں اعتماد اور بھروسہ ہے ہماری حکومت اور عسکری اداروں پر لیکن یہ بھی مکمل یقین ہے کہ ان کی کارگزاری کا تسلسل انسانوں کے ہاتھ میں ہے نا کہ فرشتوں کے، لہذا غلطی یا جرم سرزد ہوجانا قطعی انوکھی اور انہونی بات نہیں ،لہذا غلطی اور جرم پر ہم سوال کرنے, تشویش کا اظہار کرنے اور غم و غصہ میں مبتلا ہونے میں حق بجانب ہیں کہ یہ حق ہمیں سوکالڈ جمہوریت بھی دیتی ہے اور آفاقی و الہامی بنیادوں پر استوار شریعت بھی۔

مزید پڑھیں: ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا۔۔

حکومت اور عسکری اداروں کی اس انتہائی نوعیت کی خبر پر خاموشی وہ بھی پُراسرار خاموشی ،کافی سوالیہ نشان لگا اور بڑھا رہی ہے جس سے ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار فیئر کی بچھی بساط الٹنے کا شدید ترین خدشہ موجود ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ابھی ہم جیسوں کی ایسی تحاریر پر نقطہ چیں افراد بلکہ استادوں کے استاد اور مرشدوں کے مرشد دانشور و اکیسویں گریڈ کے پالشی ضرور توجہ دیں گے, سیخ پا ہونگے اور حد ادب رہ کر طرح طرح کے سطحی استدلال اور القابات کا سہارا لیکر عوام یا مریدین کو رام کرنے کے جتن کریں گے لیکن یہ بھی روٹین ڈرل ہی رہے گی جبکہ حقیقت وہی رہے گی جو ہے یا ہوگی۔

ہمارا مطالبہ یا تردد خودساختہ نمائندگانِ عسکریات و حکومت سے نہیں بلکہ رئیل ذمہ داران سے ہے کہ جلد از جلد صورتحال واضح کی جائے اور ہیجانیت کا قلع قمع کیا جائے کہ یہ کوئی عام سی خبر نہیں کہ دو گھونٹ چائے کافی کی تلخیوں کو انڈیل کر اس خبر کی تلخی کا مداوا کیا جاسکے۔ باقی اللہ نہ کرے کہ یہ خبر سچ ہو، پر اگر یہ سچ ہوئی ،تو ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ جلد یا بدیر سائیں افغانستان کی چوٹیوں پر اپنے اس بھاگے ہوئے شکار کی تواضع کرلیں گے اور ہمیں خبر مل جائے گی مستقبل قریب میں کہ نامعلوم افراد کے ہاتھوں مفرور احسان اللہ احسان جہنم روانہ, لیکن سوال تب بھی بوجھل دل کے ساتھ ہمارا ہمارے اداروں اور حکومت سے رہے گا کہ کیوں؟ کیسے؟ کب؟ کہاں؟ اور آخر کیوں؟ خیر سوال کی حرمت کا سوال ہے کہ آخر ایسی خبریں اگر سچی ہیں تو بنتی کیوں ہیں اور اگر جھوٹی ہیں تو بھی کس طرح پھیلتی اور ہیجان برپا کرتی ہیں؟ آخر کیوں اور کس طرح؟

لکھاری کے بارے میں

بلال شوکت آزادؔ

فطرت سےآرمی آفیسر, شوق سےصحافی اور پیشےسےمزدور ہوں۔ پرو پاکستان, پرو اسلام اورپروانسانیت بندہ ہوں۔

Loading...