بلاگ کالمز

"ع سے عورت”

اسلام نے عورتوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کیا, ہمارے حقوق کی حفاظت نہیں کی, ہم کیوں مرد کے کپڑے دھوئیں؟ کھانا گرم کر کے عورت ہی کیوں دے؟ میں کیوں ٹھیک سے بیٹھوں؟ دوپٹا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو! عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے, میرا جسم میری مرضی”. 2018 میں جب "عورت مارچ” کا انعقاد ہوا تو یہ وہ تمام نعرے تھے جنہیں بڑے بڑے پلے کارڈز پر لکھ کر کچھ لبرل خواتین نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا. کم و بیش تمام ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس متعلق بحث چھڑ گئی اور لوگ اپنے اپنے نظریات کا کھل کر اظہار کرنے لگے, ایک ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا اور کسی نے بھی اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش نہ کی. یہی وجہ ہے کہ آج 2020 ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا ہے

جس کے باعث معاشرہ انتشار اور نفرت کی انتہا پر ہے. چلیں 2018 میں واپس چلتے ہیں جب پاکستان میں پہلی بار عورت مارچ کا انعقاد ہوا اور اس کے اگلے روز میں اپنی جامعہ میں بین الاقوامی تعلقات کی کلاس میں موجود تھا اور سب سے آگے بیٹھا اس بات پر غور کر رہا تھا کہ آج یہ غیر معمولی واقعہ کیوں پیش آرہا ہے, ہمارے استاد صاحب کی میز پر ایک پھول رکھا تھا جبکہ مہینہ مارچ کا تھا. اسی اثناء میں ہمارے استاد فیصل صاحب کلاس میں داخل ہوئے اور ٹوپی کو عادتاً درست کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئے. انہوں نے پھول کو ہاتھ میں لے کر بلند کیا اور پوچھا: "یہ کیا ہے؟ ” ایک لڑکی نے نہایت ہی رومانی انداز سے کہا: "گلاب کا پھول ہے سر” یہ سن کر فیصل صاحب نے اس پھول کی پتیاں توڑنا شروع کیں یہاں تک کہ پھول پر ایک پتی بھی باقی نہ رہی.

ان تمام پتیوں کو مٹھی میں لے کر انہوں نے دوبارہ پوچھا: ” کیا اب بھی یہ گلاب کا پھول ہے؟” کلاس میں موجود تمام ہی طلبہ نے کہا: "نہیں”. تب فیصل صاحب نے اپنے لیکچر کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کہا "بلکل اسی طرح اسلام ایک مکمل پھول کی مانند ہے اگر اسے پتیوں کی طرح بکھیر کر دیکھو گے تو اس کی اصل خوبصورتی تک نہیں پہنچ سکو گے.” بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی. انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھا: "اسلام نے عورت کو جس قدر تحفظ دیا ہے کوئی مذہب نہیں دے سکتا. جو خواتین اعتراض کرتی ہیں کہ عورت کو جائیداد میں کم حق ملا ہے وہ ذرا ماں کا رتبہ دیکھیں. جن کا شکوہ ہے کہ مرد کو برتری دے کر زیادتی ہوئی ہے تو وہ اسلام کی جانب سے مرد پر عائد ذمہ داریوں کو مطالعہ کریں.

پتیاں نا دیکھیں پھول دیکھیں پھول” کلاس میں موجود کچھ لبرلز میں بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی. ایک لڑکی نے بڑے روکھے لہجے میں کہا: "سر معاشرے میں عورت کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے, کیا اسکے بعد بھی آپ یہی کہیں گے؟”. فیصل صاحب نے جواب دیا: "عورت کب وجود میں آئی؟ روایتی معاشرے میں تو عورت کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ ماں بیٹی بہن اور بیوی کے نام سے انہیں ہمیشہ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا. فلاں صاحب کی بیٹی ہے, ان صاحب کی والدہ ہیں! کا کہہ کر معاشرے میں انہیں ہر طرح کی سہولت سے نوازا گیا. دراصل مغرب نے ترقی کی غرض سے اور چیپ لیبر (سستے مزدور) پیدا کرنے کی خاطر خواتین کو ان کے اپنے باپ, بھائیوں اور شوہروں سے نفرت کرنے پر مجبور کیا. انہیں یہ احساس دلایا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے,

ان کے حقوق پامال ہورہے ہیں اور یوں ماں, بہن, بیٹی کے رشتے سے نکل کر ایک ‘ آزاد عورت ‘ وجود میں آئی. یہ وہ عورت ہے جسے چیخ چیخ کر اپنے حقوق کی مانگ کرنی پڑتی ہے. یہ وہ عورت ہے جسے برابری کے نام پر دھکے کھانا پڑتے ہیں. بہرحال یہ عورت جواب وجود میں آچکی ہے اس کے مارچ سے کوئی اختلاف نہیں لیکن اس میں خواتین کے جن حقوق کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ دراصل حقوق نہیں انکی ذمہ داریاں ہیں” . کلاس کا وقت ختم ہوگیا پر میں کافی دیر تک فیصل صاحب کی باتوں پر غور کرتا رہا. آئیں اب ذرا ان بھیڑیوں کی طرف دیکھتے ہیں جو معصوم بکریوں کو بےجا اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر رہے ہیں. مغرب کی طرف دیکھیں کیا وہاں عورتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں کیا؟ کیا وہ مکمل آزاد ہیں ؟

تو ایسا ہرگز نہیں ہے وہاں آج تک صنفی امتیازی عروج پر ہے جبکہ ان ممالک میں عورت ایک عرصے سے اپنی گھریلو زندگی تباہ کرکے سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کر رہی ہے. پاکستان کی بات کریں تو ان مغربی ممالک نے جن ایجنڈوں کے تحت ایک ظالم مرد کی تصویر ہماری نوجوان لڑکیوں کے دماغوں میں بنا دی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ چند روز قبل مجھے گیارہویں جماعت کی کچھ طالبات سے ملنے کا اتفاق ہوا. باتوں باتوں میں عورت مارچ کا تذکرہ چھڑ گیا اور پھر ان طالبات نے مرد سے جس شدید نفرت کا اظہار کیا اس نے مجھے حیران کر دیا. وہ تمام لڑکیاں جو ابھی مکمل طور پر جوان بھی نہیں ہوئیں, غیر شادی شدہ ہیں,

جنہوں نے زندگی میں مرد کے نام پرصرف اپنے باپ اور بھائی کو دیکھا ہے وہ عورتوں کے اُن حقوق کی باتیں کر رہی ہےجن کے بارے میں وہ جانتی بھی نہیں. ان لڑکیوں کے معصوم دماغوں کو کس طرح میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اُلجھا دیا گیا کہ وہ نم آنکھوں اور بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ عورتوں کے حقوق کے لیے مجھ سے بحث کرتی رہیں. خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد کے واقعے کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ یہ اس مسئلے کی انتہا ہے تو جناب ایسا ہر گز نہیں ہے. آج کی نوجوان لڑکی, جس کے دماغ کو مغرب نے بری طرح جکڑ لیا ہے, جب وہ عورت مارچ کا حصہ بنے کی تو صورت حال اس سے زیادہ خراب ہوگی. فلحال معاشرے کو اچھے والدین, اچھے استاد اور اچھی تربیت کی ضرورت ہے.