بلاگ کالمز

مقصد اور مقدر

واصف بھی اپنی انجینرنگ کے آخری سال میں تھا اور میں بھی، اسے کو بھی روبوٹکس کا بہت شوق تھا اور مجھے اس سے بھی زیادہ۔ واصف کے اور میرے خوابوں میں اتنا فرق نہیں تھا، ایک اچھی نوکری، کامیاب شادی شدہ زندگی اور زندگی میں خوشحالی ہی خوشحالی۔ خوابوں کی لسٹ تو بہت بڑی ہوتی ہے پر ان کا لب لباب اتنا ہی ہوتا ہے۔گریجویشن کے بعد ہم جدا ہوگئے، وہ اپنی ڈگر پر اور میں اپنی۔ دونوں کو بہترین نوکری مل گئی۔ مجھے دیگر دوستوں سے اس کا حال معلوم ہوتا رہتا تھا۔ لیکن ایک دن اچانک خبر ملی کہ وہ نوکری چھوڑ چکا ہے، مجھے گمان تھا نوکری صرف اِس لیے چھوڑی ہوگی کہ اسے مزید بہتر ملازمت مل گئی ہوگی۔ چند سال مزید بیت گئے، میں ایک ٹریکٹر بنانے والی مشہور کمپنی کا انجنیئر تھا اور وہ ناجانے کہاں۔ مجھے ایک روبوٹس بنانے والی کمپنی سے آفر آئی مگر وہ بہت دور دراز تھی۔ تنخواہ بہت تھوڑی تھی۔ مجھے گھر بنانا تھا اور شادی کرنی تھی۔ اگر میں ٹریکٹر والی کمپنی چھوڑ دیتا

تو دونوں کاموں میں بہت تاخیر ہوجاتی اور مجھے خوف تھا کہ شاید وقت گذر گیا، اِس لیے میں ضرورتوں کے لیے اپنے شوق کو قربان کردیا۔10 سال یونہی بیت گئے۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میرے اس دوست کے معاشی حالات آج کل کافی ابتر ہیں۔ ایک دن میں نے ارادہ کیا کہ آج ملتا ہوں اس سے کہ وہ کس حال میں ہے، دیکھیں کہ اس نے کیا پایا اور میں نے کتنی کامیابی حاصل کی؟پتا پوچھتا پوچھتا ایک پرانے سے گیراج تک جا پہنچا۔ واصف کا پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ اِس وقت گیراج کی بیسمنٹ میں ہیں۔ میں جب بیسمنٹ میں اترا تو واصف بوسیدہ لباس میں اور بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ  دکھا۔ یہ روبوٹس کا ایک چھوٹا سا کارخانہ تھا۔ میں نے تاسف میں چند جملے کہے تو وہ چونکا، پلٹ کر کہنے لگا کہ اگلے مہینے مجھے ایم آئی ٹی کے روبوٹ شو میں اپنا روبوٹ ڈیزائن پیش کرنے کی پیش کش ہے۔ تم سناؤ آجکل کہاں ہو؟ میں نے بڑے فخر سے بتایا کہ میں اپنی کمپنی کا چیف انجینئر ہوں۔ وہ پھر پلٹا اور کہنے لگا اور تمھارا شوق؟

وہ کہاں تک پہنچا؟ میں نے کہا وہ زمینی حقائق کی نذر ہوگیا۔ نصیب میں نہیں تھا۔ وہ مسکرایا اور اپنے روبوٹ کو صاف کرتے ہوئے پوچھا، شادی کب ہوئی؟ میں نے بتایا تو اتفاقاً اس کی اور میری ازدواجی زندگی کے آغاز میں صرف دو سال کا فرق تھا۔ بچوں کی تعداد بھی اتفاقاً برابر تھی۔ صبح وہ بھی ایک ابلا انڈا کھاتا تھا اور میں بھی، فرق اتنا تھا وہ بچت کی خاطر اور مجھے ڈاکٹر نے کہا تھا۔میں کچھ بوکھلایا ہوا تھا اور میری آنکھوں میں ایک سوال عیاں تھا۔ اس نے بھانپ لیا۔ وہ کہتا کہ تم سے وہی چوک ہوئی جو دنیا کہ 99 فیصد خوشحال مگر ناکام لوگوں سے ہوتی ہے۔ تم نے اپنے خواب غلط بازار میں بیچ دیئے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ وہ بولا،’’تم نے اس شے کی خاطر جو مقدر میں طے ہے، اپنے خواب بیچ دیئے‘‘۔