اسلام

ایک گمنام صحابی رسول کا قصہ

حضرت ضماد بن ثعلبہ کا شمار السابقون الاولون (سورۃ التوبہ، آیت نمبر 100) میں ہوتا ہے۔ ازد شنؤۃ قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے ازدی کہلاتے تھے۔ کہلان بن سبا کی چوتھی نسل ، ازد بن غوث سے منسوب قحطانی قبیلہ بنو ازد یمن میں خوش حال زندگی گزار رہا تھا۔ یمن کی وسطی شاہراہ کے دونوں جانب پھل دار درختوں کی قطاریں تھیں جو مارب کے ڈیم سے سیراب ہوتیں۔ ازد بن غوث کا اصل نام ازدراء یا ذراء تھا۔ کئی روایات میں اسد اور کچھ میں عسد بیان کیا جاتا ہے۔ تمام انصار مدینہ اسی کی اولاد تھے۔

ضماد ازدی طبابت کے ساتھ ساتھ جھاڑ پھونک کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت ضماد ایک بار مکہ آئے تو کم عقل لوگوں سے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جادو کرنے لگ گئے ہیں، علم نجوم میں پڑ کر غیب گوئی کرنے لگے ہیں یا انھیں جنون لاحق ہو گیا ہے۔ پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ ہو سکتا ہے اللہ انھیں میرے ہاتھوں شفا دے دے۔پھر چند بچوں کو آپ کا پیچھا کرتے دیکھا توکہا: یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، میں جنون کا علاج کرتا ہوں، اللہ جسے چاہتا ہے ، شفا دے دیتا ہے ۔آپ بھی علاج کرا لیں۔آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:إن الحمد ﷲ، نستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باﷲ من شرور أنفسنا. من یہدہ ﷲ فلا مضل لہ، ومن یضلل فلا ہادی لہ. وأشہد أن لا إلٰہ إلا ﷲ وحدہ لا شریک لہ، و أشہد أن محمدًا عبدہ ورسولہ. (مسند احمد، رقم ۲۷۴۹)

”بلاشبہ، تمام تعریفیں ﷲ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت کے طلب گار ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کے شر سے اللہ ہی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا اور جسے وہ گمراہ کردے ،کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی اس کا شریک کار نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔”

حضرت ضماد کہتے ہیں کہ میں نے کاہنوں کا بیان ، جادوگروں کی گفتار اور شاعروں کا کلام سن رکھا تھا، ایسے کلمات کبھی نہ سنے تھے، اس لیے آپ سے یہ کلمات دہرانے کی درخواست کی ۔ آپ کے دہن مبارک سے تین بار یہ الفاظ سننے کے بعد میں نے کہا: یہ کلمات تو بلاغت کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام قبول کرنے کے لیے آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں،میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ضماد سے بیعت لی، پھر دریافت فرمایا: اور آپ کی قوم کی بیعت؟ حضرت ضماد نے کہا: جی ہاں ، میری قوم کی طرف سے بھی بیعت لے لیجیے، اس طرح حضرت ضماد بھی زمرۂ السابقون الاولون میں شامل ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک دستہ حضرت ضماد کی قوم کے پاس سے گزرا تو کسی صحابی نے ان کی کوئی شے، لوٹا یا کچھ اورحاصل کر لیا۔ حضرت ضماد کے علاقے سے گزرنے کے بعد امیر سریہ نے قسم دے کر کہا: جس کسی نے بھی اس سرزمین والوں کا کچھ لیا ہے تو واپس کر دے سب نے کہا: ﷲ امیر کا بھلا کرے، ہم نے کچھ نہیں چھینا۔ کچھ دیر کے بعد ایک شخص ایک لوٹا لے آیا اور کہا : میں نے یہ لیا تھا۔ اسے واپس کرو، کمانڈر نے حکم دیا، یہ حضرت ضماد کی قوم ہے جس نے رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کر رکھی ہے (صحیح مسلم، رقم ۱۹۶۳، مسند احمد، رقم ۲۷۴۹)۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ وہ لوٹا نہیں، بلکہ زمینوں کی آب رسانی کے لیے استعمال ہونے والا اونٹ تھا۔اس سریے کی تعیین نہیں ہو سکی۔ ابن اثیر کہتے ہیں کہ اسے خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا تھا، جبکہ ابن عبدالبر کا خیال ہے کہ یہ سریہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفۂ اول حضرت ابوبکر نے بھیجا تھا ۔

سیرت نگار کہتے ہیں کہ حضرت ضماد زمانۂ جاہلیت میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست تھے۔ ابتدائے اسلام میں حضرت ضماد کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر کتب سیر میں ملتا ہے، لیکن ان کے بعد کے حالات کی کوئی خبر نہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ انھوں نے باقی زندگی اپنی قوم میں گزار دی اور جزیرہ نمائے عرب میں دین حق کے غلبہ پانے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ ۱۰ ھ میں صرد بن عبدﷲ ازدی دس (یا پندرہ) رکنی وفد لے کر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انھیں بنو ازد کے مسلمانوں کا امیر مقرر کر کے یمن کے پڑوسی مشرک قبائل سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ازد عمان سے سلمہ بن عیاض ازدی بھی وفد لے کر پہنچے۔ حضرت ضماد اس وقت زندہ ہوتے تو ضرور ان کا تذکرہ ہوتا۔ آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بنو ازد میں ارتداد پھیل گیا تو عثمان بن ابوالعاص کو ان کی سرکوبی کے لیے شنؤۃ بھیجا گیا ۔ تب ازدی دوبارہ اسلام کے جھنڈے تلے آ گئے ۔ ۳۶ھ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جنگ جمل میں شریک ہوئے، لیکن حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کی کش مکش میں وہ طرفین میں منقسم ہو گئے۔ انھوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ساتھ بھی دیا۔بعد کے ادوار میں بھی ازد قریباً ہر معرکے میں فوج کا حصہ رہے۔

جمع و تدوین : قمر نقیب خان