اسلام

عہدِ رسالت کے سفیر صحابۂ کرام

عہدِ جاہلیت کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ نے اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچانا شروع کیا تو ابتداء میں اسلام کا پیغام محدود خطۂ اراضی تک محدود رہا۔ لیکن جب اسلام کو شان و شوکت عطا ہوئی اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اسلام کا پیغام بھی اپنی محدود حدوں سے باہر نکل کر دوسرے ممالک میں جا پہنچا۔ جب اسلامی ریاست باقاعدہ طور پر وجود میں آئی اور اسلام کو غلبہ عطا ہوا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے اسلام کے پیغام کو دوسرے ممالک اور ان کے حکمرانوں تک پہنچانے کے لیے اپنے صحابۂ کرام میں سے چند صحابی مخصوص فرمائے ۔ آقا کریم ﷺ نے اُن چنیدہ صحابۂ کرام کو دینِ اسلام کا پیغام لے کر مختلف ریاستوں کے سربراہوں کی جانب روانہ فرمایا۔ یہی صحابۂ کرام عہدِ رسالت کے سفیر صحابۂ کرام کہلائے۔ انہیں کی بدولت اسلامی ریاست کے تعلقات دیگر ریاستوں سے بڑھناشروع ہوئے اور اسلام کا پیغام بھی اپنی محدود حدوں سے باہر نکلنا شروع ہوا۔ عہدِ رسالت میں جن صحابۂ کرام نے سفارت کے فرائض انجام دیے ان کے تذکرے مندرجہ ذیل ہیں:

حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ جو تاریخِ اسلام میں دحیہ کلبی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن صحابۂ کرام میں شامل ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے سفیرِ اسلام بناکر شاہِ روم ہرقل کی طرف روانہ فرمایا تھا۔ آپ کا شمار کبار صحابۂ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ با اخلاق اور برد بار شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کفار کے خلاف جہاد میں بھر پور حصہ لیتے تھے۔ آپ کا شمار اُن صحابۂ کرام میں ہوتا ہے جو فتویٰ بھی دیتے تھے۔ آپ وجیہ النظر شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی خوبصورتی کے متعلق رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جبرائیل میرے پاس دحیہ کلبی کی صورت میں آیا کرتے تھے اور دحیہ ایک خوبصورت شخص تھے ۔ آپ میں قیادت کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ آپ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک حیات رہے اور آپ نے ۵۰ ھ میں وفات پائی۔

حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے شاہِ ایران کسریٰ کی طرف پیغام اسلام پہنچانے کے لیے سفیر بناکر بھیجا تھا۔ الاستیعاب میں مذکور ہے کہ آپ صحابۂ کرام میں مزاحیہ طبیعت کے مالک تھے۔ آپ غزوات میں حضور نبی اکرم ﷺ کے شانہ بشانہ رہتے تھے۔ یہاں تک کہ حجۃ الوداع میں بھی نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تھے۔ آپ کو ہجرتِ مدینہ کے ساتھ ہجرتِ حبشہ کا شرف بھی حاصل ہے۔ آپ بہت جرّی اور بہادر صحابی تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو ایک لشکر کے ساتھ روم کی طرف روانہ کیا ۔ رومی فوج نے آپ کو گرفتار کرکے روم کے بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔ روم کے بادشاہ نے کہا کہ آپ نصرانیت اختیار کرلیں ہم آپ کو اقتدار میں شریک کرلیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انکار پر بادشاہ نے پھانسی کا کم دے دیا۔ لیکن آپ نے رسول اللہ ﷺکی غلامی کا ایسا ثبوت دیا کہ آپ اپنی جان کے خوف سے بالکل بھی نہیں گھبرائے۔ شاہِ روم نے ایک دیگ لانے کا حکم دیا ۔ اس دیگ میں پانی ڈالا گیا اور اس کے نیچے آگ جلادی گئی۔ جب پانی کھولتا ہوا گرم ہوگیا تو اس میں ایک قیدی کو پکڑ کر ڈال دیا گیا جس سے اس کے جسم کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہوگیا۔ شاہِ روم نے ایک مرتبہ پھر آپ کو کہاکہ نصرانیت قبول کرلو ورنہ تمہیں بھی دیگ میں ڈال دیا جائے گا۔ جب آپ کو دیگ میں ڈالنے کے لیے کارندے دیگ کی جانب چلنے لگے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ شاہِ روم نے رونے وجہ پوچھی تو آپ نے جواب دیا کہ میری دلی تمنا ہے کہ میری سوجانیں ہوں اور ان تمام جانوں کو اللہ کی راہ میں اسی طرح کھولتے ہوئے پانی میں پھینک کر ختم کیا جائے۔ یہ بات سن کر شاہِ روم بہت حیران ہوا اور کہا کہ اگر تم میرے سر کو چوم لو تو میں تمہیں چھوڑدوں گا ۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کی وہاں سے جان بخشی ہوئی۔ (بیہقی) آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مصر میں وفات پائی۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا شمار بھی سفیر صحابۂ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم ﷺ نے مصر کے حکمران مقوقس کے پاس اپنا سفیر بناکر بھیجا تھا۔ آپ نے اپنی دانشمندی اور حاضر جوابی سے مقوقس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا ۔آپ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں اناج کی تجارت کیا کرتے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ کا شمار بہترین شعراء میں ہوتا تھالیکن حلقۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شاعری کو خیر باد کہہ دیا تھا ۔ آپ بہترین شہسوار، نیزہ باز اور تیر انداز تھے۔ آپ کو شمشیر زنی میں بھی بڑی مہارت حاصل تھی۔ آپ نے غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں بہترین تیر اندازی کا مظاہرہ کیا تھا۔ آپ فتح مکہ، بیعتِ رضوان اور صلح حدیبیہ میں بھی شریک تھے۔ آپ چھوٹے قد کے مالک اور بہت حسین و جمیل تھے۔ سیاسی معاملات نمٹانے کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ آپ نے سفارت کے فرائض نہایت کامیابی اور بہادری سے انجام دیے۔ آپ کی وفات ۳۰ھ میں ۶۵ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔

حضرت شجاع بن وہب الاسدی رضی اللہ عنہ کو السابقون الاولون میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے ۔ آپ کا شمار بھی سفیر صحابہ کرام میں ہوتا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم ﷺ نے رئیسِ یمامہ حارث بن ابی شمر غسانی کی طرف سفیر بناکر بھیجا تھاجو کہ بہت نڈر اور جنگجو تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار بدری صحابہ کرام میں بھی ہوتا ہے۔ آپ نے حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں حصہ لیا اور بہترین مجاہد ہونے کا ثبوت دیا۔ آپ دراز قد اور کمزور جسم کے مالک تھے ۔ بڑے پختہ عزم اور دلیر تھے۔ آپ رعب دار شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی گفتگو میں بڑی فصاحت و بلاغت ہوا کرتی تھی۔ صبر، حکمت، دانشمندی اور منصوبہ بندی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ۱۱ھ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔اس وقت آپ کی عمر ۴۵ سال تھی۔ (الکامل فی التاریخ)

حضرت سلیط بن عمر والعامری رضی اللہ عنہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے اکیسویں صحابی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے نجد کے علاقے یمامہ کے دو رئیسوں ہوذہ بن علی اور ثمامہ بن اثال کی طرف سفیر بناکر بھیجا تھا۔ جب اہل مکہ نے مسلمانوں پر ظلم و ستم شروع کیا تو آپ کی حالتِ زار دیکھ کر رسول اللہ ﷺنے حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے فصیح و بلیغ، تجربہ کا ر، اخلاق حسنہ سے آراستہ، صبرو تحمل کے خوگر، بڑے منصوبہ ساز اور ذہین و فطین صحابی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ۱۱ھ میں واقع ہونے والے معرکۂ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے جنگ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کی۔
حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے عمان کے دو رئیسوں جیفر بن جلندی اور عبد بن جلندی کی طرف سفیر بناکر بھیجا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا پیشہ تجارت تھا۔ آپ تجارت کی غرض سے دوسرے ممالک جایا کرتے تھے۔ آپ نے فتح مکہ سے چھ ماہ قبل اسلام قبول کیا ۔ آپ کے والد عاص بن وائل کا شمار اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں ہوتا تھا۔ حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بہت بہادر سپاہی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی کمال، جرأت و شجاعت، حکمت اور دانائی سے پورے مصر کو اسلامی سلطنت کا حصہ بنا لیا تھا۔ جب آپ کو مصر کو گورنر بنایا گیا تو آپ نے بہت سی اصلاحات کیں۔ نئے شہر آباد کیے، نئی نہریں کھدوائیں اور زراعت کے کام کو فروغ دیا۔ آپ کے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے مصر جلد ہی خوشحال ملک میں تبدیل ہوگیا تھا۔ (سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ) آپ رضی اللہ عنہ کی سفارت نہایت کامیاب رہی آپ لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ آپ کی سعی و کوشش سے علاقے کے اکثر باشندے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ یہاں تک کہ جن دو رئیسوں کی طرف آپ کو سفیر بناکر بھیجا گیا تھا وہ دونوں بھی حلقۂ اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ (طبقات ابن سعد)آپ رضی اللہ عنہ عید الفطر کے دن یکم شوال ۴۳ھ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔

حضرت علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ کا شمار بھی سفیر صحابۂ کرام میں ہوتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ کو معرکۂ جعرانہ سے واپس آکر بحرین کے حکمران منذر بن ساوی العبدی کی طرف سفیر بناکر بھیجا تھا۔ آپ نے ۸ ہجری میں فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ پہلے جرنیل ہیں جنہوں نے سمندر کے ذریعے سفر کیا۔ آپ جلیل القدر صحابی، ایک روشن دماغ سفیر، ایک تجربہ کا رمنتظم، فاتح جرنیل ، محدث اورفقیہ کی حیثیت سے جانے جاتے تھے ۔ (سلطنتِ مدینہ کے سفیر صحابہ) آپ نے سفار ت کے فرائض انتہائی کامیابی کے ساتھ اس خوبی سے انجام دیے کہ بحرین میں ایک قطرہ خون بہائے بغیر پر امن طریقے سے پورے بحرین کو اپنے زیرِ نگیں کرلیا۔ (جوامع السیرۃ)آپ کی دعوت پر بحرین کے تمام عرب مسلمان ہوگئے تھے۔ یہاں تک کہ بحرین کا حاکم منذر بن ساوی بھی دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا تھا۔ (الکامل فی التا ریخ)آپ کا انتقال بحرین سے بصرہ جاتے ہوئے لیاس کے مقام پر ہواجہاں آپ کو غسل دینے کے لیے پانی میسر نہیں تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے بارش نازل فرمائی، اس طرح آپ کو بارش کے پانی سے غسل دیا گیا۔ (طبقات ابن سعد)

حضرت حارث بن عمیر الازدی رضی اللہ عنہ ایک سفیر صحابی تھے جنہیں آقا کریم ﷺ نے شاہِ بصریٰ کی جانب اسلام کا پیغام لے کر بھیجا تھا ۔ آپ کا شمار بڑے فصیح و بلیغ صحابۂ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ آپ حسنِ اخلاق سے آراستہ، صابر و شاکر، صداقت کے خوگر، حسین و جمیل اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ آپ بحیثیتِ سفیر خدمات انجام نہیں دے سکے کیونکہ آپ کو ملکِ شام کی جانب جاتے ہوئے مؤتہ کے مقام پر شرحبیل بن عمرو الغسانی نے باندھ کر آپ کی گردن اڑا کر شہید کردیا تھا۔ آپ پہلے سفیر اور واحد سفیر تھے جنہیں شہید کیا گیا تھا۔ آپ کے علاوہ کوئی سفیر قتل نہیں ہوا تھا۔ (سلطنتِ مدینہ کے سفیر صحابہ)

حضرت مہاجر بن ابی امیہ القرشی المخزومی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ۹ ہجری میں یمن کی طرف حارث بن عبد کلال الحمیری کی جانب سفیر اسلام بنا کر بھیجا تھا۔ آپ پھر تیلے مجاہد، بڑے کامیاب قائد اور تجربہ کار سفیر تھے۔ آپ بااخلاق، صابر و شاکر، دانشور، عالم و فاضل، منصوبہ ساز، ذہین و فطین صحابی تھے۔ آپ حسین و جمیل ہونے کے ساتھ ساتھ بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے سفارت کے فرائض کامیابی و خوش ااسلوبی سے ادا کیے۔ آپ کی دعوت سے حارث الحمیری کے ساتھ بہت سارے یمنی باشندے اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ (اسد الغابۃ) آپ ایک بہترین سفیر، گورنر اور کامیاب جرنیل کی حیثیت سے تاریخِ اسلام میں پہچانے جاتے ہیں۔

حضرت جریر بن عبد اللہ الجلبی رضی اللہ عنہ ایک بہادر اور باصلاحیت صحابی تھے۔ رسو ل اللہ ﷺ نے آپ کو ۱۱ ہجری میں یمن کے سردار ذوالکلاع کی طرف سفیر بنا کر بھیجا تھا ۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کرتے ہوئے ذی الخلصہ کے صنم کدہ کو جلا کر رسول اللہ ﷺکو خوش کیا تھا اور آپ ﷺ نے پو رے لشکر کے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی تھی ۔(الکامل فی التاریخ) جنگِ حیرہ کے موقع پر جب مسلمان ہزیمت کا شکار ہورہے تھے تو آپ نے ایسا جنگی کردار ادا کیا جس سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا تھا اور مجاہدین آپ کی جرأت ، شجاعت اورشمشیر زنی کو دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے۔ اسی طرح جنگِ یرموک کی کامیابی میں آپ کے ماہرانہ جنگی مشوروں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ آپ کی جنگی اور انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں آپ کو دربارِ خلافت کی جانب سے اہم عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔ آپ نے ۵۴ھ میں قر قیسیاء کے مقام پر اپنی اقامت گاہ میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء)

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے اور آپ تاریخِ اسلام کے سب سے پہلے سفیر تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملکِ حبشہ کے حاکم نجاشی کے نام ایک مکتوب گرامی بھیجا تھا جس میں مہاجرین کے ساتھ حسنِ سلوک کے بر تاؤ کا حکم تھا۔ آپ اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ حسین و جمیل تھے۔ آپ ہاشمی خاندان کے خوبصورت جوان تھے۔ آپ کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : اے جعفر ! تم میرے ہم شکل بھی ہو اور ہم عبادت بھی۔ (الاصابۃ) آپ رضی اللہ عنہ غربا، فقرا ء ، مساکین اور حاجتمندوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ آپ کے جود و سخا کا عالم یہ تھا کہ آپ ابو المساکین کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ (طبقات ابن سعد) آپ نے دو ہجرتوں حبشہ اور مدینہ کی سعادت حاصل کی۔ آپ نے نجاشی کے دربار میں سفارت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیے ۔ آپ کی رقت انگیز اور دلآویز گفتگو نے حبشہ کے حکمران نجاشی کے دل میں انقلاب پیدا کردیا تھا۔ آپ غزوۂ موتہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کے جسم مبارک پر تیر اور تلواروں کے نوے سے زیادہ زخم تھے۔ (بخاری) کئی دنوں تک نبی کریم ﷺکو حضرت جعفر کی شہادت کا شدید غم رہا۔ یہاں تک کہ روح الامین حضرت جبریل علیہ السلام نے یہ بشارت کی کہ اللہ رب العزت نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو دو کٹے ہوئے بازوؤں کے بد لہ میں دو نئے بازو عنایت فرمائے ہیں جن سے وہ جنت کے فرشتوں کے ساتھ محو پرواز رہتے ہیں ۔ اسی وجہ سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’ طیار ‘‘ او ر ’’ ذو الجناحین‘‘ ہوگیا تھا۔ (بخاری)
حضرت عمر و بن امیہ الضمری رضی اللہ عنہ کا شمار بھی سفیر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ ۶ ھ کے اواخر میں رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حکمرانوں کے نام جو تبلیغی خطوط لکھے گئے تھے ان میں سے حبشہ کے نیک صفت بادشاہ نجاشی کے نام خط تھا ، اس خط کو پہنچانے کی ذمہ داری آپ رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی تھی۔ آپ ہی کی دعوت پر نجاشی نے اسلام قبول کیا تھا ۔ (الاستیعاب) حضرت عمرو بن امیہ نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا جب مشرکین غزوۂ احد کے بعد واپس پلٹ رہے تھے۔ (طبقات ابن سعد) آپ رضی اللہ عنہ جرأت و شجاعت اور شرافت کے اعتبار سے عرب کی مشہور و معروف شخصیات میں سے تھے۔ قریشِ مکہ آپ رضی اللہ عنہ کو نہایت چالاک، فطین اور فعال سمجھتے تھے۔ آپ نے عہدِ نبوی میں ممتاز سیاسی خدمات سرانجام دیں آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے آخری ایام میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ (الاصابۃ)

حضرت عثمان بن عفا ن رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ ہیں۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان اور رؤسائے مکہ کی طرف سفیر بناکر بھیجا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ شرم و حیا کے پیکرتھے۔ آپ نہایت سخی تھے۔ آپ نے اپنے مال سے مسلمانوں کی کئی مواقع پر مدد کی۔ جس وقت مسلمانوں کو پانی کی پریشانی کا سامنا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بیس ہزار درہم میں ’’ بئرِ رومہ‘‘ نامی کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا تھا۔ آپ کا شمار صحابہ کرام کے طبقۂ اولیٰ میں ہوتا ہے۔ آپ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دی تھیں۔اسی وجہ سے آپ ذوالنورین (یعنی دو نور والے ) کے لقب سے مشہور ہوگئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سوائے غزوۂ بدر کے تمام غزوات میں شرکت کی۔ غزوۂ بدر میں آپ کی عدم شرکت کے باوجود آقا کریم ﷺ نے آپ کو بدری صحابہ میں شمار کیا ہے۔ آپ تقریباً چھ سال تک مسلمانوں کے خلیفہ کی حیثیت سے رہے۔ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں اسلامی حکومت کی حدود کو کافی وسعت دی تھی۔ آپ کی شہادت ۳۵ ھ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اس وقت شہید کیا گیا جب آپ تلاوتِ قرآن میں مصروف تھے۔ آپ کی تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔

درج بالا صحابہ کرام نے انتہائی خلوص اور کامیابی کے ساتھ سفارت کے فرائض انجام دیے اور اسلام کے پیغام کو دوسری سرحدوں تک پہنچایا ۔ مختلف قوموں اور مملکتوں کے درمیان باہمی تعلقات اور دو طرفہ معاہدات کے لیے قدیم زمانے سے سفارتی سرگرمیاں تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ جنگی معاملات اور تجارتی امور پر بھی سفیروں کے ذریعے رابطہ قائم کیا جاتا تھا۔ جب سفارتی رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی تو ایسے صحابۂ کرام کو سفیر بناکر بھیجا جاتا تھا جو نہایت ذہین اور سمجھدار ہوں اور اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کی مہارت رکھتے ہوں اور دوسرے فریق سے اپنی بات منوانے کے گُر جانتے ہوں۔ (زرقانی بحوالہ سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ)

محمد ریاض علیمی،