اسلام

اگر وہ زندہ ہوتی۔۔۔ فقہ پر ہیجانی کیفیات کی بنیاد پر کی جانے والی تنقید کا جائزہ

انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ متعدد جہات میں توازن قائم کرتے وقت وہ اکثر وقتی یا حادثاتی نوعیت کے جذبات سے متاثر ہوکر "عمومی و حادثاتی” پہلووں کو خلط ملط کردیتا ہے۔ مثلا حالیہ واقعے کی سنگینی کے تناظر میں فی الوقت بہت سے لوگ "سخت سے سخت سزا” (مثلا رجم یا سر عام پھانسی وغیرہ) کی حمایت کررہے ہیں مگر یقین مانئے کہ چند ماہ بعد تفتیش کے بعد (جب جذبات ذرا ٹھراؤ کی سطح پر آچکے ہونگے) اگر عدالت واقعی مجرم کو سرعام رجم کرنے کی سزا سنا دے اور حکومت اس پر عمل کا فیصلہ کرلے تو انہی لوگوں کی ایک اکثریت اس کے خلاف لب کشائی کررہی ہوگی، ہیومن رائٹس کی یہی تنظیمیں پھر اس "ظلم” پر عالمی میڈیا کو متوجہ کریں گی بلکہ خود ہمارے میڈیا والے ہی شور مچا دیں گے۔

انسانی زندگی سے متعلق ہر عمل کی متعدد جہات ہوتی ہیں اور انسانی عمل کو ریگولیٹ کرنے والا ہر قانون ۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں ہر قانون و تشریح ۔۔۔۔۔۔۔ ان متعدد جہات میں اقداری ترجیح کا کوئی پیمانہ لازما قائم کرتا ہے۔ مثلا قصاص کی سزا میں جہاں کسی جان تلف کرنے کی سزا کا پہلو ہے تو دوسری طرف ایک اور جان کو تلف کرنے یا مثلا مجرم کے لواحقین کے غم یا انکی معاشی کفالت کا پہلو وغیرہ موجود ہے۔ اب قصاص کا قانون ان کے درمیان اقداری ترجیح کا یہ پیمانہ فرض کرتا ہے کہ اول الذکر (یعنی جان تلف کرنے کی سزا) دیگر پہلووں سے بہرحال مقدم ہے اس لئے اسے نافذ کیا جائے گا۔ چنانچہ شارع جب کوئی حکم متعین کرتا ہے تو وہ درحقیقت متعدد پہلووں کے مابین اقداری ترجیح کا ایک توازن ہوتا ہے۔ اسی طرح شارع نے زنا کی سزا کے لئے جو نصاب و اثبات کا جو طریقہ کار مقرر کیا ہے اس میں "فرد کی عصمت” کو انتہائی اھمیت و ترجیح دی گئی ہے۔

اب یہ عین ممکن ہے کہ کسی ایک آدھ کیس میں عمل کے ارتکاب کا اظہار یوں ہو کہ ان دیگر پہلوں کا حاصل جمع اول الذکر سے مساوی یا اس پر غالب آجائے اور اس کی بے شمار مثالیں جمع یا فرض کی جاسکتی ہیں، بالی وڈ سے ھالی وڈ تک کی فلموں میں ایسی تھیمز پر بے شمار فلمیں موجود ہیں جہاں ایک "قاتل ھیرو” کو بالاخر عدالت رہا کردیتی ہے اور تمام ناظرین کا دل یہ گواہی دینے لگتا ہے کہ "یہی عدل کا تقاضا تھا، عدالت نے بالکل درست کیا”۔ ان کیسز کو کیسے ایڈریس کیا جائے؟ کیا ایسے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے "اصل و عمومی قانون” ہی کو تبدیل کردیا جائے یا انہیں ایڈریس کرنے کے لئے عمومی قانون میں کوئی ایسا اضافی قضیہ شامل کیا جائے جو اس کیس کو اس عمومی کیس سے ممیز کر سکے جس کی عمومی سزا موجود ہے؟ ہمارے فاضل دوست کا کہنا دراصل یہ ہے کہ اس کیس کو ایڈریس کرنے کے لئے پورے نظام فکر کو بدلنا لازم ہے (جس کے لئے انہوں نے سوائے ھیجانی کیفیت کو استعمال کرنے کے کوئی دلیل نہیں دی) جبکہ علماء پاکستان میں اس موضوع پر ھونے والی بحث میں پہلے ہی اس قسم کے کیسز سے متعلق یہ واضح کرچکے ہیں کہ ان میں تعزیرا سزائے موت دی جاسکتی ہے نیز اس کے لئے چار گواہوں کی شرط بھی لازم نہیں۔

اب دیکھئے کہ علماء نے مسئلے کا حل پیش کردیا مگر چونکہ صاحب پوسٹ کے نزدیک مسئلے کا حل اہم نہیں بلکہ اہم چیز اپنے فکری مخالف کو غیر معقول ثابت کرنا نیز اپنے گروہی مفادات کو بڑھاوا دینا ہے لہذا انہوں نے مسئلے کی ایسی منظر کشی کی جس سے اس ھیجانی کیفیت میں لوگوں کو یہ لگے کہ "دیکھو فقہ کتنی ظالم ہے اور غامدی صاحب کا مذھب کتنا اچھا ہے”۔ (یہاں موقع کی نزاکت اجازت نہیں دیتی ورنہ معمولی سے تھاٹ ایکسپیریمنٹ سے ہم اپنے محترم کو ایسی مثال تخلیق کرکے دکھاتے جس سے انکی فقہ کے احکامات سے ایک فریق پر بظاہر ظلم ہوتا دکھائی دے، ہم نے وہ مثال لکھ کر پھر محو کردی کہ اس سے بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوجائیں گے)۔ ہمارے نزدیک انکی یہ پوسٹ علم کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں رکھتی کیونکہ اس میں کوئی علمی دلیل سرے سے ہے ہی نہیں، اسے زیادہ سے زیادہ "موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے وضع کردہ مناظرانہ اپیل” کہا جاسکتا ہے۔ اسکی مثال اس مناظر کی سی ہے کہ جب دوسرے مناظر نے دوران مناظرہ تقریر میں "قال قال رسول اللہﷺ "کہا تو پہلے مناظر نے شور مچا دیا کہ دیکھو یہ گستاخ رسول اللہﷺ کو کالا کالا کہتا ہے، میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ گستاخ ہے، اور لوگوں نے پکڑ کر دوسرے مولوی کی پھینٹی لگا دی۔

تحریر : پروفیسر زاہد مغل