اُردو صفحہ فیس بُک پیج

اہم بلاگ معلومات

افغانستان ۔ جنگ کے بعد ۔۔۔(دوسری،آخری قسط)

ملا عمر کا انتقال اپریل 2013 میں ہو گیا تھا لیکن طالبان کا میڈیا ونگ یہ تاثر دیتا رہا تھا کہ ملا عمر زندہ ہیں۔ جولائی 2015 میں ازبک اسلامی تحریک کے قائد عثمان غازی نے اعلان جاری کیا کہ ملا عمر فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جماعت اب داعش سے بیعت کر رہی ہے۔ ازبک اور ان کے اتحادیوں نے طالبان کے دیہاتوں پر حملہ کیا۔ لاوڈ سپیکر سے اعلان کیا جاتا کہ “ہمارے ساتھ مل جاوٗ۔ ملا عمر زندہ نہیں”۔ علاقے پر قبضہ کر کے شام اور عراق کی دولتِ اسلامیہ والا ظالمانہ طریقہ ہی استعمال کیا جاتا۔ افغان ہزارہ کے سر اکٹھے گروپ کی صورت میں اتارے جاتے۔ پکڑے جانے والوں کو ایک جگہ پر باندھ کر ان کو بم سے اڑا دیا جاتا۔ اس سب کی ویڈیو بنائی جاتی۔ مارچ 2016 میں اشرف غنی کی حکومت کے خلاف مشرقی ننگرہار میں جنگ داعش کے جھنڈے تلے کی جا رہی تھی۔ حکومت مخالف گوریلا فوج کا دس فیصد داعش اور باقی نوے فیصد طالبان تھے۔

ملا عمر کی جانشینی کا معاملہ طالبان نے آپس میں کچھ لڑائی جھگڑے کے بعد طے کر لیا تھا۔ ملا اختر محمد منصور امیر بن گئے۔ مئی 2016 میں ملا منصور کو بلوچستان میں افغان سرحد سے بیس میل دور احمد وال کے مقام پر ایک ڈرون نے نشانہ بنایا جب وہ ایران سے اپنی لینڈ کروزر میں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ واپس آ رہے تھے۔ وہ ایران میں کیوں تھے؟ یہ غیرواضح ہے۔ دیوبند مکتہ فکر کے طالبان اور ایرانی شیعہ فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کے اس حد تک دشمن رہے کہ 2000 میں جنگ کی نوبت آنے لگی تھی۔ امریکہ کی جنگ کے بعد ایران اور طالبان کے تعلقات کچھ بہتر ہوئے تھے۔ ایک اندازہ یہ ہے کہ افغانستان میں ایک نئے مشترک دشمن، داعش کی آمد نے ان کو آپس میں معاملات طے کرنے پر مجبور کیا ہو۔ اس کے بعد طالبان کے اگلے امیر مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ بنے۔

مزید پڑھیں: افغانستان۔ جنگ کے بعد!(حصہ اوّل)

اس برس کے آخر تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8400 رہ گئی تھی۔ (یہ تعداد 2009 میں ایک لاکھ سے زیادہ تھی)۔ ان میں سے دو ہزار عسکری ڈیوٹی پر جبکہ باقی چھ ہزار سے زائد کا کام افغان فورس کی ٹریننگ اور سپورٹ تھا۔ طالبان کے پاس افغانستان کا ایک تہائی علاقہ تھا۔ یعنی نصف سے زیادہ علاقہ افغانستان کی کمزور حکومت کے پاس تھا۔ جرائم پیشہ اور تاوان کے لئے اغوا کرنے والے گینگ بڑی تعداد میں تھے۔ اوبامہ حکومت کا خیال یہ تھا کہ افغانستان ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کچھ فورس رکھنا ضروری ہے۔ جس طرح کولمبیا کی فارک کے ساتھ طویل جنگ رہی یا نائیجیریا کی بوکوحرام کے ساتھ ہے۔ یہ بھی ایسے ہی جاری رہے گی۔ امریکی صدر ٹرمپ یہ فوج بھی نکالنا چاہتے تھے لیکن پینٹاگان کے جنرلوں نے اسکے خلاف مشورہ دیا۔ اگست 2017 میں ٹرمپ نے اس سطح پر فوج برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ افغان فورس اور پولیس سیاسی دھڑوں اور نسلی شناخت کا شکار ہے۔ افغان حکومت کی اندرونی لڑائیوں کی وجہ سے مفلوج ہے۔ اشرف غنی کا خیال تھا کہ مذاکرات سے حل نکالا جا سکے گا۔ ان کی ہر کوشش ناکام رہی۔

امریکہ کی طرف سے جس نے جنگ کی پالیسیوں میں حصہ لیا، سب اس جنگ کو چھوڑ کر آگے بڑھ چکے۔ کوئی بزنس میں چلا گیا، کوئی یونیورسٹی میں پڑھانے، کوئی سیاست میں، کوئی ریٹائر ہو چکا۔ حامد کرزئی جو امریکی حمایت سے آئے، دس سال تک ملک کے سربراہ رہے۔ آجکل کابل میں رہائش پذیر ہیں۔ انٹرویوز میں ان کی تنقید کا نشانہ پاکستان اور امریکہ رہتے ہیں۔ طالبان خود بدل چکے ہیں۔ نظریات میں لچک آ گئی۔ ان کے اہم کردار بکھر گئے۔ طالبان کی طرف سے مذاکرات کرنے والے طیب آغا اب قطر میں سیٹل ہو چکے۔ کئی اب میدان میں نہیں رہے۔ کئی آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ کئی طالبان لیڈروں کو پاکستان 2014 میں آپس میں بیٹھ کر مذاکرات کرنے ٹیبل تک لے کر آیا۔ مذاکرت کے ہر دور میں پیشرفت صفر رہی۔

پنجشیر سے آنے والے کمانڈر، جو احمد شاہ مسعود کو قتل کئے جانے کے بعد پریشان تھے، ان کے لئے یہ برس “ترقی” کے برس رہے۔ ہر کسی نے وزارت لی۔ احمد شاہ مسعود کھے بعد بننے والے لیڈر فہیم کا انتقال 9 مارچ 2014 میں ہوا۔ ان کے سپورٹرز نے ان کا مقبرہ کابل سے پنجشیر جانے والی سڑک کے کنارے سفید سنگِ مرمر سے بنوایا ہے جو میلوں دور سے نظر آتا ہے۔ شاندار مقبرہ، جو کسی مغل بادشاہ کا معلوم ہوتا ہے۔ فہیم اور ان کی فیملی نے پندرہ برس میں جو دولت کمائی، وہ نمایاں ہے۔ ان کی رہائش گاہ کسی بھی مغلیہ محل سے کم نہیں تھی جو پنجشیر کے دریا کے کنارے ان کی بستی اومارز میں ہے۔

پنجشیر وادی میں جبل سراج کے قریب نیلگوں دریا سفید جھاگ اڑاتا بہتا ہے۔ یہ خوبصورت منظر کوئی دیومالائی کہانیوں کی جگہ کا لگتا ہے۔ یہ طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان کی جنگ کی 2001 کی فرنٹ لائن تھی۔ طالبان یہاں سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔ مسعود کی پارٹی کے لیڈروں کی کرپشن اور چوری کے باوجود یہاں پر ترقی کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ تاجکستان سے آنے والی خوبصورت سڑک اچھی حالت میں ہے۔ نئے سکول ہیں، نئے بازار جہاں انگور اور تربوز بکتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ ہونے سے سیکورٹی اور ٹرانسپورٹ کے ٹھیکے یہاں رہنے والوں کو ملے۔ نئے گھر اور خاردار تاروں کے احاطے میں فارم دریا کے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ یہ وہ خاندان ہیں جنہوں نے اس جنگ اور پھر ری کنسٹرکشن سے فائدہ اٹھایا ہے۔

پنجشیری قیادت بھی سیاسی اور عسکری طور پر منتشر ہے۔ مسعود اور پھر فہیم بھی دنیا میں نہیں۔ کوئی موجودہ لیڈر زیادہ مقبولیت نہیں رکھتا۔ یہاں کے سیاسی لیڈر عبداللہ کو خودغرض موقع پرست سمجھا جاتا ہے۔ جب زندہ لوگ کسی قابل نہ ہوں تو سیاست مردہ لوگوں کی یادوں پر چلتی ہے۔ احمد شاہ مسعود کی تصویر والے پوسٹر اور سڑکوں پر چلتی لینڈکروزر اور کرولا پر ان کی تصویریں اس علاقے کا نشان ہیں۔ بازراک کے پہاڑ پر ان کا عظیم مقبرہ ہے۔ جو شاید ان کے بعد آنے والوں کی نااہلی اور کرپشن کی علامت ہے۔ جس طرح وقت گزرتا جاتا ہے، ایک مردہ لیڈر کے نام اور یاد پر کی جانے والی سیاست اس بات کی یاددہائی کرواتی ہے کہ زندہ رہ جانے والے کس قدر ناکارہ ہیں۔ یہاں پر لوگوں کی امید ان کے بیٹے سے ہے۔ احمد مسعود، جو برطانیہ سے پڑھا ہے۔ اپنے والد کے برعکس اس علاقے کی جنگ کا تجربہ نہیں، حتیٰ کہ گھڑ سواری بھی نہیں آتی۔ جب قندوز 2015 میں کچھ عرصے کے لئے طالبان کے پاس گیا تو احمد کی والدہ نے پیغام بھیجا کہ “احمد، پڑھائی چھوڑو اور یہاں آ کر لڑو”۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب اس برس ہونے ہیں۔ انتخابی مہم جاری ہے۔ صحت، ماحول، تعلیم، معیشت، امیگریشن، سیاسی اصلاحات، نظامِ انصاف، توانائی، تجارت، ٹیکس، اسلحہ کنٹرول، ویلفئیر جیسے مسائل کی فہرست میں افغانستان کا ذکر معمولی ایشوز میں بھی نہیں۔ کسی بھی امیدوار سے اس بارے میں پالیسی کا ایک سوال بھی نہیں کیا گیا۔ ہت عرصے سے پس منظر میں جا چکا ہے۔ طالبان امریکہ سے مذاکرات کر رہے ہیں جو کئی برسوں سے بار بار ہونے اور ختم ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر جاری ہیں۔ اور ہاں، افغانستان میں صدارتی انتخابات 2019 میں ہوئے۔ طویل عرصے سے جاری رہنے والے اس پراسس میں نتائج کا اعلان چار ماہ بعد کیا گیا۔ 22 دسمبر میں الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق اشرف غنی نے عبداللہ کو شکست دی۔ عبداللہ نے شکست تسلیم نہیں کی۔ اس کا تصفیہ اگلے چند مہنیوں میں ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔ طالبان، اشرف غنی اور عبداللہ کے درمیان افغانستان ایک بار پھر نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ طالبان راہنما عباس ستانکزئی کے مطابق، “جنگ کا راستہ آسان ہے۔ امن کا راستہ بہت مشکل”۔