بلاگ

ایک “غدار” تحریر! حصہ اول

واصف علی واصف کا قول ہے: ”جو انسان بیس سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں رہ رہا ہو وہ ملک دشمن نہیں ہو سکتا، جس کے ماں باپ کی قبریں اس ملک میں ہیں وہ غدار نہیں ہو سکتا“۔حامد میر صاحب نے غداروں کی دو اقسام لکھی تھیں: پہلی قسم کے وہ غدار ہوتے ہیں جو غیر ملکی دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم کو دوسروں کا غلام بنا دیتے ہیں۔ اس طرح کے غداروں میں سب سے بڑا نام سراج الدولہ کی فوج کے سربراہ سید جعفر علی خان کا ہے جسے تاریخ میر جعفر کے نام سے جانتی ہے۔دوسری قسم کے غدار وہ ہوتے ہیں جو اپنی ہی قوم کے اس طاقتور طبقے کے خلاف زبان کھولتے ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کی جنگ کو حب الوطنی قرار دیتا ہے۔اس قسم کے غداروں کے پاس نہ بندوق ہوتی ہے نہ ٹینک، ان کے پاس سچ بولنے کے لیے زبان اور لکھنے کے لیے قلم ہوتا ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6کہتا ہے کہ ”ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آ ئین کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے“۔ ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ”غداری“کا لفظ پہلی مرتبہ 1973ء کے آئین میں استعمال ہوا۔ہم بہت ہی بد قسمت لوگ ہیں جو چاروں طرف سے”غداروں“ میں گھرے ہوئے ہیں۔ہماری اس سے زیادہ بد قسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں کے کچھ ”غیرت مند“ اور ”محب وطن“لوگوں کی نظر میں ملک آزاد کروا کے دینے والا شخص خود”غدار“ ہے۔یہ میں نہیں کہ رہا، یہاں بڑے بڑے سیاسی رہنما اپنی کتابوں میں قائدِ اعظم کو انگریزوں کاوفادار اہلکار کہتے ہوئے ”غدار“ ثابت کر چکے ہیں۔

پاکستان کا ایک صدر صرف اس بنا پر ”غدار“ ٹھہرا کیوں کہ وہ میر جعفر کا پڑپوتا تھا۔جنرل ایوب کی مارشل لاء حکومت کے بنگالی وزیر ِ قانون جسٹس محمد ابراہیم کی کتاب”ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم“ سے چند سطور لکھے دیتا ہوں جو حسین شہید سہروردی کے ”غداری“ کے سرٹیفیکیٹ پر ”مہر“ ثابت ہوں گی۔ جنوری 1962 میں حسین شہید سہروردی کو کراچی میں گرفتار کر لیا گیا تو 5فروری کو جسٹس محمد ابراہیم نے ایوب خان سے ملاقات کی اور سہروردی کی گرفتاری کو ”بلنڈر“ قرار دیا۔مگر ایوب خان نے اتفاق نہ کیا۔ حسین شہید کو ”غداری“ کے الزام میں جیل پہنچانے کے بعد ایوب خان راجشاہی یونیورسٹی کے سالانہ کانوو کیشن سے خطاب کے لیے مشرقی پاکستان پہنچے۔ ان کے ڈھاکہ پہنچنے پر طلبہ نے سہروردی کی رہائی کے لیے پورے مشرقی پاکستان میں مظاہرے کیے۔ ثابت ہوا سہروردی بھی ”غدار“تھا۔جسٹس محمد ابراہیم کے مطابق حسین شہید سہروردی کی گرفتاری پر 1962میں ہی طلبہ نے مشرقی پاکستان میں مظاہروں کے دوران پاکستان سے علیحدگی کا مطالبہ کر دیا تھا۔

1965کے صدارتی انتخابات میں عزت ماب ایوب خان کا مقابلہ قائدِ اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح سے تھا۔ کچھ ہیر پھیر کر کے الیکشن تو فاطمہ جناح کو ہروا دیا گیا مگر وہ ”غداری“کا ٹائیٹل پانے میں کامیاب رہیں۔ ایوب خان کی طرف سے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا۔یاد رہے 1947 میں اسی ”غدار بہن“ کے بھائی نے ”حب الوطنی“ کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے والوں کے لیے ایک ملک حاصل کیا تھا۔ 2جنوری1965 کے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح ڈھاکہ میں بھاری اکثریت سے جیت گئی تھیں کیوں کہ ان کے چیف پولنگ ایجنٹ کا نام ”شیخ مجیب الرحمان“ تھا۔اس سے ثابت ہو ا کہ غدار کا پولنگ ایجنٹ بھی”غدار“ تھا۔ 70ء کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کے سیاسی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے شیخ مجیب الرحمان ایک بار پھر ”غدار“ ٹھہرے۔

ہمیں آج اپنے ”ایٹمی ملک“ہونے پر فخر ہے مگر پاکستان کے ”ایٹمی پروگرام“ کا بانی ایک”غدار“ تھا۔”ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے“یہ نعرہ ایک”غدار“ ذولفقار علی بھٹو نے لگایا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ آج بھی ملکی عدالتوں میں چلنے والا ”قانون“ایک ”غدار“ کا نافذ کردہ ہے۔ جیسا کہ باچا خان (عبد الغفار خان) اور ان کے بیٹے ولی خان کی زندگی کافی ”بحث و مباحثوں“ میں الجھی ہوئی ہے۔ اسی ”الجھن“نے انہیں بھی”غدار“ بنادیا۔ عبد الصمد خان اچکزئی بھی ”غدار“، ان کا بیٹا محمود خان اچکزئی بھی ”غدار“۔ محمود خان اچکزئی پر متعدد بار”را“ سے فنڈنگ کا الزام لگا مگر ثبوت ندارد۔ لیکن ان کی”غداری“ کے سرٹیفیکیٹ پر دستخط کرنے کے لیے ہر دوسرا ”خود ساختہ محب وطن“تیاررہتا ہے، جیسا کہ ”گردشِ دہر“والے حلیم عادل شیخ نے 11 اگست2016کو ایک کالم بعنوان ”محمود خان اچکزئی محب وطن یا غدار“لکھ کر ان کے ”غداری نامہ“ پر مہر لگائی۔

خضدار کے گمنام قصبے نال میں پیدا ہونے والے غوث بخش بزنجو بھی”غدار“تھے۔ یاد رہے اپریل 1972 سے فروری1973تک یہی ”غدار“ بلوچستان کے گورنر رہے۔سردار عطا اللہ مینگل بھی ”غدار“تھے۔”مسنگ پرسنز“ کی بات کرے تو عطا اللہ مینگل کا بیٹا اختر مینگل بھی ”غدار“ہے۔پاکستان کے قیام کے حق میں ووٹ ڈالنے والے اکبر بگٹی بھی غدار جن کے قتل کا مقدمہ اس ”جرنیل“ پر ہے جس نے دو بار پاکستان کا آئین توڑا مگر ”غدار“ اکبر بگٹی ہی رہے گا۔نواب خیر بخش مری بھی”غدار“۔ مولانا فضل الرحمان بھی”غدار“، ان کے والد کو بھی ایک تقریر کے بدلے ”غداری نامہ“ مل چکا ہے۔ قیام ِ پاکستان سے قبل جس جی۔ایم۔سید کو قائد اعظم نے خود کراچی آ کر مسلم لیگ سندھ کا صدر بنایاوہ بھی ”سندھ دیش“ کے جواز میں ”غدار“ ٹھہرے۔پہاڑوں سے اپنے جوان بیٹے جلیل ریکی کی مسخ شدہ لاش اٹھانے والے ماما قدیر بلوچ نے ”مسنگ پرسنز“ کے لیے آواز اٹھائی۔کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد ان کی بازیابی کے لیے پیدل مارچ کیا۔ نتیجہ ماما قدیر بلوچ بھی ”غدار“۔

”کسی سے نہ ڈرنے والے“ایک جرنیل کے ”سرخیل“ اور ہر مسئلے کا حل ”گولی بارود“ میں تلاش کرنے کے شوقین ”لال ٹوپی“ والے ایک حضرت نے 18فروری 2012 کو علامہ طاہر اشرفی، کالم نگار امتیاز عالم، تجزیہ کار نصرت جاوید،خوشنود علی خان، حامد میر، نجم سیٹھی اور ماروی سرمد کو ”را“ اور یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہوئے ”غدار“ قرار دے ڈالا۔یہ ”لال ٹوپی“ والے صاحب یوسف کذاب کے جانشین بھی مانے جاتے ہیں۔سید پرویز مشرف کے دور میں جنگ اور جیو دونوں ”غدار“ ٹھہرے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ تحریکِ پاکستان کے دنوں میں اسی جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمان دہلی حوض قاضی کے تھانے میں پاکستان کے حق میں مضامین لکھنے کے جرم میں بند رہے۔اپنی تحریروں میں 1971میں پاک فوج کی طرف سے مشرقی پاکستان میں کی جانے والی ذیادتیوں کا ذکر وارث میر صاحب کرتے ہیں۔ نتیجہ وارث میر صاحب بھی ”غدار“۔ حالانکہ کئی ”خود ساختہ محب وطن“ ان ذیادتیوں پر پوری کتابیں لکھ چکے ہیں مگر آج بھی سینے پر ”حب الوطنی“ کے”تمغے“ سجائے پھرتے ہیں۔

وارث میر کے سپوت حامد میر مشرف کی طرف سے اکبر بگٹی، لال مسجد او ر افتخار چوہدری پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں تو غدار، اسامہ بن لادن کا انٹرویو کریں تو غداراور طالبان سے تعلقات کا شبہ، افغان طالبان کے ساتھ ایک ”آڈیو ریکارڈنگ“(جس کی تردید طالبان کمانڈر متعدد بار کر چکے ہیں) آجائے تو غداراو ر کچھ نہ ملے تو ان کے والد کو بنگلہ دیش کی طرف سے ملنے والے ایک ”ایوارڈ“ کی آڑ میں ”غداری“ کا ٹھپہ لگاؤ۔ ”مسنگ پرسنز“کی بات کرے تو حامد میر غدار، نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے جاری احتجاج میں منظور پشتین کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے تو حامد میر غدار۔

”ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا“لکھنے کی پاداش میں حبیب جالب نے کوڑے بھی کھائے اور ”غدار“ بھی ٹھہرے۔ڈکٹیٹر کے خلاف مظاہروں میں ”ڈنڈے“ کھانے والے احمد فراز بھی ”غدار“۔اپنے ”گستاخ جملوں“کی وجہ سے فیض احمد فیض بھی ”غدار“بن گئے۔ ملک کے معروف سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں ملک کے ”با عزت“ اداروں کو حد میں رہنے کی تلقین کی۔ ”خود ساختہ محب وطن“ لوگوں کو ”غداروں“ کے آگے سر جھکانے کی بات کی۔ نتیجہ جاوید ہاشمی بھی”غدار“۔ یہاں تو لوگوں نے عاصمہ جہانگیر کو ”بھارتی دورے“ کے دوران لی گئی چند تصاویر کی بنیاد پر ”غدار“ قرار دے دیا۔ایک غدار کی بیٹی آخر ”محب وطن“ کیسے ہو سکتی ہے تو محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ”غدار“۔یاد رہے یہی غدار دو دفعہ ملک کی ”وزیرِ اعظم“ رہی ہے۔

ملک کے ایک ”خود ساختہ محب وطن“ نے سندھ سے پی۔پی کا خاتمہ کرنے کے لیے ایم۔کیو۔ایم کا”پودا“ لگایا۔اس کے سربراہ کی بھر پور مدد کی۔ملک پر جب ایک اور ”خود ساختہ محب وطن“ قابض ہوا تو اس نے خوب ”کھاد پانی“ لگا کے اس ”پودے“ کو تناور ”درخت“ بنایا۔ حضور اس درخت کا ”پھل“ بھی کھاتے رہے مگر بعد میں یہی ”پھل“ تھو تھو لگنے لگا۔اس پارٹی کے سربراہ الطاف حسین اور اس پارٹی کو متعدد بار”غدار“ قرار دیاجا چکا ہے مگر ایم۔ کیو۔ ایم کو غداری کی ان گمنام راہوں پر ڈالنے والا آج بھی سر پر ”حب الوطنی کا تاج“ سجائے اسلام آباد کی ایک مسجد کے صحن میں دفن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے