بلاگ

اچھی خبریں۔ شکریہ ایران، عمران خان

بری اور افسوس ناک خبریں تو آئے روز ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اجاگر ہوتی رہتی ہیں۔ آنکھیں اور کان ترس جاتے ہیں کسی اچھی خبر کیلئے۔ بری خبروں کے ہنگام میں شب و روز ترساں و لرزاں ہی بیت جاتے ہیں۔ بحرحال آج کچھ خبر کی سطح کی ایسی اطلاعیں ہیں کہ جنہیں مشتہر کرنا ہمارے تئیں قومی و ملی فریضہ ہے۔ چنانچہ ادا کیے دیتے ہیں۔ پہلی اچھی اور بڑی خبر یہ ہے کہ انشاء اللہ جلد ریکو ڈیک منصوبے میں زندگی کی نئی اور توانا لہر دوڑ جائے گی۔ ماضی میں یہ سونا اگلنے والا منصوبہ بعض بد اعمالیوں کے باعث تعطل کا اس حد تک شکار ہوا کہ سرمایہ کار کمپنیوں نے اربوں ڈالر کا جرمانہ پاکستان سے وصول کرنے کا صریح ارادہ کر لیا۔ حتیٰ کہ معاملات ریاست پاکستان کی جائیدادیں بیرون ملک ضبط کر کے وصولی کرنے کی حد تک چلے گئے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انڈسٹریل اینڈ انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس(international Center for Settlement of Industrial and Investment Dispute) نامی ایک عالمی ادارہ ہے جس میں متاثر ہونے والے فریقین داد رسی کیلئے درخواست دائر کرتے ہیں۔ کیس کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد یہ معاملہ وُلچر فنڈ (Vulture Fund) نامی ایک اور عالمی ادارے کو سونپ دیا جاتا ہے جو کہ ذمہ دار فریق کی جائیدادیں ضبط کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ مگر معجزانہ طور پر یہ امر وقوع پذیر ہوا کہ پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت قائم ہونے کے بعد کمپنیوں کے کنسورشیم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں طے ہوا کہ چونکہ اب پاکستان میں ایک صاف دامن وزیراعظم موجود ہے اور ماضی کے کمیشن خوروں کی ناکہ بندی ہو چکی چنانچہ غیر حقیقی تعطل کیوجہ سے ہونے والے مالی نقصان کو جرمانے کی صورت وصول کرنے کی بجائے منصوبے کو از سرِ نو آغاز کرنے کا حیلہ کیا جائے۔

چنانچہ اچھی خبر یہ ہے کہ عنقریب ریکو ڈیک میں پاکستانی زمین سے سونا بلکہ بے پناہ سونا اُگلے گا۔ یاد رہے کہ ایک اندازے کے مطابق سونے کی یہ پاکستانی کان ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں سب سے بڑی ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے کچھ صحافی بھائی اور اینکر بازی کے شوقین حضرات جو پاکستان مخالف خبروں کو خوب اچھالتے ہیں اس موقع پر پاکستان کے حق میں آنے والی اس خبر کی بھی مناسب تشہیر کریں۔ اختلاف عمران خان یا موجودہ حکومت کی منصوبہ سازیوں سے تو ہو سکتا ہے مگر اس دوران ریاستِ پاکستان کے صائب حقوق ادا کرنا بھی لازم ہے۔ مثلاً FATF کی بلیک لسٹ میں پاکستان کے اندارج کا خطرہ ٹل جانا بحرحال ریاست اور حکومتِ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ جن لوگوں کے پیٹ میں مولانا فضل الرحمن کا درد تکلیف پیدا کر رہا ہے انہیں اپنی آراء ترتیب دیتے ہوئے دل میں کچھ پاکستان کا درد بھی رکھنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن کی جتھے بازیاں پاکستان کیلئے عالمی بساط پر بازی کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔ ”ہمدردان“ کی کچھ ان پر بھی نگاہ ہونی چاہیے۔

دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ 2010 میں ہونے والے پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں بھی زندگی کی نئی لہر دوڑنے والی ہے۔ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کے دورہ ایران کے باعث یہ بریک تھر و ممکن ہوا ہے ورنہ تعطل کے شکار اس منصوبے کے باعث مالی نقصان کے ازالے کیلئے ایران بھی پاکستان سے جرمانہ وصولی کا ذہن بنا چکا تھا۔ اب ایران نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مزید پانچ برس کی معیاد بڑھا کر کسی طور یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مثبت سعی کی جائے گی۔ یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو ایران سے اسقدر سستی گیس پاکستان کو وافر ملے گی کہ جس کا اندازہ لگایا جانا محال ہے۔ یاد رہے کہ یہ منصوبہ بھی ماضی میں ہماری اپنی بداعمالیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوا تھا۔ منصوبہ ساز اور معاہدے کرنے والے خود تو اپنے اپنے سیاسی مفادات حاصل کر کے چین کی بنسی بجاتے ہیں مگر بھگتنا ریاست کو پڑتا ہے۔ چونکہ ان منصوبوں کی خود مختار گارنٹی ریاست ہی فراہم کرتی ہے۔ ریاست پر بوجھ پڑتا ہے تو نتیجتاً غریب عوامِ پاکستان پستے ہیں۔ بحرحال اب یہ منصوبہ عمران خان کے آنے کے بعد کھٹائی سے نکل کر تکمیل کی راہ لگنے ہی والا ہے۔

تیسری اچھی خبر بھی ایران سے آئی ہے۔ خبر یہ ہے کہ نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کے چالیسویں کے موقع پر ایرانی حکومت نے تہران کے مشہور شہداء چوک میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کا اہتمام کیا۔ کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو کھل کر اجاگر کیا گیا۔ شہداء کو یاد کیا گیا اور نریندر مودی کی انسانیت کش پالیسیوں کی بھر پور مذمت کی گئی۔ کشمیریوں کے حق میں بینرز آویزاں کئے گئے۔ پمفلٹس اور کتابچے تقسیم ہوئے۔ کشمیر میں بھارتیوں کی جانب سے میڈیا بلیک آؤٹ کو ہدف تنقید بنایا گیا اور زخمیوں، عورتوں وبچوں کی فوری داد رسی کا مطالبہ کیا گیا۔ کرفیو فوری طور پر اٹھا کر کشمیریوں کو ان کا حق دئیے جانے پر زور دیا گیا۔ یاد رہے کہ چہلم حضرت امام حسین ؑ ایران اور عراق میں ایک بہت ہی اہم موقع ہوتا ہے۔ کروڑوں محبانِ شہدائے کربلا ملی و مذہبی جوش و جذبے سے وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس موقع پر تہران میں کشمیریوں کے حق میں سٹال لگائے جانے کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگوں نے اس سٹال کے ذریعے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ اس وقت پاکستان کے علاوہ عالمِ اسلام میں ایران وہ واحد ریاست ہے کہ جہاں کشمیریوں کے حق میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے تو پھر کیوں نہ کہا جائے کہ شکریہ ایران!!