بلاگ کالمز

چند سیکنڈ لال بتی پر انتظار کرلیا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا

کمرے میں داخل ہوتے ہی بستر پر لیٹے شخص کی حالت دیکھ میں گھبراہٹ کا شکار ہوگیا اور اچانک چیخ اُٹھا، کیا یہ نعیم صاحب ہیں؟ میرے اِس سوال کا غلام باری صاحب نے بڑے ہی صبر سے جواب دیا، ہاں یہ نعیم صاحب ہی ہیں۔ نعیم صاحب کی آنکھیں کھلی تو تھیں مگر اب وہ مکمل طور پر ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہوچکے تھے۔ بازو اور ٹانگیں بھی سوکھ چکی تھیں، دائیں بازو لکڑی کی طرح سخت اور بے جان تھا۔ بالکل اِسی طرح دائیں ٹانگ میں راڈ ڈلی ہوئی تھی۔ تیماردار نے بتایا کہ سرکاری ہسپتال کے طبی عملے کی غفلت کی وجہ سے نعیم صاحب کی کمر کے نیچے ایک بڑا زخم بن چکا ہے، ڈیڑھ سال ہونے کو ہے یہ زخم ٹھیک نہیں ہو رہا ہے اور اتنے عرصے میں نعیم صاحب کی صحت میں بس اتنی ہی تبدیلی آئی ہے کہ اب اُن کی آنکھیں کھلی ہیں۔ کھانا پینا تو ہے ہی نہیں اور معاملہ ادویات اور گلوکوز پر چل رہا ہے۔ اِس سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ وہ گردن میں سوراخ کے ذریعے سانس لیتے ہیں اور اور اُسی جگہ سے بلغم صاف کیا جاتا ہے۔

اُن کے جسم میں خون کی گردش کو بحال رکھنے اور اعصابی کھچاو سے بچنے کے لیے جو ورزش کروائی جاتی تھی ایسی ہی تھی جیسے کسی بے جان شخص کی پٹائی کی جاتی ہو اور اُس مرحلے کو دیکھنا بھی مشکل کام تھا۔ غرض یہ کہ نعیم صاحب سراپا بے چارگی بن چکے تھے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، نعیم صاحب کے مالی حالات تو بہتر ہیں مگر دیگر مسائل جان کر تو رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ وہ گھر میں واحد مرد تھے، ایک بیٹی جو تعلیم یافتہ تو ہیں مگر منہ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُن کی حالت بھی بہتر نہیں ہے اور نعیم صاحب کی زوجہ کی ایک ٹانگ کسی حادثے کے نتیجے میں ٹوٹ چکی تھی جس کے سبب وہ بستر پر پڑ گئی ہیں۔نعیم صاحب کا خیال رکھنے کے لیے دو تیماردار رکھے گئے تھے، میں چند لمحوں کے لیے ماضی قریب کو سوچنے لگا نعیم صاحب اور میں ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے تھے اِس لیے چہرہ شناسی تو تھی، مجھے یاد ہے وہ کم گو اور سخی انسان تھے۔

وہ ہر روز مسجد میں چندے کے لیے آنے والے افراد کی مالی مدد کا اہتمام کثرت سے کرتے تھے، جان پہچان والے لوگ اُن کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتے تھے، مگر آج صورتحال یہ تھی کہ انہیں خود زندگی کے ہر لمحے مدد کی ضرورت تھی۔یہ سب ایک حادثے کے نتیجے میں ہوا۔ نعیم صاحب سڑک پار کر رہے تھے تو موٹر سائکل سوار نوجوان نے اشارہ توڑ کر تیزی سے نکلنے کی کوشش کی اور نعیم صاحب اُس موٹر سائیکل کی زد میں آگئے اور ہمیشہ کے لیے اپنے ہوش کھو بیٹھے۔ زندگی کی تمام رونقوں سے ایک دم بیگانہ ہوگئے۔ رشتے ناطے سب ہوا ہوگئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا اُس نوجوان کو خبر ہوئی کہ جس شخص کو اُس نے جلد بازی میں ٹکر ماری تھی اب اُس متاثرہ شخص اور اُس کے خاندان پر کیا بیت رہی ہے؟

وہ چند سکینڈ جو اُس نے لال بتی کو برداشت نہیں کیا وہ کسی کے لیے کس قدر بھاری ثابت ہورہے ہیں۔اِس المیے پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے کہ وطن عزیز میں ٹریفک قوانین نہایت بے دردی سے پامال کیے جاتے ہیں۔ یہ صرف اُس نوجوان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پشاور سے کراچی تک قوم کی اکثریت روزانہ کی بنیاد پر اِس بھیانک جرم کی مرتکب ہورہی ہے۔ ہمارے ہاں اشارہ توڑنے پر شرمندگی تو دور پر بات، ایسا کرنے کو قابلِ فخر کام سمجھا جانے لگا ہے۔ اِس بھیانک فعل میں معاشرے کے تمام طبقے شامل ہیں۔ بزرگ، نوجوان، ڈاکٹرز، وکلاء، اساتذہ غرض یہ کہ عالم اور جاہل کا فعل لال بتی پر ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ ملک کی اشرافیہ جنہوں نے مثال بننا ہوتا ہے وہ رکنا تو درکنار بلکہ پرٹوکول کے نام پر عوامی ٹریفک کو روک کر تیز رفتاری سے عوام پر دھول اڑاتے گزر جاتے ہیں۔

ہماری قومی روایت ہے کہ تقریبات ہوں یا کوئی اور دیگر مصروفیات سب دیر سے پہنچنے کے عادی ہیں مگر لال بتی پر چند سکینڈ رکنا اُن کو تضحیک معلوم ہوتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ شہروں میں لال بتی نہ ہو تو ٹریفک ایک اشارے سے دوسرے اشارے تک بھی نہیں چل سکتی۔ترقی پذیر ممالک کا بڑا مسئلہ ٹریفک کی خلاف ورزیاں ہیں اور ٹریفک کی اِن مہلک خلاف ورزیوں کی وجہ سے پاکستان ٹریفک حادثات میں ایشیاء میں افغانستان، بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ سڑکوں پر ہونے والے حادثات اموات کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ غلطیوں میں پہلے نمبر پر تیز رفتاری اور دوسرے پر ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق پچھلے گیارہ سالوں میں پاکستان میں 17 لاکھ ٹریفک حادثات ہوچکے ہیں

اور لاہور میں یہ تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں ہر روز سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں ہر روز 15 افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایک مہینے میں یہ تعداد 450 تک چلی جاتی ہے اور سال میں 5400 اور دس سالوں میں لگ بھگ 54 ہزار لوگ اپنی جان سے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پولیس اور ریسکیو سروس کی مدد سے مرتب ہوئے ہیں لیکن ذاتی خیال یہ ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد لاکھوں میں ہے اور زخمیوں اور عمر بھر کے لیے معذور ہونے والوں کا حساب تو کسی نے رکھا ہی کہاں ہے۔نعیم صاحب نے اپنی زندگی کا مشکل وقت ہوش وحواس سے بیگانہ ہوکر گزارا شاید یہی بہتر تھا۔ کیونکہ حادثات میں مرنے اور معذور ہونے والے نہ صرف خود ایک کہانی بن جاتے ہیں

بلکہ اپنے لواحقین کو شدید مشکلات میں ڈال کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ایک چھوٹا سا عہد اپنی ذات سے کرلیں کہ ہم ٹریفک قوانین کی پابندی کرنے کی کوشش ضرور کریں گے، اگر ہم نے یہ صرف ارادہ بھی کرلیا تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ریاست کے بنائے گئے قوانین پر عمل کو اپنا نصب العین بنا لیں، کیونکہ یہ قوانین نہ ماننا نہ صرف ایک نہایت سنگین جرم ہے بلکہ ہم انسانوں کے لیے نقصان کا سبب بن بن رہے ہیں۔