بلاگ معلومات

آسمانی بجلیاں۔۔۔۔ دھمک، چمک و لپک

آسمانی بجلی کی لپک دراصل فضا میں بادلوں میں بننے والے الیکٹرک چارج کا ڈسچارج ہونا ہے جس سے آسمان پر چمک ہوتی ہے. یہ الیکٹرک چارج کا ڈسچارج ہوا کو یکدم بےحد گرم کردیتا ہے اور ہوا ایک جھٹکے سے پھیلتی ہے . ہوا کا یوں ایکدم پھیلنا زوردار دھماکہ یا گرج پیدا کرتا ہے اور اس گرج سے پہلے ہی آسمان پر بجلی اپنا جلوہ دکھاتی ہے.آسمانی بجلی کی تیز لپک اکثر طوفانِ برق وباراں کے بادلوں سے نکلتی ہے اور اکثر کیوملونمبس cumulonimbus بادل آسمانی بجلی کی چمک و لپک پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں . ان بادلوں سے الیکٹرک چارج کا نکلنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے اور کئی طریقوں سے ہوتا ہے, سائنسدانوں کے درمیان جس طریقے پر زیادہ متفق ہی اس کے مطابق کیوملونمبس بادلوں میں موجود چھوٹے چھوٹے جمے ہوئے ذرات ( precipitating particles پانی کے ننھے قطرے یا برف کے ذرات) اور اولے ہیں جو فضا کی الیکٹرک فیلڈ کے باعث پولارائزڈ polarized ہو جاتے ہیں. ان بادلوں کی سطح کی نچھلی جانب مثبت چارج اور اوپری سطح کی جانب منفی چارج جمع ہوتا ہے. اس بادل کے اندر ہوا ساکن نہیں ہوتی بلکہ اوپر اٹھتی ہوا updraft اور نیچے جاتی ہوا downdraft مییں کشمکش چلتی رہتی ہے updraft میں موجود بغیر چارج یا نیوٹرل ذرات کا پہلے سے موجود چارج شدہ ذرات سے تصادم ہوتا رہتا ہے. زیادہ تر بادلوں کی سطح کی نچھلی جانب موجود مثبت چارج والے ذرات سے ان نیوٹرل ذرات کا ٹکراؤ ہوتا ہے اور یہ updraft ہوا مثبت چارج بادلوں کی سطح کی اوپری جانب لے جاتی ہے اور منفی چارج بادلوں کے نیچے والی سطح پر آجاتا ہے.

یوں تو زمین کی سطح بہتر موسمی حالات میں منفی چارج رکھتی ہے لیکن طوفانِ برق وباراں ک بادلوں میں موجود چارج اس پر سے منفی چارج کو ہٹا کر مثبت چارج اکھٹا کردیتا ہے. زمین کی سطح پر موجو یہ منفی چارج یا الیکٹرونز کو بادلوں کی نچھلی سطح پر موجود منفی چارج دھکیل کر زمین کی سطح پر مثبت چارج پیدا کر دیتا ہے. عمارتیں, درخت اور نیچے موجود لوگوں تک پر بادلوں کا منفی چارج زور لگا کر ان پر مثبت چارج پیدا کرتا ہے. زمین پر الیکٹریکل چارج کا پھیلاؤ اس کی سطح پرمنحصر ہوتا ہے. سپاٹ سطح کی نسبت زمین کی خمیدہ سطح میں الیکٹریکل چارج زیادہ جمع ہوتا ہے.زمین کی سطح پر جہاں زیادہ خم یا اٹھان ہوتی ہے بادلوں کا منفی چارج اس جگہ میں مثبت چارج دوسری سطحوں کی نسبت زیادہ پیدا کرتا ہے اور زمین کے خم پر یا سطح پر موجود چیزوں اور بادلوں کے درمیان پوٹینشل ڈیفرینس بڑھنے پر بجلی زمین اور اس پر موجود چیزوں پر لپکتی ہے اور گر بھی جاتی ہے.

ایسے ہی ایک بلند عمارت زمین پر بہت اونچا خم ڈالتی ہے جب بجلی سے بھرے بادل اسکے نزدیک ہوتے ہیں تو اس عمارت میں ان بادلوں میں پوشیدہ چارج کی ترغیب سے مزید چارج اکھٹا ہوجاتا ہے جس کے باعث بادلوں میں موجود چارج کے ڈسچارج ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں. اس وجہ سے اونچی عمارتیں بجلی کا زیادہ نشانہ بنتی ہیں. اسی اصول پر عمارتوں کی چھتوں پر لگی لائٹنگ راڈlightning rods کام کرتی ہیں جن کا دوسرا سرا زمین کے اندر اترا ہوتا ہے. یہ دھات کی سلاخیں طوفانِ برق وباراں میں آس پاس چمکنے والی بجلی کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے اس کو زمین میں اتار دیتی ہے اور عمارت کو بجلی کے وار سے بچا لیتی ہے. یہ واضح ہےکہ بلند عمارتیں آسمانی بجلی کی لپک کو سب چیزوں سے زیادہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں کیوں کے بجلی اور ان کے درمیان فاصلہ باقی چیزوں کی نسبت کم ہوتا ہے تو بجلی کا کسی بھی چیز کی طرف لپکنے کے لئے اس چیز اور بجلی کا فاصلہ کے درمیان فاصلہ بہت کم ہونا ضروری ہے. اگر بجلی کی لپک اونچی عمارت کی بجائے آپ سے کم فاصلے پر ہوئی تو وہ عمارت کی بجائے آپ پر ہی وار کرے گی تو پیارے بچوں اس لئے یاد رکھیں طوفانِ برق وباراں میں آپ بھی بجلی کا شکار بن سکتے ہیں. بجلی کے لپکوں میں باہر کھلی جگہ کھڑے ہونے سے گریز کریں اور اونچے درختوں , کھمبوں کے نیچے نا جائیں ورنہ انسانی لائٹنگ راڈ بن کر زندگی میں ایک ہی بار بجلی کے لئے استعمال ہوجائیں گے.