ادب

آپ سے کیا پردہ​۔۔ابنِ انشا

ایک بی بی نے کہ مشہور صحافن ہیں ایک اخبار میں مضمون لکھا ہے۔ جس میں کاہلی کی خوبیاں گنوائی ہیں۔ کاہل ہم بھی ہیں لیکن یہ کبھی خیال نہ آیا تھا کہ ہمارا تصور جاناں کیے ہوئے لیٹے رہنا بھی ایک کمال ہے اور جس طرح کا بھی کسی میں ہو کمال اچھا ہے۔ یہ بی بی بھی ہماری عادت کی ہیں۔ دن میں بارہ بجے ناشتہ کرتی ہیں وہ بھی اس لیے کر لیتی ہیں کہ ان کے میاں ان کو ساڑھے گیارہ بجے کان سے پکڑ کر اٹھا دیتے ہیں۔ وہ اپنی بیگم کے برعکس بہت مستعد آدمی ہیں۔ گیارہ بجے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ ان کا ایک بھائی تو ان سے بھی بڑھ گیا ہے۔ یعنی اور سویرے جاگ جاتا ہے۔ ترکیب یہ کی ہے کہ رات ہی کو صبح دس بجے کاالارم لگا لیتا ہے۔ ادھر دس بجے ادھر اس نے آنکھ کھولی۔ بستر میں چند پلٹے کھائے۔ دو ایک بار آنکھیں بند کیں۔ ذرا سا اونگھا۔ بہرحال ساڑھے دس بجے تک ضرور وہ اپنا جھبر جھالا پہن اخبار سمیٹ غسل خانے میں چلا جاتا ہے۔

ان بی بی نے دلائل و براہین سے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں جتنے کام کیے کاہلوں نے کیے۔ یہ بھاگ دوڑ کرنے والے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ہم مشرقیوں کے ہاتھ میں آ کر تو خیر ہر اچھی چیز خراب ہوجاتی ہے حتٰی کہ کاہلی بھی۔ لوگوں نے افینیوں کے لطیفے گھڑ لیے ہیں کہ ایک شخص بیچ رستے میں پاؤں پھیلائے پڑا تھا۔ ایک گاڑی بان اس راستے آیا تو اس نے آواز دی ۔ "اے پوستی اٹھ ورنہ ابھی تیری ۔۔۔۔ٹانگیں کچلی جائیں گی۔” اس نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا وہاں اسے جوتا نظر نہ آیا جو گھر سے پہن کر چلا تھا کیونکہ سوتے میں کسی نے اتار لیا تھا۔ مطمئن ہوکر اس نے گاڑی بان سے کہا "گزار دے گاڑی! یہ میری ٹانگیں نہیں ہیں۔”

ملاحظہ فرمائیے! کتنا فضول لطیفہ ہے۔ جو سنے گا کاہلوں کے متعلق ہرگز اچھی رائے قائم نہ کرے گا۔ اس کے مقابلے مین اہلِ مغرب نے اس سے جو شاندار فائدے اٹھائے ہیں ان کا ذکر سنیے۔ ان بی بی ہی نے مثال دی ہے کہ اگر نیوٹن کاہل نہ ہوتا بینچ پر اپنے آپ میں مگن بیٹھا نہ رہتا تو آج کششِ ثقل کا راز کیسے معلوم ہوتا؟ ہوا یوں کے درخت سے سیب گرا۔ کوئی اور ہوتا تو جیب میں ڈال کر لمبا ہوتا۔ کھانے کے بعد کھاتا اور ڈاکٹر کو بھگاتا۔ یہ اپنی جگہ سے مارے کاہلی کے اٹھے ہی نہیں۔ بس سوچتے رہے کہ یہ سیب کیوں گرا۔ سوچتے سوچتے کشش ثقل دریافت کر لی۔ یہی جیمز واٹ نے کیا۔ کیتلی کے پاس بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ بھاپ سے ڈھکن جو ہلنے لگا تو بجائے اس کے کہ کوئی بوجھ اس پر رکھ کر اچھی طرح دبا دیتا کیونکہ ایسا واقعہ کیتلی کا سرپوش ہلنے کا دنیا میں پہلی بار نہ ہوا تھا تو آج ہم یونہی چنگے بیٹھے ہوتے۔ یہ ریل ویل یہ انجن ونجن کچھ بھی نہ ہوتے۔ عورتیں آٹا تک ہاتھ کی چکی سے پیستیں۔ ان کو کاہلی یا دیگر موضوعات پر لکھنے کی فرصت ہی نہ ملتی۔

باوجود ان مضبوط دلائل اور شواہد لے جو ان بی بی نے اپنے مضمون میں دیے ہیں، ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ موجد بننے کے لیے شاید کاہلی کے علاوہ کچھ اور صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہو۔ بی بی جی نے خود لکھا ہے کہ میں باوجود سست الوجود ہونے اور کئی کئی گھنٹے بستر میں لیٹنے کے کوئی اچھوتا خیال نہیں پیش کرسکی۔ ہم سوچتے ہیں کہ نیوٹن کے بجائے ہم باغ میں بیٹھے ہوتے اور سیب ہمارے سامنے گرتا تو کیا کرتے’ بس اٹھا کر کھا لیتے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ کشش ثقل کا کھڑاگ ہماری سمجھ میں اب بھی نہ آیا۔ سیب پک گیا تھا۔ ڈنڈی کمزور ہوگئی تھی ذرا سی ہوا چلی اور وہ ٹوٹ کہ آن گرا۔ نیوٹن کو تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ سیب تو کشش ثقل کے دریافت ہونے سے پہلے بھی گرا کرتے تھے۔ اچھا ایک اور بات سنیے۔ دنیا میں اور بہت سے کاہل ہیں۔ ہمارے جیسے اور بی بی جیسے ان کے آس پاس چیزیں گرتی رہتی ہیں اگر سب کے سب کشش ثقل دریافت کرنے بیٹھ جائیں تو دنیا کا اور کوئی کام نہ کر سکیں۔ اب یہی دیکھیے اس مضمون کے لکھنے کے دوران ہی چھت سے پلاسٹر کا ایک ٹکڑا عین ہمارے سامنے گرا۔ ہم نے کوشش کی کہ اس میں کشش ثقل دریافت کریں۔ نوکر کو بلا کر وجہ پوچھی۔ اس نے بھی یہی کہا کہ جی پلستر پرانا ہورہا ہے۔ اس لیے گر جاتا ہے۔ کشش ثقل کی طرف اس کا بھی دھیان نہ گیا۔ اب لیجیے بھاپ کی بات ہم صبح ناشتا چولہے کے پاس ہی بیٹھ کر کرتے ہیں۔ آج ہم نے بہت کوشش کی کہ کیتلی کی بھاپ کو دیکھ کر ریل کا نہ سہی کوئی اور چھوٹا موٹا انجن ہی ایجاد کرلیں۔ اگر سبھی کاہل موجد ہوجاتے تو کیا کہنے۔ جسے دیکھو بستر میں لیٹا ریل کا انجن ایجاد کررہا ہے۔

یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم حاشا وکلا کاہلی کی خوبیوں سے منکر ہیں۔ جو بُرا بھلا ہم کر لیتے ہیں کاہلی کی بدولت ہی ہے۔ کاہل نہ ہوتے تو کوئی سڑک بنا رہے ہوتے۔ مشین چلا رہے ہوتے۔ یہ جو ہم نے شاعری میں نازک نازک مضمون باندھے ہیں اور غیب سے مضامین کو خیال میں لاتے ہیں کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر کاہل نہ ہوتے تو شاید زندہ بھی نہ ہوتے۔ ہمارے لواحقین اب تک بیمے کی رقم خردبرد کر چکے ہوتے۔ ہمارے پڑوس میں حکیم عمر دراز رہتے تھے۔ نہایت چاق وچوبند، ہر روز صبح چار بجے اُٹھ کر ورزش کرتے تھے۔ پھر ٹھنڈی ہوا کھانے کو سیر کو نکل جاتے تھے۔ ہمیں بہت ترغیب دی۔ ہم کبھی ان کی باتوں میں نہ آئے بلکہ لحاف کو سر کی طرف اور کھینچ لیا۔ نتیجہ ان کے لالچ کرنے کا یہ ہوا کہ ایک روز سڑک پر مع اپنی چھڑی کے اور صحت کے ایک ٹرک کے نیچے آگئے۔ یہ بات تو ہر کوئی مانے گا کہ ٹرک سڑکوں پر چلنے والوں پر زیادہ چڑھتے ہیں، بہ نسبت چار پائی پر لیٹنے والوں کے۔

کاہلی کی قدر کاہل ہی کر سکتا ہے۔ بجز ارادہ پرستی خدا کو کیا جانے۔ وہ بدنصیب جسے یختِ نارسا نہ ملا۔ اقبالؔ کاہل تھے، چارپائی پر دُھسا اوڑھے لیٹے رہتے تھے کیسی کمال کی شاعری کر گئے۔ وہ ایک مرد تن آسان تھا۔ تن آسانوں کے کام آیا۔ غالبؔ بھی تصورِ جاناں کیے پڑے رہتے تھے۔ آج ان کی عظمت کو یومِ غالب منانے والے تک تسلیم کرتے ہیں۔ جو بڑے چلتے پُرزے اور چاق وچوبند آدمی ہیں۔ بد اچھا بدنام بُرا کے ذیل میں ایک اور مثال لیجیے۔ ہمارے معاشرے میں ان پڑھ کو بُرا سمجھا جاتا ہے اور تعلیم یافتہ لوگوں کے پراپیگنڈے میں آکر لوگ تعلیم کو اچھا جانتے ہیں۔ اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ کل ایسے ہی ایک صاحب کو ہم نے ایک سوال کر کے خاموش کردیا۔ وہ یہ کہ اکبر بڑا تھا کہ بہادر شاہ ظفر؟

اکبر بالکل ان پڑھ تھا۔ نہ ظفر کی طرح دل گداز غزلیں کہہ سکتا تھا نہ استاد ذوق کا صحبت یافتہ تھا نہ طغزہ نویسی میں خوش خطی دکھا سکتا تھا۔ بایں ہمہ کوہ ہمالہ تار اس کماری حکومت کر گیا۔ اس نے مرتے وقت اتنی بڑی سلطنت مغلیہ چھوڑی اور عالم فاضل بہادر شاہ ظفر نے "نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں۔”

ابنِ انشا
آپ سے کیا پردہ​

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment