بلاگ معلومات

آپ اپنے بچے کو کیسا دیکھتے ہیں

’’اپنے بچے کو اپنی معلومات، اپنے تجربات و مشاہدات تک محدود نہ کیجیے؛آپ کا بچہ اگلے دَور کی پیداوار ہے!‘‘(رابندر ناتھ ٹیگور)اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کیلئے کچھ قانون اور ضابطے بنائے ہیں۔ یہ قوانین ہر ایک پر یکساں لاگوہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اصول نہیں بدلیں گے، ہمیں خود کو ان کائناتی قوانین کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ان کائناتی قوانین میں سے ایک ’’توقع کا قانون‘‘ (Law of Expectation) ہے۔آپ قائد اعظم محمد علی جناح سے تو واقف ہیں۔ ان کی عظیم زندگی کی عظمت کی کہانی ان کی والدئہ محترمہ کی توقعات کے مرہونِ منت ہے۔ والدہ کی امیدوں اور نیک تمنائوں نے بہ ظاہر کند ذہن، گولیاں اور کرکٹ کھیلے والے ایک نوعمر بچے کے دماغ میں یہ بات بٹھادی تھی کہ اسے کارزارِ ہستی میں کار ہائے نمایاں انجام دینے ہیں، اسے بڑا آدمی بننا ہے، اپنا اور اپنے آبا کا نام روشن کرنا ہے۔یہ خیال ذہن میں بٹھانے کے بعد محمد علی جناح کی والدہ کو یقین تھا کہ ان کا بچہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ بڑا ہوکر کچھ بڑا کرے گا۔ محمد علی جناح نے اپنی والدہ کے خواب کو تعبیر بخشی اور مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے تصور کو عملی جامہ پہنا کر کار ہائے نمایاں سر انجام دیا۔

ہم جیسی امیدیں، خود سے اور دوسروں سے رکھتے ہیں، یہ امیدیں نہ صرف ہمارے بلکہ ہمارے ساتھ رہنے والوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ آپ زندگی میں جو کچھ کشش کرتے ہیں، وہ شے اس لیے آپ کی طرف آتی ہے کہ آپ کے ذہن میں اس کے بارے میں ایک خیال یا تصور ہوتا ہے۔ بس، جو کچھ آپ دوسروں کے متعلق سوچتے ہیں، بالخصوص اپنے بچوں کے بارے میں، وہی آپ کے بچوں میں آتا ہے۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نیک گمان رکھنا عبادت ہے۔اچھی سوچ کو عبادت کا درجہ کیوں حاصل ہے؟ اس لیے کہ اچھا گمان یا اچھی سوچ، اچھی امید، آدمی کو دوسروں کے معاملے میں اچھا کردیتی ہے۔ دنیا کے تمام بڑے انسانوں کو اپنے متعلق یا دوسروں کے متعلق بہت اچھا گمان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑا کام کریں گے۔ یہ گمان مستقبل میں یقین کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ اور یقین پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلاسکتا ہے۔

آپ اپنے بچے کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں، ویسی ہی توقعات اس سے وابستہ کیجیے۔ پھر دیکھئے کہ آپ کا بچہ کتنا غیر معمولی بنتا ہے۔ ایسے ہی جب کوئی رشتے دار وغیرہ آئیں تو ان کے سامنے بچے کی خامیاں بیان کرنے کی بجائے اس کی خوبیاں بیان کریں تاکہ بچے کا مثبت اور تعمیری امیج ان لوگوں پر پڑے۔ آپ بچے کو جس انداز سے دوسروں کے سامنے پیش کریں گے، وہ اپنے لاشعور میں اپنا ویسا ہی امیج بٹھا لے گا۔ اور یہ بات طے ہے کہ آدمی جس شے کو بار بار سوچتا ہے، اسی کو زندگی میں حقیقت میں پاتا ہے۔

اکثر مائیں مجھے آکر کہتی ہیں کہ ہم توبچے کیلئے خواب دیکھتے ہیں کہ وہ ناکام نہ ہو، وہ بدتمیز نہ بن جائے، وہ شرارتیں نہ کرے… میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ اس طرح تو آپ نے بچے کے ناکام ہونے، بدتمیز اور شرارتی ہونے کا خیال اپنے ذہن میں بٹھالیا ہے۔ آپ کا ذہن تو وہی کرے گا جو اُس کے لاشعور میں ہے۔ لہٰذا، آپ وہ نہ سوچئے جو آپ نہیں چاہتیں، وہ سوچئے جو آپ چاہتی ہیں۔’’منفی حالات اور منفی خیالات آپ کی زندگی میں منفی اثرات لے کر آتے ہیں۔ اسی وقت فیصلہ کیجیے کہ آپ صرف مثبت خیالات ہی کو ذہن میں جگہ دیں گے۔‘‘ (مائیکل برنارڈ بیک ود)عموماً والدین اپنے بچوں کے ساتھ جو معاملات کرتے ہیں، وہ بچے پر بہ راہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے تئیں ان کاموں سے خود کو بچائیں:

بچوں سے پہلو تہی نہ برتیں : بچوں پر اُن کے والدین جتنی زیادہ توجہ دیتے ہیں، بچوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ اتنا زیادہ پروان چڑھتا ہے۔ بہت سے والدین یہ بات سمجھتے ہیں، مگر اپنے بچوں پرجس معیار کی توجہ درکار ہے، وہ نہیں دیتے۔ وہ صرف ظاہری طور پر یہ دکھاتے ہیں کہ ان کی توجہ بچوں پر ہے اور وہ بچوں کی بات سن رہے ہیں لیکن حقیقتاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ بچوں کو واقعی توجہ دینے سے بچوں میں بہتری پیدا ہوتی ہے، ظاہری لیپا پوتی سے دھوکا ہی جنم لیتا ہے۔

بچوں کو مقابلے پر نہ لگائیے : بچے کو اندر سے بڑا اور کامیاب انسان بنانے کیلئے اسے دوسروں سے مقابلے کا کہیے اور نہ اس کا موازنہ کسی دوسرے بچے سے کیجیے۔ اسے یہ باور کرائیے کہ وہ اگر کچھ کرنا چاہتا ہے تو بس، اپنا بن جائے۔ وہ اپنے آپ سے مقابلہ کرے۔ جن والدین کے بچے دوسرے کی بجائے اپنے آپ سے آگے نکلنے کی جدوجہد کرتے ہیں، وہی آگے نکلتے ہیں۔

بچوں کو اظہارِ رائے کا موقع دیجیے : بچے فطرتاً بولنا اور اپنی بات کہنا چاہتے ہیں۔ لیکن، اکثر والدین انھیں یہ کہہ کر ٹوک دیتےہیں کہ تمہارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تم دو افراد کےدرمیان بولو۔ پھر، ہمارے ہاں یہ بھی رواج ہے کہ بڑوں کے درمیان بچے نہیں بول سکتے۔ حالانکہ اگر ادب سے بات کی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن، ہم نے کلی طور پر اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یوں، بچے کی شخصیت دبتی ہے اور اس کی نمو میں خلل واقع ہوتا ہے۔

بچوں پر اپنی شخصیت مسلط نہ کیجیے : بعض والدین بچوں پر اپنی شخصیت مسلط کرنے کی کوشش کرتےہیں جس کی وجہ سے بچے کی شخصیت ابھر نہیں پاتی۔ ایسے والدین اپنے بچوں کو ہر وقت یا اکثر تنقید و تنقیص کا نشانہ بناتےہیں۔ بچے سے اپنی رائے اور تجربات اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ گویا، وہی درست ہیں، اور کوئی نہیں۔ ایسے میں بچہ اپنے اندر کی فطری صلاحیتوں کو کھوجنے اور ان سے کام لینے کے قابل نہیں رہ پاتا۔