بلاگ معلومات

عالمی وبائیں۔۔

ہم ایک ایسی دنیا کے باسی ہیں جس میں الگ تھلگ کوئی بھی نہیں۔ روزانہ کی بین الاقوامی پروازوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان کے ذریعے لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ان ننھے منے جانداروں کو بھی لے جاتے ہیں جو ان کے جسم میں بستے ہیں۔ دنیا کے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر جو کبھی مہینوں میں ہوا کرتا تھا، اب گھنٹوں کا ہے۔ گلوبلائزیشن کا دور صرف انسانوں کا نہیں، جراثیم کا بھی ہے۔ اور ایک بار بیماری پھیلانے والا وائرس اپنی سواری پر دوسری جگہ تک پہنچ جائے تو اس کو پھیلانا صرف ایک چھینک کا کام ہے۔

قدیم طرزِ زندگی میں انسان خانہ بدوشی کے زندگی گزارتے رہے۔ آبادیاں اتنی بڑی نہیں ہوا کرتی تھیں کہ جراثیم زیادہ دیر تک اپنی آبادی پھیلاتے رہیں۔ دس ہزار سال پہلے آنے والے زرعی انقلاب کے بعد بستیاں بسنا شروع ہوئیں۔ لوگوں نے ایک جگہ مستقل طور پر رہنا شروع کیا۔ جانور پانے شروع کئے۔ بیکٹیریا اور وائرس کا پھیلنا آسان ہو گیا۔ مویشیوں اور انسانوں کے درمیان ان کا تبادلہ ہونے لگا۔ وبائیں کئی وجہ سے اور کئی شکل و صورت میں آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، 2010 میں ہیٹی میں تباہ کن زلزلہ آیا۔ اس سے ہزارہا لوگ بے گھر ہو گئے اور عارضی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رہنا پڑا۔ چند ہفتوں میں یہ کیمپ ہیضے کے لئے زرخیز میدان بن گئے۔ یہ گندے پانی میں بیکٹیریا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جلد ہی ہیضے کی وبا یہاں سے پورے ملک تک پھیل گئی۔

لیکن وبائی امراض کی سب سے بڑی وجہ وائرس رہے ہیں۔ خسرہ، فلو، ایچ آئی وی جیسے وائرس۔ جب ان کا پھیلاوٗ مقامی سطح سے نکل کر دنیا کے وسیع علاقے تک تک چلا جاتا ہے تو اس کو pandemic کہا جاتا ہے۔ ایسی وبائیں انسان تاریخ میں آتی رہی ہیں۔ ان میں سے کئی نے اپنے شکار ہو جانے والوں کی ہڈیوں اور ٹشو میں نشان چھوڑے ہیں جن کو ہم جان لیتے ہیں۔ کئی کے شواہد پرانے ڈی این اے میں محفوظ ہیں۔ مثلاً، سائنسدانوں نے تپدق کے بیکٹیریا کا پتہ قدیم مصری ممی سے لگا لیا۔ اور 2011 میں لندن میں طاعون کے شکار ہونے والوں کے ایک گڑھے سے ملنے والی باقیات سے اس کے جراثیم یرسینا پسٹس کا پورا جینوم بنا لیا گیا۔ وہ بیکٹیریا جو یورپ کی سیاہ موت کا ذمہ دار تھا۔ اندازہ ہے کہ چودہویں صدی میں طاعون کی ابتدا چین سے 1340 کے قریب ہوئی تھی۔ شاہراہِ ریشم کے ساتھ یہ چین سے مغربی میں پہنچا۔ اس تجارتی قافلے کے ساتھ جو منگولیا سے کریمیا جا رہا تھا۔ 1347 میں یہ بحیرہ روم تک پہنچ چکا تھا اور 1400 تک یہ ساڑھے تین کروڑ لوگوں کی جانیں لے چکا تھا۔ مورخین نے اس کو بعد میں عظیم موت یا سیاہ موت کا نام دیا۔

جو مرض سب سے زیادہ اموات کا باعث بنا، وہ انفلوئنزا تھا۔ فلو دنیا بھر میں مسلسل شمالی اور جنوبی کرے میں چکر لگا رہا ہے۔ دسمبر، جنوری، فروری میں اس کا عروج شمالی جبکہ جون، جولائی اور اگست میں اس کا عروج جنوبی کرے میں ہوتا ہے۔ ایک سال یہ زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اگر اس سال بچے اور بڑے اس کے خلاف کچھ مدافعت حاصل کر لیتے ہیں تو دوسرے سال اس کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ پھر اس میں کچھ تبدیلی ہو جانے سے اس سے اگلے سال اس کا زور زیادہ رہتا ہے۔ ہر بیس سے چالیس سال کے بعد کسی ڈرامائی میوٹیشن کی وجہ سے یہ خطرناک ہو کر آتا ہے۔ خاص طور پر یہ پالتو جانوروں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مثلاً، جب بطخ یا مرغی کا وائرس کسی مویشی کے وائرس کے ساتھ ملاقات کر کے جینز کا تبادلہ کریں۔ اس کو اینٹی جینک شفٹ کہا جاتا ہے۔ اور یہ عمل انسانی تاریخ میں بہت بار ہوتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: زمین کا انجام..!

پہلی عالمی وبا جو ریکارڈ پر ہے، وہ 1580 میں ہوئی تھی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ایسے چھ لہریں آئیں لیکن اموات کی تعداد میں کوئی بھی 1918 میں فلو کی وبا سب سے زیادہ مہلک رہی۔ برِصغیر میں ایک کروڑ لوگوں کی موت کا جبکہ دنیا بھر میں پانچ کروڑ اموات کا سبب بننے والی اس وبا کی تفصیل نیچے دئے گئے لنک سے۔ یہ وبا اپریل 1919 تک دنیا میں تباہی مچاتی رہی۔ اور یہ پانچ کروڑ اموات اس وقت ہوئیں جب وائرس جہازوں کا سفر نہیں کیا کرتے تھے۔ اب وائرس کے لئے یہ سفر پہلے سے بہت آسان ہے۔ ان کے لئے تیزرفتار ٹرینیں اور جہاز سب کچھ موجود ہیں۔

فروری 2003 میں ہانگ کانگ کے میٹروپول ہوٹل میں ایک چینی ڈاکٹر پہنچے۔ ان کی طبیت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ انہیں معلوم نہیں تھا لیکن ان کے جسم میں جانوروں سے آنے والا ایک نیا وائرس SARS کرونا وائرس موجود تھا۔ کمرہ نمبر 913 میں چیک اِن کرنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اس ہوٹل میں موجود سولہ مزید مہمان اب اس وائرس کے میزبان بن چکے تھے۔ اگلے کچھ دنوں میں ان میں سے پانچ نے دوسرے ممالک میں سفر کرنا تھا۔ سنگاپور، ویت نام اور کینیڈا تک یہ وائرس ان کے ذریعے پہنچ گیا۔ جلد ہی فلائٹس روک دی گئیں۔ کئی ایمرجنسی اقدامات لئے گئے۔ بڑی تباہی سے بچت ہو گئی۔ اگلے چار ماہ کے بعد جب اس وائرس کا زور ٹوٹ گیا تو یہ وائرس 29 ممالک میں لوگوں کو متاثر کر چکا تھا۔ ایک ہزار سے زیادہ اموات کا باعث بن چکا تھا۔

اس وائرس پر قابو بہت جلد پا لیا گیا۔ عالمی وباوٗں کے لحاظ سے اس کا اثر بہت محدود رہا۔ لیکن اس بار ایک اور پہلو نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ جہاں انفارمیشن کی ٹیکنالوجی ہمیں آگاہی کا تحفہ دیتی ہے اور اس نے اس وبا کو روکنے میں بھی مدد کی۔ وہیں پر یہ خوف و ہراس کی مصیبت کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس پر بریکنگ نیوز اور بجائے جانے والے الارموں کا کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کیبل پر چلنے والی خبروں اور انٹرنیٹ پر بلاگر ہسٹیریا کی جلتی میں تیل کی بالٹیاں انڈیلتے رہے۔ بے بنیاد خیالات، کانسپریسی تھیوریز کا پرچار ہوتا رہا۔ ہانگ کانگ اور دوسرے متاثرہ شہروں میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہو گیا۔ ہانگ کانگ کی کاروباری سرگرمیوں میں دس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ (ماسک بنانے والا شاید واحد بزنس تھا جس کو نقصان نہ ہوا ہو)۔

سارس کرونا وائرس اس چیز کی یاد دہانی تھا کہ pandemic اور panic اکٹھا ہی آتے ہیں۔ عالمی وبا چھوٹی سی جگہ سے شروع ہو کر ڈرامائی نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتی ہیں جو کسی قدرت آفت یا کسی جنگ کے برابر ہو سکتا ہے۔ مہلک عالمی وبا کا امکان خطرہ اصل ہے اور بڑا خوف بھی۔ چودہویں صدی کی سیاہ موت اور آج کی دنیا میں ایک فرق سائنس کا ہے۔ سائنس ہمیں اس کی بہت جلد نشاندہی کا اور روک تھام کا موقع دیتی ہے۔ ساتھ ساتھ رائی کے پہاڑ بنانے، نت نئے انوکھے نظریات گھڑ کر پھیلانے اور پریشانی کو ہوا دینے کے آلات بھی۔