اسلام بلاگ

آلِ سعود – احوال وآثار (حصہ سوم)

تجزیہ یہ ہے کہ جلہ وہ دن آئیں گے جب آل سعود کے مابین رنجشوں کی خلیجیں خونی ہو جائیں گی ۔ فساد ایسا بپا ہو گا کہ آہنی شاہی شکنجہ نرم پڑے گا ۔ پھر سعودی عرب میں شہریوں کی جانب سے لوٹ مار کا بازار گرم ہو جائے گا ۔ آگ بھڑکے گی اور شعلے آسمان سے باتیں کریں گے ۔ خادمینِ حرمینِ شریفین کا رسمی سا حفاظتی حصار ٹوٹ جائے گابلکہ اندر سے ہی توڑ دیا جائے گا ۔ امریکی، یہودی اور دیگر اسلام دشمن طاقتیں اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر گھستی چلی آئیں گی ۔ سعودی عرب جس طرح غیر حقیقی سے انداز میں معرض وجود میں آیا تھا اُسی طرح زیرِ نگیں ہو جائے گا ۔ یعنی مسلمانوں کی آخری امید بھی داءو پر لگے گی ۔ او آئی سی کی نمائش کا بھی شٹر ڈاءون ہو جائے گا ۔ یہ جو چالیس ملکوں کی زیر و جمع زیر و قسم کی فوج ظفر موج ہے سب تتربتر ہو جائے گی ۔ آخر یہ جن کے ایما پربنی ہے یہ اُن کے خلاف توصف آراء نہیں ہو گی ۔ ایسے میں غدر اور رُستا خیزی کے وہ مناظر سامنے آئیں گے کہ دل دہلیں گے ۔

امان بھی اماں ڈھونڈے گی ۔ تاج و تخت والے اپنے بوئے ہوئے کو یوں کاٹیں گے کہ سروں کی پکی فصلیں بھی کٹ گریں گی ۔ اس طرح مسلمانوں اور خصوصاً ان کے بادشاہوں کو اسلام سے رو گردانی کی دنیا میں آخری بڑی اور طویل سزا کا آغاز ہو گا ۔ کوئی تدبیر کام نہ آئے گی ۔ خود اپنی ہی بداعمالیوں کے ہاتھوں سے لکھی تقدیر کے سامنے سب کچھ ڈھیر ہو جائے گا ۔ اس سے آگے کی منزلوں پر حج بھی موقوف ہو گا ۔ یہود و ہنود کی چہرہ دستیاں اس حد تک بڑھیں گی کہ تائید ایز دی کے باعث مکہ اور مدینہ تو بچ رہیں گے باقی سب فنا کے گھاٹ پر انجام کو پہنچے گا ۔ یہودی اپنی تاریخی آبائی بستیوں میں پھر سے آباد ہوں گے جو کہ مدینہ منورہ کے قرب میں واقع ہیں ۔ مسلمان اپنے ہی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں یوں بہ مشکل جا پائیں گے کہ جس طرح مقبوضہ بیت المقدس اور مسجدِ اقصٰی میں جاتے ہیں ۔ وائے بد نصیبی یہ سب ہو گا کہ ہمارے غلام پیشہ بادشاہوں نے اپنے لئے خود یہی انجام چنا ہے ۔ لاریب کہ خدا ایمان والوں کی مدد کے لئے ہی ابابیلوں کا لشکر بھیجتا ہے بے ایمانوں کے لئے نہیں ۔ بے شک اُس کی قدرتِ کاملہ پر کُلی تقویٰ رکھنے والوں کو ہی وہ فتح و نصرت کی نوید دیتا ہے ۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس میں شرکت اور خطاب کرنے کیلئے امریکہ گئے تو مختلف فورمز پر گفتگو کرتے ہوئے وہ بھی یوں کہنے پر مجبور ہوئے کہ مسلمانوں کی حالتِ زار کی ذمہ دار عالمِ اسلام کی اعلیٰ قیادتیں بھی ہیں ۔ عمران خان مسلمانوں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے کیلئے اپنے تاریخی دورے پر امریکہ جاتے ہوئے سعودی عرب میں بھی رکے اور مقدور بھر کاوشیں کی کہ شاید مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک اثر کر جائے مگر افسوس اطلاعات یہ ہیں کہ اسی آلِ سعود کی موجودہ بادشاہت نے عمران خان کو مجبور کیا کہ وہ اپنے خطاب میں آر ایس ایس کو ہدف تنقید نہ بنائیں ۔ علاوہ ازیں مودی کو ہٹلر اور اُس کے نازی ازم سے تشبیہ نہ دیں ۔ خدا کی پناہ ۔ عمران خان اپنے تئیں عالمِ اسلام کا مقدمہ لڑنے کیلئے پُر عزم اور بادشاہ سلامت مودی کے طرفدار ۔ ماضی میں جب جمال عبدالناصر اسرائیل کے خلاف تاریخی محاذ آرائی میں مصروف تھے تو انہیں بھی آلِ سعود کی طرف سے کسی بھی قسم کی استعانت قطعاً میسر نہ تھی ۔ اس موقع پر امریکی صدر جانسن نے کہا کہ جو حالت اسرائیل کے ہاتھوں مصر کی ہو رہی ہے اگر یہی کچھ مصر اسرائیل کے ساتھ کر رہا ہوتا تو ایسے میں امریکہ فوری طور پر اسرائیل کی مدد کو پہنچتا ۔ ہوش و خرد سوال کناں ہیں ۔ یہ کیسے لوگ ہیں کیا انہیں ماضی کے جبر و استبداد سے بھرپور بادشاہوں کے انجام سے خوف نہیں آتا خوفِ خدا کے تو یہ قطعی حامل دکھائی نہیں دیتے ۔

کیا انہیں فرعون، قارون، ہامان اور یزید کے انجام کی خبر نہیں بے پناہ دولت اور اختیار کے ارتکاز کے باوجود یہ غلام کیوں ہیں مبارک شاہ نے برسوں پہلے سوال اٹھایا تھا کہ یہ کثرتوں کی کثرتوں میں مبتلا زمین خور لوگ ہلاک کیوں نہیں ہوئے امروز کی تنبیہہ یہ ہے کہ اگر یہی روش رہی اور یہی اطوار رہے تو یقینا عنقریب یہ خود کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں ۔ موجودہ مسند نشین اور جنابِ ولی عہد کے اردگرد بھی ان گنت ہوسِ اقتدار میں مبتلا لوگ موجود ہیں ۔ سب گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔ سب کی نظر نشانے پہ لگی ہے ۔ دشمن اُن سب کو لالچ دے کر، سازش رچا کر اپنے ساتھ ملائے گا ۔ ان کو آپس میں لڑائے گا ۔ کمزور کرے گا ۔ کرنل لارنس کی سازشوں اور عبدالوہاب نجدی کے متشدد فتاویٰ کے نتیجے میں اقتدار حاصل کرنے والے آلِ سعود خود اپنی ہی کھودی ہوئی خندقوں کی نذر ہوں گے ۔ دولت نے آنکھوں سے بصیرت کی روشنی چھینی اور مزید کی ہوس ان کے ذہنوں کو مات دے رہی ہے ۔ جب یہ ریزہ ریزہ بکھریں گے تو سعودی عرب میں عوام الناس بھی لوٹ مار میں شریک ہوں گے ۔ صدی ہونے کو آئی سماجی بندشوں اور آہنی شاہی شکنجوں میں جکڑے عوام کو ایک حد تک غیر انسانی زندگی جیتے ۔ مگر افسوس کہ اب انسانی خون بھی بہے گا ۔ اس سے بڑھ کر افسوس یہ کہ رائیگاں بہے گا ۔ آلِ سعود کی بے حمیتی اور کم مائیگی کے باعث یقینا یہ دن جلد آنے والے ہیں ۔ دشمن تیار ہے اور سب کچھ نقش بر دیوار ہے ۔ ہے کوئی جو آج غیرت و حمیت اور عقلِ سلیم کا دامن تھامے