اسلام بلاگ

آلِ سعود – احوال وآثار (حصہ دوم)

آج عالمِ اسلام جن کڑی آزمائشوں کے دور سے گذر رہا ہے بلاشبہ اس کی وجوہات میں خود اپنے ہی بادشاہوں اور سربراہوں کی بے حمیتی کا کردار ہے۔ عالمِ اسلام کو باہر سے کم اور خود اپنے اندر سے دیمک نے چاٹا ہے۔ مضبوط قصرِ اسلامی کا در باہر سے کھولنے کی جرأت کم کسی میں تھی۔ یہ کام اندر بیٹھے ہوئے عاقبت نا اندیشوں نے کیا ہے۔ آلِ رسولؐ کے خلاف بنو امیہ نے کیا کیا ظلم و ستم نہیں ڈھائے۔ تاج و تخت کی ہوس میں ایسی ایسی ذلتیں اور رسوائیاں کمائیں کہ الامان۔ اوپر تلے چودہ بادشاہتیں محض سو سال سے بھی کم عرصہ میں رزقِ خاک ہو گئیں۔ بظاہر بنو عباس نے امیہ اور مروان کی نسلوں کو تاخت و تاراج کیا۔ دنیاوی اسباب اپنی جگہ مگر اس میں مضمر خدائی قہر کا اظہار بھی جابجا ہے۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے بعد جب جب جہاں جہاں مسلمان بادشاہوں نے تاج و تخت کی ہوس میں ظلم و ستم ڈھائے وہاں وہاں اسلام کا دامن خون آلود اور مسلمان رسوا ہوئے۔ مخالف قوتیں جب اندر در آئیں تو انہیں مضبوط شکنجے کسنے میں مددگار بھی خود ہمارے اپنے ہی بنے۔ اب مسلمان مضمحل اور کھوکھلے ہو چکے۔ ذرا سی تیز ہوا حوادث کی، انہیں تنکوں کیطرح اڑائے لے جاتی ہے۔

صاحب! بطور صحافی حق آشنا ہونا راقم کا فریضہ ہے۔ تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کے طور پر تاریخ میں مضمر کٹھن مقامات، منفی مراحل اور اپنے شاہوں کے اعمال بد پر نگاہ رکھنا بھی لازم۔ ذاتی مخاصمت تو کسی سے نہیں۔ قلم کا کچھ خروش گر ہے تو اس کا باعث دردِ دل ہے، کرب ہے۔ اذیت ہے۔ ہم کس گردوں کا حصہ تھے۔ ٹوٹ کر بکھرے۔ ریزہ ریزہ ہو گئے۔ محسنِ عظیمؐ کے احسانوں کا بدلہ انتہا درجے کی بد ترین عملی احسان فراموشی سے دیا گیا ہے۔ دین اسلام کا الوہی پیغام ہم تک پہنچانے والے نے ہمیں غلامیوں سے آزاد کیا۔ اندھیروں سے نکا ل کرحق کی روشنی بخشی۔ مگر ہم اپنے قبیح اعمال کے باعث تابع مہمل ہو گئے۔ گو ہم تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی عادی نہ ہوئے مگر پھر بھی تذکرہ لازم۔ خیال رہے کہ ہمیں غلامی اور پستی میں دھکیلنے والوں کے تاج و تخت بھی زیادہ دیر بچ نہ رہیں گے۔ بات آغاز ہوئی تھی بردارِ مکرم راؤ منظر حیات کی محفل میں ہونے والے ذکر سے اب چل نکلی ہے۔ آلِ سعود کے حوالے سے بات کا سلسلہ دوبارہ جوڑتے ہیں تاکہ ماضی، حال اور آئندہ کا جائزہ لیا جا سکے۔ خصوصاً آئندگی کہ جو بے پناہ وسوسوں، اندیشوں، دھڑکوں اور چرکوں سے بھری پڑی ہے۔

کنگ عبدالعزیز نے جب آلِ رشید سے تخت چھین لیا اور مقاماتِ مقدسہ کو مسمار کر لیا تو سب سے پہلے اہم کام یہ کیا کہ اپنے بیٹے شاہ فیصل کو سپہ سالار بنا کر نجران پر قبضہ کرنے کیلئے یمن کیطرف بھیجا۔ نجران کے علاقے سے زیادہ تر تیل برآمد ہوا۔ علاوہ ازیں یہ وہی علاقہ ہے کہ جس کے مسیحیوں سے سرکارِ دو عالمؐ نے معاہدہ کیا تھا اور فرمایا تھا کہ قیامت تک میری امت اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔ صد افسوس کہ آلِ سعود نے اپنے اقتدار کے آغاز پر ہی اس عظیم الشان معاہدے کی دھجیاں بکھیر دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طالع آزما زمین خور آخرِ کار خود بھی زمیں بوس، زمیں دوز اور رزقِ خاک ہوا۔ چنانچہ کنگ عبدالعزیز کے بعد اُس کا بیٹا شاہ سعود تخت نشین ہوا۔ شاہ فیصل اس پر نالاں ہوا۔ خاندان میں تناؤ پیدا ہوا۔ شاہ فیصل خود ساختہ جلاوطنی پر قاہرہ چلا گیا اور کچھ عرصہ وہیں مقیم رہا۔ ایسے میں مرحوم کنگ عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی عبداللہ کی مہارت کام آئی۔

بندہئ صحرائی نے اپنی قدرت استعمال کرتے ہوئے آلِ سعود کے مابین ایک معاہدہ طے کروایا۔ جس کے مطابق کنگ عبدالعزیز کے تمام بیٹے اپنی اپنی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے اپنی اپنی باری پر بادشاہ بنتے چلے جائیں گے۔ چنانچہ شاہ سعود کے فوری بعد شاہ فیصل تخت نشین ہوا۔ شاہ فیصل کو چچا عبداللہ ہی مناکر واپس سعودی عرب لایا تھا۔ شاہ فیصل کے بعد شاہ خالد کا دور آیا۔ پھر شاہ فہد کے بعد جب شاہ عبداللہ کا دور آیا تو آلِ سعود کے مابین اختلافات ایک بار پھر سے طثت ازبام ہوئے۔ اختلاف یہ تھا کہ عبداللہ کی والدہ آلِ رشید سے تھی جو کہ بحر حال آلِ سعود کا مفتوحہ قبیلہ تھا۔ جیسے تیسے یہ مرحلہ سر ہو ہی گیا مگر آلِ سعود کو بعد ازاں ایک اور دریا کا سامنا رہا اور وہ یہ کہ موجودہ شاہ سلمان نے کراؤن پرنس مقرن کو برطرف کر کے خود اپنے بیٹے محمد کو ولی عہد نامزد کر دیا۔ انہی دنوں سے کچھ عرصہ قبل راقم مکہ اور مدینہ میں حاضری کا شرف حاصل کر کے اللہ رب العزت اور اُس کے محبوب رسولؐ کی بے پایاں رحمتوں سے فیض یاب ہو رہا تھا۔

جہاں سے واپسی پر منظر بھائی سے کہا کہ آلِ سعود کی بادشاہت عنقریب ختم ہونے والی ہے۔ اب چچا عبداللہ جیسا جہاندیدہ بزرگ ان میں موجود نہیں۔ ذرا سی چنگاری بھی سب کچھ بھسم کر دے گی۔ چنانچہ تجزیے کے عین مطابق مختصر عرصہ کے بعد ہی پرنس مقرن کی معزولی کا مرحلہ آ گیا۔ بادشاہت کنگ عبدالعزیز کے بیٹوں سے نکلنے کو ہمہ وقت تیار۔ دوسری جانب دشمن عیار۔ خاندان میں فہم و فراست والا کوئی بزرگ بھی موجود نہیں کہ جو معاملات سلجھا پائے۔ امریکیوں اور بیشتر مغربی طاقتوں کی خوشنودی سے بظاہر سب کچھ موجودہ بادشاہ اور ولی عہد کے قابو میں ہے لیکن اس خاندان میں پھوٹ پڑ چکی۔ کھینچا تانی بڑھ رہی ہے۔ رنجشیں گہری نفرتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ پرنس مقرن عرصہئ دراز تک سلطنت کا سکیورٹی چیف رہا۔ بہت طاقتور آدمی ہے۔ خاندان اور سلطنت میں اُس کی اپنی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ جاسوسی کا شاہی نظام جس قدر بھی کڑا ہو مگر پرنس مقرن کے دل کی جلن کب کسی پر پوری طرح کھل پائے گی؟ بادشاہت چھن جانے کا رنج اُسے کب چین لینے دے گا؟ (جاری ہے)