کالمز

آگ گھروں تک آ پہنچی ہے

یہ آج سے ٹھیک بیالیس سال پہلے کی بات ہے. میں نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تونصاب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت کے لیے مجھے ہرہفتے تین دن کے لیے ذہنی مریضوں کی آبادکاری کے مشہورادارے “فاؤنٹین ہاؤس” لاہورجانا پڑتا. ڈاکٹررشید چوہدری نے اس ادارے کوبڑی لگن اورمحنت سے بنایا تھا. یہاں مجھے ایک ایسی شخصیت سے سیکھنے اورعلم حاصل کرنے کا موقع ملا جسے میں نفسیات کی دنیا کا ایک نابغہ تصورکرتا ہوں. ڈاکٹرلئیق مرزا-بنیادی طورپرقانون کے طالب علم تھے، بارایٹ لاءکیا ہوا تھا لیکن طبیعت اس طرف مائل ہی نہ تھی، چھوڑچھاڑنفسیات میں ایم اے کیا اورپھرپی ایچ ڈی کرلی. پڑھائی والے ڈاکٹرتھے، دوائی والے نہیں تھے. پاکستان میں سب سے پہلے انہوں نے انسانی شخصیت کوناپنے، اس کے تضادات اورنفسیاتی رجحانات کا جائزہ لینے والے مشہورٹیسٹ (MMPI) کا اردومیں ترجمہ کیا اورپھراس پورے ملک میں ریسرچ کرکے اسے عالمی معیارکے مطابق بنایا یعنی “Standardize” کیا. یہی ٹیسٹ ہے جس کی کوکھ سے پولی گرافک ٹیسٹ نے جنم لیا. کیونکہ اس ٹیسٹ میں 499 مختلف سوالات پوچھے جاتے ہیں اورپھران جوابات کومختلف زاویوں سے ناپا “Score” کیا جاتا ہے. اس ٹیسٹ‌ کا پہلا پیمانہ جھوٹ “Lie Score” یعنی آدمی نے کتنا جھوٹ بولا ہے. ڈاکٹرلئیق مرزا بلا کے آدمی تھے. ادب فلسفہ، شاعری، نفسیات کیا کچھ تھا جوان کے ذہن رسا کی دسترس میں نہ ہو. ان کے ساتھ گھنٹوں پاکستانی معاشرے کے نفسیاتی خدوخال اورآنے والی خطرناک تبدیلیوں پرگفتگورہتی.

انہی دنوں بریڈفورڈ کے کثیرالقومی نفسیاتی یونٹ Trans cultural psychiatry unit کے ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم ڈاکٹرلئیق مرزا کے پاس آئی. یہ یونٹ ایسے ذہنی مریضوں کے لیے قائم کیا گیا تھا جودوسرے ملکوں خصوصاً پاکستان سے ہجرت کرکے برطانیہ آئے تھے. ان میں سے اکثریت کا تعلق میرپورسے تھا. اس یونٹ میں ذہنی مریض افراد کی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جن کے پاگل پن کی وجوہات فوری صدمہ “Traumatic” والی تھیں. مثلاً باپ نے برطانیہ میں اپنی بیٹی کومحبت سے پالا، اس کے لئے محنت کی، بیٹی جوان ہوئی اوراچانک رات کوگھر سے باہرجاتے ہوئے اس نے باپ سے کہا “I am going for a date” میں ڈیٹ‌ پرجارہی ہوں اورباپ کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا. اسی طرح‌کسی بھائی نے اپنی بہن کسی فٹ پاتھ کے ساتھ یا بس سٹاپ کے اردگرد کسی گورے سے بوس وکنارکرتے تھے، اسے تھپڑ جڑدیا، بہن نے گورے کے ساتھ مل کراس کی پٹائی کردی اورپھرپولیس کے حوالے کردیا، تھانے میں بھائی کے حواس معطل ہوگئے اوروہ ذہنی امراض کے اسپتال داخل کردیا گیا. ایسی بے شمارکہانیاں ان ذہنی مریضوں کی تھیں جوبریڈ فورڈ کے اس کثیرالقومی نفسیات یونٹ میں زیرِعلاج تھے. نفسیاتی علاج کا سب سے اہم جزو”Case History” کیس ہسٹری ہوتا ہے. جب ان مریضوں کی کیس ہسٹری لینے کے لیے خاندانوں سے انٹرویو کیا گیا تومعلوم ہوا کہ ان خاندانوں کے آدھے سے زیادہ افراد توپاکستان خصوصاً میرپورمیں آباد ہیں. ان خاندانوں کی معاشرتی اورنفسیاتی حالت کے مطالعہ کے لئے یہ ٹیم لاہورآئی اورفاؤنٹین ہاؤس کی ٹیم کے ساتھ مل کرمیرپورمیں ایسے خاندانوں سے ملی اوران کے انٹرویو کیے جن کے بیٹے، باپ، بھائی اورخاوند برطانیہ میں ملازمت کرتے تھے. ان میں سے سب سے اہم وہ خاندان تھے جن کے سرپرست یعنی خاوند اوروالد اپنے خاندانوں کویہاں رشتے داروں کی نگرانی میں چھوڑکربرطانیہ جاکرآباد ہوئے اورسال دو سالوں بعد چکر لگاتے تھے. بیویاں اوربچے اس دولت کے سہارے اوررشتے داروں اورمحلے والوں کی نگرانی میں زندگی گزارتے تھے. ٹیم نے اس دوران ان خاندانوں کی عمومی صحت کے حوالے سے ڈاکٹروں سے بھی انٹرویو کیے. وہاں موجود تین لیڈی ڈاکٹروں نے ایک ایسا انکشاف کیا کہ سب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی. یہ 1976ء تھا اورکوئی ایسی بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا. انہوں نے بتایا کہ ہمیں روزانہ بچیوں کے ایک یا دو اسقاط حمل “Abortion” کرنا پڑتے ہیں. یہ کم عمراورنہ سمجھ بچیاں ہوتی ہیں اوران کی عزت اورمستقبل کے تحفظ لیے ایسا کرنا پڑتا ہے. گوکہ یہ غیرقانونی ہے لیکن کیا کریں. ٹیم نے سوال کیا کہ وہ قریبی رشتے دارمثلاً چچا، ماموں وغیرجن کے سپرد یہ بچیاں ہوتی ہیں، وہ ان پرنظرکیوں نہیں رکھتے کہ یہ اردگرد تعلقات نہ بنائیں. لیڈی ڈاکٹروں نے مزید حیران کردیا. کہنے لگیں وہی تواس جرم اورگھناؤنے فعل کا ارتکاب کرتے ہیں. یہ رپورٹ آج بھی برطانیہ کے شہربریڈ فورڈ کی یونیورسٹی اورکثیرالقومی نفسیاتی یونٹ میں موجود ہے اوریہ جولائی 1976ء میں منعقد ہونے والی عالمی کثیرالقومی نفسیاتی کانفرنس میں پیش بھی ہوئی تھی.

یہ آج سے بیالیس سال پہلے کا خوفناک آغاز تھا. پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی مغربی تہذیب وتمدن سے یہ پہلی آشنائی تھی. جوکوئی مغرب جاتا وہ وہاں سے اپنے ساتھ تحفے کے طورپرپلے بوائے جیسے رسالے اوربرہنہ تصویروں والے تاش کے پتے لے کرآتا. یہ ابتدائی فحاشی کا مٹیریل تھا جوسب سے پہلے ان لوگوں کے ہاتھ میں آیا جن کا کوئی نہ کوئی فرد ملک سے باہرگیا ہوا تھا، یوں یہ ایک خاصے کی چیزکے طورپرلوگوں میں تقسیم ہونے لگا تھا. ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کی آمد آمد تھی.

پاکستان کا موجودہ سیکولراورلبرل طبقہ اس زمانے میں کیمونسٹ کہلاتا تھا لیکن انکا کیمونزم کا اصل روپ بھی مذہبی پابندیوں سے دوری اورجنسی آزادی تھا. اسی دور میں پاکستان کے کلچر کے علمبرداراس رکھوالے طبقے کے سنسربورڈ نے ایک فلم پاس کی جس کا نام تھا “خطرناک”. اس فلم میں پہلی دفعہ روشنیوں کا استعمال ایسے کیا گیا تھا کہ باریک ملبوس سے رقص کے دوران اداکارہ انیتا کی ٹانگیں نظرآتی تھیں. فلم نے سارے ریکارڈ توڑدیے. اس کے فوراً بعد ایک فلم “خان زادہ” سنسربورڈ نے پاس کی جس میں اداکارہ نجمہ اداکاراقبال حسن کے جسم پراپنے جسم سے ایسی حرکتیں کرتی کہ پورے ہال میں ہیجانی کیفیت طاری ہوجاتی. پھراس کے بعد ایک ایسا طوفان ان فلموں کا آیا کہ وہ لوگ جواپنے اہل خانہ کے ساتھ سینما جاتے تھے سب چھوڑگئے. کراچی سے لے کرپشاورتک لاتعداد سینما گھرتھے جوفحش فلمیں دکھاتے اورعوام کا ایک ہجوم انہیں دیکھنے جاتا. پاکستان کی سیاسی بساط پرچھایا ہوا لبرل، سیکولر اوراپنے زمانے کا کمیونسٹ کہلانے والا طبقہ خاموش تھا اوریہ خاموشی اس فحاشی کی سرپرستی سے کم نہ تھی. اس کے بعد ضیاءالحق آگیا. ان سبے کے صفوں میں ماتم بچھ گیا. کہتے پھرتے، دیکھوٹی وی میں مولوی گھس گیا ہے. اناؤنسر کودوپٹے پہنا دیئے ہیں. لیکن اسی دوران میں‌ ٹیلی ویژن کے ڈرامے نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب ایسی کھینچی کہ لوگ ان فحش فلموں کو بھول سے گئے. اشفاق احمد، بجیا، حسینہ معین، منو بھائی اورامجد اسلام امجد سے لے کرہرٹیلی ویژن سینٹرکے ڈرامہ نگاروں نے اپنا خون جلایا اورمعیاری تفریح فراہم کی. لیکن 1988ء کی بے نظیرحکومت اورسٹیج ڈراموں کی فحش جگتوں کا یکساں‌‌ آغاز، یوں‌ لگتا تھا جیسا کوئی بند ٹوٹ گیا ہو. سلسلہ ایسا چلا کہ سٹیج ڈراموں پرفحش ڈانس سے مکمل برہنہ ڈانس تک آ پہنچا. سب کچھ غرق ہوگیا. پورامعاشرہ ایک ایسا ذہنی مریض بن گیا جس کوڈراموں میں یا توفحش جملے پسند تھے یا غلیظ رقص. نصیبو لال کے ذومعنی فحش گانوں نے فلم بھی تباہ کی اورڈرامہ بھی.

فحاشی اورعریانی ایک ایسی بلا ہے کہ جوکم پرراضی نہیں ہوتی. جیسے نشہ کرنے والا، سگریٹ، شراب، چرس اورآخرمیں ہیروئن تک جا پہنچتا ہے. اسے کم نشے میں لطف نہیں آتا. یہی حال فحاشی کا ہے پہلے تھوڑا برہنہ جسم انسان کولطف دیتا ہے، پھرمکمل برہنگی، پھرجنسی فعل کی نمائش اورآخرکارجنسی لذت کے حصول میں‌ اذیت پسندی، بچوں کا استحصال، مقدس رشتوں کی پامالی کیا کچھ نہیں ہوتا. پاکستان میں ان سیڑھیوں پرتیزرفتاری سے قدم رکھنے کا آغاز روشن خیال، سیکولرلبرل پرویز مشرف کے دورمیں ہوا. اس کا پورا دورایک عفریت کی طرح اس ملک پرمسلط تھا. ہروہ مرد اورعورت اس دورمیں قابل احترام تھا جواخلاق باختگی میں اپنا ثانی نہ رکھتا ہواورجس نے اس ملک میں‌ آئندہ نسلوں کومغربی تہذیب میں رنگنے کا ٹھیکہ نہ لیا ہو. ڈراموں اورفلموں کے فحش سکرپٹ تحریر ہوئے، اسی طرح نیم برہنہ ماڈلوں کے اشتہارآئے، خاندانی نظام کوتباہ کرنے والے ڈرامے نشرکیے گئے. میراتھن ریس سے لے کرسکولوں کے بچوں میں کلچرل پروگراموں کے نام پرچھ سات سال کی بچیوں کوفحش گانوں پررقص کروایا گیا. انٹرنیٹ کا بے قابو طوفان اپنے ساتھ فحاشی لایا. بازارمیں سی ڈیز عام ہوئیں. جواس کے خلاف بولا اسے لال مسجد کی طرح ٹینکوں کے گولوں سے بھون کررکھ دیا گیا. ایک طویل داستان ہے جوبے شرمی کے دفترتحریر کومانگتی ہے. اب توجوبویا تھا کاٹنے کے دن ہیں. جنسی بھوک اس معاشرے کووہاں لے آئی ہے جہاں معصوم بچے نشانہ ہوتے ہیں، مقدس رشتے پامال ہوتے ہیں اوردرندے راج کرتے ہیں. جوبویا تھا اسے کاٹنے کے دن ہیں، روشن خیال، سیکولر لبرل پاکستان زندہ باد.

کالم : اوریا مقبول جان

لکھاری کے بارے میں

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment