ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ستر ارب کی روٹی

70 ارب روپے کے گھپلے کا شکار سستی روٹی سکیم 5 سال سے بند ہے لیکن ہر بجٹ میں سستی روٹی سکیم کے لیے بجٹ ضرور مختص کیا جاتا ہے۔ آج تک اربوں روپے تندوروں کی نذر ہوتے رہے ہیںغریب عوام کو سستی روٹی دینے کے لئے سابق حکومت پنجاب سکیم تو لائی تھی مگر غریب کو پھر بھی روٹی نہ ملی۔

پی ٹی آئی کے منی بجٹ میں بھی شہباز شریف دور میں بنائی گئی سستی روٹی اتھارٹی کے لئے 1 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، بجٹ دستاویز میں کوڈ نمبر LQ-4779 جو کہ سستی روٹی اتھارٹی کے نام سے درج کیا گیا ہے، اس میں بتایا گیا کہ کل 12 ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں 4 آفیسرز بھی موجود ہیں اور ان کی سالانہ تنخواہوں اور الائونسز کی مد میں 39 لاکھ 16 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ ڈائریکٹر جنرل کے لئے سالانہ 10 لاکھ 35 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔

اس میں 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک سپرنٹنڈنٹ کے لئے بھی 12 لاکھ روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں۔ اعزازیہ، انٹرٹینمنٹ اینڈ گفٹ کی مد میں بھی سستی روٹی اتھارٹی کو پیسے دینے کے لئے لاکھوں روپے مختص کئے گئے ہیں، اسی طرح دفتر، فرنیچر سمیت دیگر اخراجات کے لئے 1 کروڑ 43 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ یہ منصوبہ کئی برس قبل ختم ہو چکا ہے۔

پانچ سال سے بند سستی روٹی سکیم میں بوگس تنور سرکاری دستاویزات میں ظاہر ہیں اور پچھلے سال تک ان کے نام پر کروڑوں روپے کا آٹا بھی تقسیم کیا جاتا رہا یے۔

سستی روٹی سکیم میں افسروں نے خوب پیسہ لوٹا پراجیکٹ بند ہوا تو کچھ عرصے بعد ہی آڈٹ رپورٹ آئی اور تقریباً 70 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی لیکن پھر بھی بجٹ ہر سال رکھا جاتا ہے ۔ 70 ارب روپے کا کوئی بھی حساب دینے کو تیار ہی نہیں۔

2007میں روٹی کی قیمت دو روپے، 2008 میں تین روپے ہو گئی، جبکہ شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی کچھ نئی سکیمیں لانے کا فیصلہ کیا، لیکن اس وقت خادم اعلیٰ سستی روٹی سکیم کی اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود، سیکرٹری انفارمیشن اوریا مقبول جان عباسی و دیگر افسروں نے سخت مخالفت کی، شہباز شریف نے اپنا فیصلہ سنایا اور اس پر عملدرآمد کے لئے جہاں مختلف محکموں سے فنڈز نکالے گئے، سپلیمنٹری گرانٹس لی گئیں اور وہاں 30 ارب روپے کے قریب کمرشل بینکوں سے سود کیساتھ قرضہ بھی لیا اور اسکا سربراہ حنیف عباسی کو لگا دیا گیا۔ جہاں سیاستدانوں اور افسروں نے ملکر مبینہ طور پر سرکاری فنڈز کا غیر ضروری استعمال کیا، جس سے اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آ گئیں۔

شہبازشریف نے 2009 میں عوام کو سستی روٹی سکیم دی ۔بجٹ ساڑھے سات ارب روپے کا جو بڑھتا ہوا تقریباً ستر ارب روپے تک پہنچ گیا۔ دو روپے کی سستی روٹی کچھ عرصہ ملی لیکن پھر اس روٹی کا سفر رک گیا۔ اور اس دورانیہ میں سرکار کی جانب سے بوگس تنوربھی سرکاری دستاویزات میں ظاہر کئے گئے اور انہی کے نام پر کروڑوں روپے آٹا بھی تقسیم ہوا، لیکن جب یہ پراجیکٹ ختم ہوا تو تنور غائب ہوئے لیکن اربوں روپے انہی تنور کی نذر ہو گئے ۔

آٹھ سالوں میں روٹی کے نام افسران نے بھرپور طریقے سے قومی خزانے کو لوٹا۔ 30 ارب سے زائد کے فنڈز لئے گئے سپلیمنٹری گرانٹ کی مد میں پیسے جاری کئے گئے اور اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ یہ سب سے اہم پراجیکٹ ہے ، اس وقت کے ڈی سی اوز، کمشنرز، سیکرٹریز سب کو اسی کام پر لگا دیا گیا جبکہ یہ پراجیکٹ بھی کچھ عرصہ ہی چل سکا۔ الفلاح بلڈنگ تھرڈ فلور پر سستی روٹی سکیم کا دفتر تاحال موجود ہے جس کے لئے 4 افسران سمیت 12ملازمین موجود ہیں۔

ایم ڈی سمال انڈسٹریز کارپوریشن نعیم خالد سلیم ہی ڈی جی سستی روٹی سکیم ہیں اور اس دفتر میں کام کرنیوالے ملازمین کا دعوی ٰ ہے کہ مکینیکل تنور لگانے والوں سے اب تک کروڑوں کے واجبات باقی ہیں اور بینکوں کو واجب الادا 16ارب روپے کے عوض بھی کروڑوں روپے سود دیا جا رہا ہے ۔

سستی روٹی سکیم کے تحت کھولے گئے تنوروں میں 30 فیصد سرے سے ہی موجود نہیں تھے لیکن سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں نے اس بہتی گنگا میں دونوں ہاتھ دھوئے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...