بلاگ

وہ پانچ شہر جو کبھی آباد تھے مگر اب انھیں دیکھنے کے لیے زیر آب جانا پڑتا ہے

چند حالیہ رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 2050 تک انڈیا کے اہم شہر ممبئی اور کولکتہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندر کی بڑھتی سطح کے باعث پانی میں ڈوب جائیں گے۔تاہم دنیا میں اب بھی کئی ایسے شہر ہیں جہاں کبھی لوگوں کا ہجوم ہوا کرتا تھا لیکن اب وہ زیر آب آ چکے ہیں اور سیاحوں کو ان کی باقیات دیکھنے کے لیےسکوبا ڈائیونگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

بایا، اٹلی
بایا کے زیر آپ سامان کو سمندری مخلوق سے خطرہ ہے جو انھیں توڑ سکتی ہیںاٹلی کا شہر بایا اپنے خوشگوار موسم، گرم چشموں، تالابوں اور غیر معمولی نظر آنے والی عمارتوں کے لیے مشہور تھا۔ کسی زمانے میں یہ شہر روم کے لوگوں کے لیے پارٹی کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ رومی شہنشاہ جولیس سیزر اور نیرو کے یہاں پُرتعیش محلات ہوا کرتے تھے اور 138 عیسوی میں شہنشاہ ہیڈرین کی وفات بھی اسی شہر میں ہوا تھا۔بدقسمتی سے جس آتش فشاں کے باعث یہاں گرم پانی کے جشمے بنے تھے اسی کی وجہ سے یہ شہر پانی میں ڈوب گیا۔یہ شہر نیپلز کے نزدیک ایک سپر آتش فشاں کیمپی فلیگرئی کے اوپر بسایا گیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کی وجہ سے بایا کی زمین بتدریج چار سے چھ میٹر تک اندر دھنس گئی اور شہر کا بیشتر حصہ پانی میں ڈوب گیا۔سنہ 2002 میں مقامی انتظامیہ نے بایا کے زیر آب علاقوں کو محفوظ علاقے قرار دیا تھا۔اس کا مطلب ہے کہ اب صرف لائسنس یافتہ سکوبا ڈائیور یعنی غوطہ خور مقامی گائیڈز کے ساتھ زیر آب کھنڈرات کو تلاش کر سکتے ہیں۔

تھونیس ہیراکلیون، مصر
ایک مصری دیوتا ’ہاپی‘ کا ریڈ گرینائٹ کا زیر آب مجسمہ، غوطہ خوروں کو یہ مجسمہ سنہ 2001 میں ملا تھاقدیم کہانیوں میں کئی بار اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ تھونس ہیراکلیون وہ جگہ تھی جہاں یونانی ہرکولیس نے مصر میں پہلا قدم رکھا تھایہ بھی کہا جاتا ہے کہ تاریخ کے مشہور ترین تنازعات میں سے ایک ٹروجن جنگ میں شامل ہونے سے پہلے بادشاہ پیرس نے اپنی گرل فرینڈ ہیلن کے ساتھ اس شہر کا دورہ بھی کیا تھا۔شہر کا نام ‘تھونیس’ ایک مصری لفظ ہے، جب کہ اسے یونانی ہیرو ہرکولیس کے اعزاز میں ہیراکلیون بھی کہا جاتا ہے۔دریائے نیل کے مغربی کنارے پر واقع، یہ ایک خوشحال بندرگاہ ہوا کرتی تھی۔ 60 بحری جہازوں اور 700 سے زیادہ لنگروں کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیرہ روم کے اُس پار سے سامان تجارت شہر کی نہروں کے جال سے ہو کر گزرتا تھا۔اس ڈوبے ہوئے شہر سے اب تک برآمد ہونے والے سب سے دلکش نمونوں میں سب سے خوبصورت ’ڈکری آف ساس‘ ہے۔ سیاہ پتھر سے بنے اس دو میٹر اونچے تخت نما پتھر کو ’سٹیلے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ چوتھی صدی قبل مسیح کے اوائل سے ہیروگلیفس کے ساتھ کندہ ہے، جو اس وقت کے مصری ٹیکس نظام کی اہم تفصیلات کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی تصدیق کرتا ہے کہ تھونیس ہیراکلیون ایک شہر تھا۔

ڈیرونٹ، انگلینڈ
ڈیروینٹ ہال کے مرکزی دروازے کا ایک حصہ سنہ 2018 کے موسم گرما میں دیکھا گیاڈربی شائر کے گاؤں ڈیرونٹ کو لیڈی بوور ریزروائر بنانے کے لیے جان بوجھ کر ڈوبا دیا گیا تھا۔بیسویں صدی کے وسط میں ڈربی، لیسٹر، ناٹنگھم اور شیفیلڈ جیسے شہر پھیلتے رہے اور ان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو پانی کی مزید فراہمی کی ضرورت تھی۔اس سپلائی کو پورا کرنے کے لیے ایک ڈیم اور ریزروائر بنانے کی ضرورت تھی۔دراصل ہاوڈن اور ڈیروینٹ نام کے دو آبی ذخائر بنانے کا منصوبہ تھا۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہو گیا کہ صرف دو آبی ذخائر ناکافی ہوں گے اور تیسرے آبی ذخیرے کی ضرورت ہو گی۔سنہ 1935 میں اس پر کام شروع ہوا اور سنہ 1945 تک ڈیرونٹ گاؤں مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا۔شدید گرمی میں لیڈی بوور ریزروائر میں پانی کی سطح اتنی کم ہو جاتی ہے کہ ڈیرونٹ گاؤں کی باقیات نظر آنے لگتی ہیں اور لوگ یہاں موجود عمارتوں کے ملبے میں گھوم پھر سکتے ہیں۔

وِلا اپیکیوین، ارجنٹائن
ولا اپیکوئن کا ایک جھیل کنارے واقع ریزورٹ یعنی سیرگاہ تقریباً 25 سال تک پانی میں ڈوبے رہنے کے بعد سنہ 2009 میں دوبارہ منظر عام پر آیا ہے۔
سنہ 1920 میں بنائے جانے والی ’اپیکیوین‘ نامی اس سیرگاہ نے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو اس کے کھارے پانی میں نہانا چاہتے تھے۔کہا جاتا تھا کہ یہ سیرگاہ جس نمکین جھیل کے کنارے واقع تھی اس کے پانی میں کئی بیماریوں کے علاج کی خصوصیات ہیں۔اس جھیل میں خود ہی پانی آتا اور خود ہی خشک ہو جاتا تھا لیکن سنہ 1980 کے بعد کئی برسوں تک شدید بارشیں ہوئیں اور پانی کی سطح بلند ہونے لگی۔اضافی تحفظ کے لیے یہاں ایک محراب والی دیوار تعمیر کی گئی۔نومبر 1985 میں ایک طوفان میں جھیل بھر گئی اور پانی باہر بہنے لگا جس کے سبب دیوار گر گئی اور شہر 10 میٹر کھارے پانی میں ڈوب گیا۔تاہم سال 2009 سے یہاں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور ایک بار پھر وِلا اپیکیوین پانی سے اُبھرنا شروع ہو گیا ہے۔ان دنوں پورٹ رائل ایک ایسا گاؤں تھا جہاں مچھلیاں بڑی تعداد میں تھیں۔ لیکن 17ویں صدی میں یہ صرف یہاں موجود قزاقوں کی بڑی آبادی کی وجہ سے مشہور تھا۔سنہ 1662 میں یہاں 740 لوگ رہتے تھے لیکن سنہ 1692 تک یہ تعداد بڑھ کر 6500 سے 10,000 کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہاں لوگ اینٹوں یا لکڑی سے بنے مکانوں میں رہتے تھے جو اکثر چار منزلہ تک ہوتے تھے۔سات جون 1692 وہ دن تھا جب پورٹ رائل میں دوپہر کے وقت شدید زلزلہ آیا اور اس کے فوراً بعد سونامی آئی۔اندازوں کے مطابق شہر کا تقریباً دو تہائی حصہ پانی میں ڈوبا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دن تقریباً دو ہزار لوگ ہلاک اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔یہاں محفوظ کھنڈرات اور سینکڑوں ڈوبے ہوئے جہازوں کو دیکھنے کے لیے سکوبا ڈائیونگ کرنا ممکن ہے لیکن اس کے لیے مقامی حکام سے اجازت لینی ہوتی ہے۔