بلاگ معلومات

1000 نمبروں کا سوال ہے!

چند دن ہوے میٹرک کا رزلٹ اناونس ہوا ۔۔ رزلٹ اچھا رہا پاس ہونے والے بچوں کی ایوریج بھی بہترین۔۔اچھی بات ہے لیکن دو چار سالوں سے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہزار پلس نمبرز لینے والے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔۔بے شک یہ خوشی کی بات ہے ہمارے بچے اتنے اچھے مارکس لے رہے ہیں ۔۔بات یہ ہے کہ ہزار نمبر لینا آسان کام ہے کیا؟؟ بچوں کی قابلیت پر پورا یقین ہے . نقل سفارش چیٹنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔بچے واقعی محنت کر رہے ہیں ۔۔ان کی محنت کا ہی صلہ ہے ۔میری اپنی بچی ماشا اللہ بہت ذہین ہے ۔چند سال بعد میٹرک میں ہزار پلس نمبرز لے گی اس بات کا مجھے یقین ہے ۔

۔۔لیکن میرے لیے یہ پریشانی کی بات ہے ۔ آپ لوگ سوچیں گے اتنے اچھے نمبرز پر پریشانی کی کیا وجہ؟؟۔۔ کیونکہ یہ صرف نمبرز ہونگیں۔ جس تعلیمی نظام میں میری بچی پڑھ رہی ہے اس میں رٹے پر زور ہے کانسیپٹ سے کوئی غرض نہیں ۔۔بچوں کو صرف نمبرز کی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے۔۔یہ بچے فوٹو کاپی مشینیں بن گئے ہیں۔۔ان کا رٹا اتنا مضبوط رکھا گیا ہے کہ یہ آرام سے کاپی پیسٹ کرکے آجاتے ہیں۔۔ ذہین بچوں کو بجاے کانسیپٹس کلئیر کرانے کے رٹے سکھاے جاتے نتیجتاً ہزار نمبر سے بھی زیادہ آجاتے۔۔۔بچوں کا قصور نہیں ۔۔ان کو پڑھایا ہی ایسا جاتا ہے ۔۔ان کو تعلیم ہی نمبرز کے لیے دی جاتی کہ رٹا مار کر اچھے نمبرز لے لو بس۔۔قابلیت گئی تیل لینے۔۔

ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ بغیر کچھ سمجھ میں آے آپ خالی رٹے سے بھی فل مارکس لے سکتے ہیں۔۔یا سوال یاد نا کرو خالی ایم سی کیوز یا شارٹ کوئسچنز تکے سے بھی سارے حل کردو تو آپ آرام سے اچھے نمبر لے سکتے ہیں۔ ۔ہمارے سلیبس پانچ سے چھ سال سے وہی گھسے پٹے چل رہے ہیں۔۔پانچ سال پرانے حل شدہ پیپر ہی اگر دیکھ لیں آرام سے تیاری ہوجاے گی اور نمبر بھی اے گریڈ آجائیں گے۔ ۔بڑے سوال تین سے چار کرنے ہونگیں وہ بھی اگر صحیح نا بھی ہوں کوئی مسئلہ نہیں ساٹھ سے ستر فی صد نمبرز دوسرے حصے سے آجائیں گے۔۔ اس طریقے سے ذہانت بڑھ نہیں رہی الٹا ضائع ہورہی ہے۔بچوں کی یاد کرنے کی capacity متاثر ہورہی ۔۔رٹو طوطے تیار ہورہے ہیں قابلیت نہیں سکھائی جارہی ۔۔

فزکس کمپیوٹر کیمسٹری بائیو کے پریکٹیکل صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں ۔پریکٹیکل رو دھو کے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر سکولز میں لیبس ایکٹو ہی نہیں ہوتیں اس سب کے باوجود ہم کیسے مان لیں ہمارے بچے نے ہزار نمبر کانسیپٹ سے قابلیت سے لیے رٹے سے نہیں لیے؟ یہ سسٹم ہمارے بچوں کی قابلیت اور ذہانت کو غلط سمت میں لے کر جا رہا ہے۔۔کریئٹیوٹی نا ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔یہ بچے نہیں بس فوٹو سٹیٹ مشینیں ہیں ۔ہمارے ملک کا تعلیمی نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

زیادہ دور جا کر نا سدھارو . تعلیمی نظام فوج کے حوالے کردو بس ۔ فیڈرل بورڈ میں تو بچوں کی کھیپ ہزار پلس نہیں لیتے ۔ ۔وہاں اے گریڈ بھی آْجائیں تو بھی بڑی بات ہوتی ہے۔۔ان کا ہر تیسرے چوتھے سال سارا کا سارا سلیبس بدلتا ہے۔۔کانسیپٹ پر زیادہ زور دیتے ہیں بانسبت رٹے کے ۔۔چند لوگوں کی باقاعدہ یہی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ پیپرز میں سوالات ہر سال چینج ہونے چاہئیں۔۔فیڈرل بورڈ اور باقی سارے پاکستان کے بورڈز میں زمین آسمان کا فرق ہوگا۔ ۔لہذا ہماری فوج سے گزارش ہے یا تو یہاں بھی توجہ دلوائیں آپ توجہ نا دو تو کسی کو احساس نہیں ہونا ۔۔اور اگر حکومت توجہ نہیں دیتی تو خدارا اس شعبے کو گود لے لو ۔