معلومات

ارتقاء اور وقت کا کھیل

"کوئی بھی جاندار اپنے والدین سے یکسر طور پر مختلف نہیں ہو سکتا”

ارتقاء اربوں سالوں پر محیط ایک سست رفتار عمل ہے۔ اگر کوئی ایسا کہے کہ مجھے ارتقاء کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ(Direct Evidence) چاہیے تو یہ ناممکن ہے۔ انسان کی اوسط عمر 60 سے 70 سال کے درمیان ہے۔ اور یہ وقت کسی بھی جاندار میں ارتقاء کے مشاہدے کے لئے ناکافی ہے۔

ارتقاء کے ناقدین اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ارتقاء کا عمل کسی ایک جاندار میں نہیں ہوتا بلکہ ارتقاء وہ چھوٹی چھوٹی تبدلیوں(Micro changes) کے دور رس نتائج کا نام ہے جو ماں بات سے بچوں کے درمیان پیدا ہوتی ہیں۔ اور ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ صحت مند اولاد اپنے والدین سے کُلی طور پر مختلف ہو۔

ہر جاندار کی زندگی کا ایک عمومی دورانیہ(Lifespan) ہوتا ہے، مچھراور مکھیاں چند ہفتے زندہ رہتے ہیں، چوہے اور گلہریاں چند سال، گھوڑے اور گدھے چند دھائیں، انسان، چمپینزی اور ہاتھی 6 سے دس دھائیاں۔ ہر جاندار کی جنسی بلوغت(Sexual Maturity) کی ایک عمر ہوتی ہے، اور یہ عمر ہی دراصل ارتقائی پہلو سے جانداروں میں تبدیلی کا دورانیہ ہے، انسان 14 سے 18 سال کی عمر میں جنسی بلوغت کو جا پہنچتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اولاد پیدا کرتا ہے، یعنی انسان میں ایک نسل سے دوسری نسل کے آگے بڑھنے کا کم از کم اوسط دورانیہ 16 سال ہے۔ مگر بین النواعی ارتقاء (Interspecies Evolution) کو رونماء ہونے کے لئے لاکھوں نسلوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اور اس حساب سے واضع انسانی ارتقاء کو 16 لاکھ سال کا عرصہ درکار ہے۔ فاسل ریکارڈ سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ 16 سے 25 لاکھ سال کے دوران ہی انسان کا ارتقاء ہوا اور پہلے انسان زمین پر رونماء ہوئے۔

مگر ارتقائی اصول کہتا ہے کہ کوئی بھی جاندار اپنے والدین سے یکسر طور پر مختلف نہیں ہو سکتا۔ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک بندر نما جاندار سے ایک ہی نسل میں انسان پیدا ہو جائے۔ اگر زمین پر زندگی کی شروعات سے لے کر انسان اور آج کے موجودہ جانداروں کے ارتقاء کو دیکھا جائے تو کہیں بھی کوئی ایسا نقطہ نہیں آتا جہاں آپ کہہ سکیں کہ نئی نوع کا جاندار پیدا ہوا ہے۔ بلکہ جد عظیم(Ancient Ancestor) اور موجودہ جاندار ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، باپ بیٹے سے یا ماں بیٹی سے ملتی جلتی ہی ہوتی ہے، مگر ایک لاکھ سال پہلے پایا جانے والا پردادا(Ancestor) یا جد امجد اپنے ایک لاکھ سال بعد پائے جانے والے پڑپوتے سے قدرے مختلف ہوتا ہے، اور یہی فرق 10 یا 20 لاکھ سال میں مکمل طور پر مختلف جاندار کو جنم دے دیتا ہے۔

اس لئے اگر کوئی بھی یہ کہے کہ پچھلے 10000 سال یا پچھلے 2000 سال کے دوران انسان تو یکساں ہی رہے ہیں، تو جناب من پچھلے 10000 سال میں انسان کی زیادہ سے زیادہ 625 نسلیں گزری ہیں۔ اسی طرح 2000 سال میں صرف اور صرف 125 نسلیں۔ اگر ان اعداد و شمار کے مطابق دیکھا جائے تو سالوں میں بیان کئے جانے والے طویل دورانیے نسلوں کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔ انسانی کی اوسط جنسی بلوغت کی عمر کے مطابق ایک لاکھ سال میں کم و بیش 6250 نسلین گزرنے کا امکان ہے۔ اس لئے انسان کی اوسط بلوغتی عمر کے لحاظ سے ایک لاکھ سال بھی انسانی ارتقاء کے براہ راست مشاہدے کے لئے شائد کافی نہ ہوں۔

دوسری جانب بہت سے ایسے جاندار بھی ہیں جو چند دنوں ہی میں جنسی بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان جانداروں میں ارتقائی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے قدرے کم عرصہ درکار ہو گا۔ مگر یہاں یہ بات یاد رکھیئے کہ ارتقاء کا دارومدار صرف نسلوں اور وقت کے دورانئے کے تناسب ہی میں نہیں، بلکہ اس کے لئے ماحول کی تبدیلی بھی لازمی ہے، اور آج پائے جانے والے جاندار آج کے ماحول کے عین موزوں ہیں، اس لئے ان میں فی الوقت خاطر خواہ تبدیلی تب تک نہیں آئے گی جب تک حالات ان کے لئے غیر موزوں نہ ہو جائیں۔

جنسی بلوغت، نسلی افزائش اور وقتی دورانیے کے مطابقت جانداروں میں ایک اور معاملہ بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ معاملہ جینیاتی کزنز(Genetic Cousins) کا ہے۔ جس جاندار کی جنسی بلوغت کا دورانیہ جتنا زیادہ ہوتا ہے اس کے ارتقائی کزن اسی قدر کمیاب ہوتے ہیں۔ انسان اور ہاتھی اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ہاتھیوں اور انسانوں کا جنسی بلوغت کا دورانیہ کافی زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اوسط عمر بھی انتہائی زیادہ ہے، اسی باعث ان جانداروں کے جینیاتی کزن انتہائی کم ہیں۔ انسان کے معاملے میں ان کی تعداد صفر ہے۔ ہمارا آخری جینیاتی کزن نیانڈراٹال 20000 سال پہلے معدوم ہو چکا ہے۔ اسی دورانیئے میں ہاتھی کا کزن میمتھ بھی ناپید ہو چکا ہے۔ دوسری جانب کثرت سے افزائش کرنے ولے کیڑے مکوڑوں کے ہزاروں کی تعداد میں جینیاتی کزن دنیا میں پائے جاتے ہیں، کسی بھی کیڑے مکوڑے کو دیکھ لیں اس کے جینیاتی کزنز کی تعداد ہزراوں اور لاکھوں میں ہے۔

پیدائش، تولید اور موت کا دورانیہ ایک جاندار کی ارتقائی رفتار میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جس جاندار میں یہ دورانیہ زیادہ ہوتا ہے وہ اسی قدر سستی سے ارتقائی سیڑھیاں چڑھتا ہے، جس میں کم ہوتا ہے وہ تیز رفتاری سے ارتقائی سیڑھیاں چڑھتا ہے۔

ارتقاء کے براہ راست مشاہدے کے لئے لاکھوں سال کا وقت درکار ہے، اور ارتقاء کے ناقدین عام عوام کی قم فہمی اور لاعلمی کے باعث مشاہدتی ثبوتوں یعنی، فاسل، ڈی این اے ریکارڈ، جانداروں کے درمیاں جسمانی مماثلت کو رد کرتے ہوئے براہ راست شواہد کی مانگ کرتے ہیں۔ مگر قدرتی، منطقی اور سائنسی طور پر خوردبینی حیات کے علاوہ کسی بھی جاندار میں ارتقاء کا مشاہدہ لاکھوں سال سے پہلے ممکن نہیں۔ اور ہماری کل رقم شدہ انسانی تاریخ صرف 5000 سال پر مشتمل ہے۔

غالب کمال